اپنی آنکھیں کھولیں! عطا ء الحق قاسمی

مجھے ’’ثنا خوان تقدیس مشرق‘‘ پر ترس آتا ہے۔ یہ لوگ بسم اللہ کے گنبد میں رہ رہے ہیں، انہیں علم ہی نہیں کہ ان کے ارد گرد کیا ہو رہا ہے۔ ان کے گھروں میں کیا کھچڑی پک رہی ہے جس طرح حکومتیں ’’سب اچھا‘‘ کہہ کر خود کو تسلی دیتی رہتی ہیں اسی طرح یہ بھی پوری طرح مطمئن ہیں کہ انہوں نے اپنے حلقہ اثر میں سب کچھ اپنے تصورات کے مطابق ڈھال لیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ وہ سب لوگ اسلام کے صحیح پیروکار بن گئے ہیں اور مشرقی اقدار میں ڈھل گئے ہیں، سوٹ کے بجائے شلوار قمیص پہن رہے ہیں، سر پر ٹوپی رکھتے ہیں، چہرے پر خوبصورت داڑھی بھی سجا لی ہے یا لڑکیاں ننگے سر پھرنے کے بجائے حجاب لینے لگی ہیں، یہ بہت بھولے لوگ ہیں بالکل بےخبر ہیں کہ بہت سی صورتوں میں حجاب، چادر اور برقع کی ’’حفاظتی تدبیر‘‘ کام نہیں آتی۔ صورتحال یہ بھی ہے کہ شراب پینے والے کھلے عام شراب پیتے ہیں، اس ’’خانہ خراب‘‘ کی رسد میں کوئی کمی نہیں آئی۔

کراچی میں تو شراب کھلے عام فروخت بھی ہوتی ہے اور لاہور میں فائیو اسٹار ہوٹلوں اور کلبوں میں آپ پوری سہولت سے اپنا یہ شوق پورا کر سکتے ہیں حتیٰ کہ پی آئی اے کی فرسٹ کلاس میں آپ پورے سکون سے اپنی بوتل کھولیں، ایئر ہوسٹس سے برف منگوائیں اور منزل مقصود تک یہ شوق جاری رکھیں۔ بازارِ حسن بند نہیں ہوا، پھیل گیا ہے۔ چوری، ڈکیتی، ملاوٹ، رشوت، ذخیرہ اندوزی، اسمگلنگ، فراڈ اور لوگوں کی جائیدادوں پر قبضوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ میرے معصوم اور بھولے بھالے ’’ثنا خوان تقدیس مشرق‘‘ کو علم ہی نہیں کہ جرائم پیشہ لوگ بہروپئے بھی ہوتے ہیں وہ اپنی وارداتیں ایسے بھیس میں کرتے ہیں کہ ان پر شبہ تک نہ ہو۔

بہت کچھ بدل گیا ہے لیکن ہم یہ تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں، میں جو یہ سب کچھ لکھ رہا ہوں اکثر خود کو تسلی دیتا رہتا ہوں کہ ایسا نہیں ہے لیکن جب کھلی آنکھوں سے یہ سب کچھ دیکھتا ہوں تو دل میں ایک ٹیس سی اٹھتی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اپنی آنکھیں بند کر لوں تاکہ مجھے یہ ڈراؤنا خواب نظر آنا بند ہو جائے! لیکن آنکھیں بند کرنے سے منظر تو نہیں بدل جاتا، سو یہ ایک گھناؤنی اور ڈراؤنی سی صورتحال ہے مگر یہ اتنی سادہ نہیں جتنی مجھے اور آپ کو محسوس ہوتی ہے بلکہ یہ بہت پیچیدہ ہے اور اس کے عوامل تہہ در تہہ ہیں، معاشرہ حرص و ہوس کی اتھاہ گہرائیوں میں گر چکا ہے، مہنگائی اور صرف مہنگائی نہیں بے انت خواہشات ساری قدروں کو پاؤں تلے کچلتی چلی جا رہی ہیں۔ مذہب سے بے بہرہ طبقہ کے افراد اگر ذاتی اور اجتماعی گناہوں میں غرق نظر آئیں جو کہ نظر آتے ہیں مگر دکھ اس وقت زیادہ ہوتا ہے جب اس طبقے کی بے عملی سامنے آتی ہے جسے بظاہر ہدایت مل چکی ہے اور یہ بات کہتے ہوئے دل غم و اندوہ سے بھر جاتا ہے کہ اب ضمیر فروشی ان گھروں پر بھی دستک دے رہی ہے جن کے مکینوں کے شجرہ ہائے نسب میں اس سے بڑا کوئی اور گناہ نہیں تھا۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے دل کو شدید دھچکا لگتا ہے اور یوں اسے تسلیم کرنے کو جی نہیں چاہتا لیکن تلخ حقیقتیں ہماری خواہشات کی پابند نہیں ہوتیں۔

