مجھے منزلوں سے نہیں راستوں سے پیار ہے- ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

وزیراعظم عمران خان کو چاہئے تھا کہ امریکہ میں اسیر پاکستانی دانشور خاتون ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ کو بھی اپنے وفد میں شامل کر کے امریکہ ساتھ لے جاتے اور واپسی پر دونوں بہنوں کو ساتھ لے کے پاکستان آتے۔ اُن کے وفد میں کون آدمی ڈاکٹر فوزیہ سے زیادہ اہم ہے۔ اُس نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کو ایک عالمی تحریک بنا رہا ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ہر وقت وزیراعظم کو چمٹے رہتے ہیں اور سرگوشیاں کرتے رہتے ہیں ۔ ہم قریشی صاحب کو جانتے ہیں برادرم توفیق بٹ کے ساتھ اُن سے کئی بار ملاقات ہوئی ہے۔ ہم ان کے والد سجاد قریشی کو بھی جانتے ہیں جب وہ گورنر پنجاب ہوتے تھے۔ انہیں جو بھی اپنے کام کے سلسلے میں ملتا تو وہ دعا کرتے اور کہتے اللہ کریسی تیرا کم تھی ویسی (’’اللہ کرے گا تیرا کام ہو جائے گا)‘‘ تو لوگوں نے مشہور کر دیا کہ پہلے ہمیں بیوروکریسی کے سپرد کر دیا تھا۔ اب اللہ کریسی کے سپرد کر رہاہے۔ افسروں کی بیوروکریسی پیروں فقیروں کی وتہ کریسی۔ اللہ ہی رحم کرے۔

ہم بھی کئی بار ’’حکمرانوں‘‘ کے بیرونی دوروں میں ساتھ تھے۔ یہ بڑی محنت اور ذلت کا کام ہے۔ ممتاز دانشور اور سینئر صحافی سعید آسی کے سفر نامے پڑھ کر اچھا لگا مگر ان سے ہمدردی بھی ہوئی۔ سفر نامے کا نام ہے۔ ’’کس کی لگن میں پھرتے ہو‘‘ پھرنے پھرانے کی اس لگن کو کتاب میں آسی بھائی نے دائمی کر دیا ہے۔ یہ دلچسپ سفر نامہ ہے۔ آپ پڑھیے جو بات میں نے کی ہے۔ اس کی تصدیق کے لئے پڑھئے۔ ایک مضمون اس کتاب میں ہے۔ جس کا نام ’’باگڑ بلہ‘‘ ہے۔ اس کے بعد آپ عام پلوں سے بھی ڈرنے لگ جائیں گے۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں ہم پڑھتے تھے اور نیو ہوسٹل میں رہتے تھے۔ یہاں والد صاحب نے داخل کرایا تھا جو خود میٹرک پاس تھے اور انہوں نے کسی کالج میں کبھی وزٹ نہ کیا تھا۔ یہاں داتا دربا بالکل پاس ہے۔ نیو ہوسٹل سے ہم تقریباً روزانہ حاضری دیتے۔ تھوڑے فاصلے پر ادبی رسالے تخلیق کا دفتر تھا۔ وہاں برادرم اظہر جاوید ہر وقت ہوتا تھا۔ یہاں اپنے دوستوں اور مہمانوں کے لئے خود اظہر جاوید چائے بناتا تھا اور محفل لگا کے خوش ہوتا تھا۔ میں نے اُسے کبھی اداس نہ دیکھا۔

وہ ہر وقت ہنستا کھلکھلاتا رہتا۔ ہم بہت جونیئر تھے مگر کبھی اس نے یہ احساس نہ ہونے دیا۔ ایک سی گرمجوشی سب کے لئے اس کے پاس ہر وقت ہوتی تھی۔ اب وہی کیفیت اس کے بیٹے اور ہمارے دوست عدنان اظہر جاوید کے دل میں ہے۔ اب یہ روایت ختم ہوتی جاتی ہے۔ ہم عدنان کے شکر گزار ہیں کہ وہ اپنے والد کے دوستوں کے لئے وہی طرز احساس رکھتا ہے۔ مزے کی بات ہے کہ ہم اس کے دوست ہیں اور اس کے والد کے بھی دوست ہیں۔ ہم اس کے گھر بھی گئے۔ غالباً کیولری گرائونڈ میں، یہاں چائے عدنان نے نہ بنائی۔ ہماری بھابھی بہن نے بنائی ہو گی۔ ذائقے اور مزے میں کوئی خاص فرق نہ تھا۔ یہاں بیٹا حذیفہ عدنان بھی نظر نہ آیا، جبکہ ایئر فورس آفسرز ہائوسنگ سوسائٹی کلب (اے ایف او ایچ ایس) میں انتظامات حذیفہ کے پاس تھے۔ ہمیں گاڑی تک لینے کے لئے بھی وہی آیا۔ ہم بھول گئے تھے کہ ہم نے کہاں جانا ہے۔

