امریکہ اور ایران کی ایٹمی کشیدگی- نذیر ناجی

ایران 1958ء میں آئی اے ای اے (انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی) کا رکن بنا۔ 1968ء میں اس نے جوہری ہتھیاروں کی پیداوار اور پھیلاؤ پر پابندی کے معاہدے این پی ٹی پر دستخط کیے۔ حالیہ برسوں میں جوہری شعبے میں ایران کی ترقی و پیش رفت اہم کامیابیوں کے ہمراہ رہی۔غیر ملکی ادارے کے مطابق‘ اس وقت ایران 30 سے زائد ریڈیو دواؤں کی پیداوار کے ساتھ جوہری اور طبی تحقیقاتی مراکز میں 90 سے 95 فی صد تک دوائیں بنا رہا ہے۔ ایران کی ایک اور کامیابی تہران کے طبی تحقیقاتی ری ایکٹر کے ایندھن کی فراہمی کے لیے یورینیم کو 20 فیصد تک افزودہ بنانا ہے۔تہران کا یہ ایٹمی ری ایکٹر کینسر کی بیماری میں مبتلا بیماروں کے لیے دوائیں تیار کرنے میں سرگرم عمل دکھائی دیا‘ان دوائیوں کے لیے 20 فیصد افزردہ یورینیم کے ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے ۔

جو دو سال قبل بیرون ملک سے درآمد کیا جاتا تھا‘ مغرب نے ایران کے خلاف پابندیوں اور ایران میں یورینیم کی افزودگی کی مخالفت کے بہانے 20 فیصد افزودہ یورینیم کا ایندھن دینے سے انکار کر دیا ‘جس کے بعد ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے نے ایندھن کی اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اپنے ایٹمی ری ایکٹر میں جوہری ایندھن کی ری سائیکلنگ کے منصوبے پر عمل کرتے ہوئے ساری سرگرمیاں ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی کی نگرانی میں جاری کردیں۔یوں اسے یورینیم کی 20 فیصد افزودگی کے عمل میں کامیابی حاصل ہوئی۔جوہری شعبے میں ایران کی بڑی کامیابی فیوز‘ یعنی پگھلانے والی مشین تیار کرنا ہے۔اس وقت ایران ایسی ٹیکنالوجی رکھنے والے دنیا کے پانچ ممالک میں شامل ہے۔

دنیا بھرکی نظریں ایران ‘ امریکہ کے تعلقات اور ان دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر جمی ہوئی ہیں۔ امریکہ ایران کے خلاف اپنے متشدد رویے کو غیر معمولی طور پر بڑھاتا ہوا دکھائی دیا‘بہت سے سوالات کئی ذہنوں میں زیر گردش ہیں‘ کیا دونوں ممالک کے درمیان جنگ ہونے جارہی ہے؟اور امریکہ کو اس جنگ سے کیا حاصل ہوگا؟ امریکہ ایران کے ساتھ کشیدگی کودن بدن بڑھاوا دیے جا رہاہے‘ جس میں ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد جنونی اضافہ دیکھا گیا۔ٹرمپ کوشش میں ہے کہ ایران کے ساتھ طے پایا جانے والاجوہری معاہدہ کسی بھی طرح ختم ہو‘ اس غرض سے یورپ کو بھی اکسایا جارہاہے۔یورپی ممالک امریکہ کے اتحادی ہونے کے باوجود‘جوہری معاہدے کے خاتمے کے قائل نہیں ‘ان ممالک کی کوشش بھی ہے کہ وہ ٹرمپ کو سمجھا سکیں کہ اس معاہدے کے خاتمے سے خطرناک نتائج مرتب ہوں گے‘ جس کے اثرات خود یورپی ممالک پر بھی پڑ سکتے ہیں۔متعدد ممالک ایسے بھی ہیں‘ جن کے ایران کے ساتھ اقتصادی و تجارتی تعلقات ہیں ‘جن میں جرمنی سر فہرست ہے۔