ایوب خاور حسن عسکری کاظمی شجاعت ہاشمی کے علاوہ فیصل پاشا ڈاکٹر قیصر رفیق چوہدری وقاص یہاں موجود تھے۔

اچھی بات یہ ہے کہ کھانے کی اس دعوت میں کم لوگ تھے بلکہ بہت ہی کم لوگ تھے اور خاتون ایک بھی نہ تھی۔ البتہ خدمت کرنے والے معزز ملازمین میں ایک خاتون بھی تھی۔ ہمارا دل چاہا کہ انہیں درخواست کریں کہ ہمارے ساتھ کھانے میں شریک ہوں مگر میزبان عدنان صاحب تھے۔ ہوٹل کے مالک قیصر رفیق بھی موجود تھے اور دل و جان سے زیادہ عزیز برادرم شجاعت ہاشمی کرسی صدارت پر براجمان تھے۔ ہم کسی حیثیت میں نہ تھے کہ معاملات اپنے ہاتھ میں لیتے۔ کہیں دعوت عداوت نہ بن جائے۔ ادیبوں‘ شاعروں کے درمیان شجاعت تنہا آرٹسٹ تھے۔ انہیں اس کا احساس بھی تھا۔ میں نے ان سے کہا کہ آرٹسٹ بھی ادیب شاعر ہوتا ہے۔ آجکل تو ادیب شاعر بھی خود کو آرٹسٹ سمجھنے لگے ہیں۔ شجاعت آرٹسٹ کے علاوہ دانشور بھی ہے۔ وہ ایم اے انگریزی ادب ہے۔

’’بازگشت‘‘ کے نام سے ایک انوکھی کتاب مجھے ملی جو بہت سینئر صحافی‘ دانشور اور صاحب زمانہ آدمی جمیل اطہر قاضی نے لکھی ہے بلکہ مرتب کی ہے۔ وہ ساری باتیں جو خود ان کے بارے میں کہی گئی ہیں‘ پڑھنے والوں کے سپرد کر دی گئیں۔ اس کتاب میں ان کی دوسری کتابوں کا ذکر بھی ہے جو قابل ذکر کی انتہا کو پہنچ گیا ہے۔ کتاب کے سرورق پر ہی قاضی صاحب کی ایک کتاب کا ٹائٹل بھی موجود ہے جو اس کتاب کی پذیرائی اور پسندیدگی ایک ایسا ثبوت ہے کہ جو بہت منفرد ہے۔

میری بدقسمتی ہے کہ ان سے زیادہ ملاقات نہیں رہی۔ ان کے اخبارات بھی کم کم پڑھے ہیں۔ دو چار دفعہ برادرم شاہد رشید کے پاس نظریۂ پاکستان ٹرسٹ میں ان کے ساتھ سرسری گفتگو ہوئی جوکسی گمشدہ آرزو اور بھٹکی ہوئی جستجو کے ساتھ جڑی ہوئی تھی۔

’’بازگشت‘‘ میری ایک کتاب کا نام بھی ہے جو میانوالی کے شاعروں کی سرگذشت ہے۔ تلوک چند محروم سے لے کر مظہر نیازی تک سب شاعروں کا احوال لکھا گیا ہے۔ افسوس ہے کہ ہم نے یہ کتاب قاضی صاحب کی خدمت میں کیوں نہ پیش کی۔ ان کی بھی یہ پہلی کتاب بازگشت مجھے ملی ہے۔ قاضی صاحب کی کتاب ایک عہد کی سرگذشت پر ’’ممتاز دانشوروںاور صحافیوں کی آرا پر مبنی خیال افروز تحریریں‘‘ ان کی تعداد 81 ہے۔ وہ تھوڑی سی محنت اور کر لیتے تو سنچری مکمل ہو سکتی تھی۔ ہردلعزیز آدمی پر لکھنے والے بے شمار۔ یہ ان کیلئے دوستوں کی محبت ہے جسے انہوں نے اکٹھا کیا اور لوگوں کے سامنے رکھ دیا۔ محبتوں کو سمیٹنے کے ساتھ محبتوں کو بکھیرنے کا نام بھی بہت بڑا کام ہے۔ بڑی نیکی کا کام ہے۔ بڑی بھلائی کا کام ہے۔ قاضی صاحب بھلے آدمی ہیں۔ بھلے آدمی بھولے سے لکھنے پڑھنے کے راستوں پر آتے ہیں۔ مجھے تو ذاتی طورپر منزلوں سے نہیں‘ راستوں سے پیار ہے۔ مجھے اپنے سارے لوگ راستوں میں ملے ہیں۔