2015 ء میں جوہری معاہدہ سے امریکہ کے یک طرفہ الگ ہوجانے کے بعد ایران اور امریکہ میں تازہ کشیدگی کی لہر اٹھی۔ پوری دنیا نے ایران کے ساتھ مشترکہ جامع حکمت عملی (جے سی پی او اے) کی صورت انتظام کیا۔ یورپ نے اس میں اہم کردار ادا کیا ‘اس وقت حیران کن امر یہ ہے کہ جوہری خلاف ورزیوں کی پڑتال کرنے والے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کے پاس بھی کوئی الزام نہیں کہ ایران نے کوئی خلاف ورزی کی ہے‘ جن سے معاہدہ ہوا‘ وہ بھی کہتے ہیں کہ ایران نے اب تک طے شدہ نکات اور شرائط کی مکمل پاسداری کی ہے‘ کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی‘ پھر امریکہ کو اس پر اعتراض کیا ہے؟کسی بھی اصول‘ منطق‘ عالمی قانون یا قاعدے کی خلاف ورزی بھی نہیں ہوئی‘ یعنی کوئی شکایت بھی نہیں‘ پھر امریکہ کیوں دھمکیاں دے رہا ہے؟ ایسے کئی سوالات ہر ذی شعور کے ذہنوں میں موجود ہیں۔
''ایرانی میزائل نے امریکی ڈوران مارگرایا‘‘ یہ خبر سن کر امریکی صدر کا شاہانہ مزاج برہم ہوا ۔

انہوں نے ایران کے خلاف جوابی کارروائی کا ارادہ باندھا‘ پھر اچانک یہ ارادہ موخر کردیا گیا‘جواز بنایا گیاکہ کارروائی کے نتیجے میں 150 ایرانی شہید ہوجائیں گے۔ افغانستان عراق فلسطین اور لیبیا میں لاکھوں افراد امریکہ نے خون میں نہلا دئیے ‘ یہ سلسلہ ابھی تک رکا نہیں‘لیکن ٹرمپ کو 150 ایرانیوں کی متوقع موت نے جنگ کا فیصلہ واپس لینے پر مجبور کردیا۔ اسرائیل اس تنازعے میںغیر جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خاموش ہے۔ اسرائیلی کی پراسرار خاموشی اپنے آپ میں ایک سوال ہے ۔اس واقعہ کے فوراً بعدایرانی وزارت ِدفاع نے لا علمی کا اظہار کیا‘مگر چند گھنٹے بعد پاسداران انقلاب کے کمانڈر میجرجنرل حسین سلامی کا بیان بھی سامنے آیا ‘جس میں انہوں نے کہا کہ امریکی ڈرون گراکرواضح پیغام دیاگیا ہے کہ ایران کی جغرافیائی سالمیت کی خلاف ورزی کرنے والے کو منہ توڑ جواب ملے گا۔ ایران کی سرحد کی جو بھی خلاف ورزی کرے گا‘ اسے ٹھوس‘ فیصلہ کن ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سرحد ہماری سرخ لکیر ہے‘ کوئی دشمن جو اس لکیر کو عبور کرے گا‘ واپس نہیں جائے گا۔

گزشتہ روز صورتحال بدلتی ہوئی دکھائی دی‘ جب برطانیہ کے وزیرخارجہ جیریمی ہنٹ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے خلیج فارس میں روکے جانے والے برطانوی آئل ٹینکر کو نہ چھوڑا تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔دی سٹینا امپیرو نامی اس آئل ٹینکر کو ایران نے قبضے میں لیے جانے کی خبریں گردش کرنے لگیں۔برطانوی حکومت کی اعلیٰ سطحی ایمرجنسی کمیٹی کوبرا کے اس حوالے سے جمعے کے روز دو مرتبہ اجلاس ہوئے۔دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دی سٹینا امپیرو نامی آئل ٹینکر کو قبضے میں لیا ہے‘تاکہ ان سے تفتیش کرسکیں‘کیونکہ ایرانی میڈیا کے مطابق؛ ایرانی پاسدران انقلاب کو غیر معمولی نقل و حرکت سے کئی مسائل درپیش تھے۔
موجودہ حالات میں ایسے اقدامات یورپ اور ایران کے تعلقات پر کیا اثر ڈالتے ہیں؟ کچھ کہنا قبل از وقت ہے‘تاہم ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی رکتے ہوئے نظر نہیں آرہی ہے۔