آپ اپنے چاروں طرف نظر دوڑا کر دیکھیں آپ کو ایسے کتنے لوگ نظر آئیں گے جن کے قول اور فعل اور جن کے ظاہر اور باطن میں کوئی تضاد نہ ہو۔ یقیناً ایسے بہت سے لوگ ہمیں دکھائی دیں گے لیکن یہ لوگ روز بروز اقلیت میں تبدیل ہوتے جا رہے ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ اگر اجتماعی گناہوں اور جرائم کی روک تھام میں سنجیدہ ہے تو معیشت کو بہتر بنانے کے علاوہ ان عوامل پر بھی قابو پانے کی کوشش کرے جو حرص و ہوس کی آگ کو تیز کرتے ہیں، اسی طرح ہمارے علمائے کرام اور صرف علمائے کرام نہیں بلکہ ہمارے درمیان موجود وہ نیک اور پارسا لوگ جو سچ مچ پابندِ شریعت اور روحانی اقدار اور مشرقی اقدار کے پاسدار ہیں ان ریاکاروں کے خلاف ایک مہم چلائیں جو اسلام اور پاکستان کے دشمن ہیں۔ انہیں بتایا جائے کہ این آر او صرف سیاست میں ہو سکتا ہے مذہب میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنا وہ وعدہ ضرور پورا کرے گا جس کے مطابق وہ ظلم اور بدکاری کی بنیاد پر قائم بستیوں کو نیست و نابود کر دیا کرتا ہے اور پھر اس کی زد میں وہ لوگ بھی آتے ہیں جو یہ سب تماشا خاموشی سے دیکھنے کے عادی ہو چکے ہوتے ہیں۔

اور اب آخر میں حضرت آغا شورش کی ایک سدا بہار نظم:

کچھ ایرے ہیں، کچھ غیرے ہیں

کچھ نتھو ہیں، کچھ خیرے ہیں

کچھ جھوٹے ہیں، کچھ سچے ہیں

کچھ بڈھے ہیں، کچھ بچے ہیں

کچھ ململ ہیں، کچھ لٹھے ہیں

کچھ چیمے ہیں، کچھ چٹھے ہیں

کچھ تلیر اور بٹیرے ہیں

کچھ ڈاکو اور لیٹرے ہیں

کچھ روٹی توڑ مچھندر ہیں

کچھ دارا، کچھ سکندر ہیں

کچھ اپنی بات کے پکے ہیں

کچھ جیب تراش اُچکے ہیں

کچھ ان میں ہر فن مولا ہیں

کچھ رولا ہیں، کچھ غولا ہیں

کچھ تاک دھنا دھن تاکے ہیں

کچھ الٹے سیدھے خاکے ہیں

کچھ ان میں رنگ رنگیلے ہیں

کچھ خاصے چھیل چھبیلے ہیں

کچھ چورا چوری کرتے ہیں

کچھ سینہ زوری کرتے ہیں

ہر چند یہ بڑے ہشیار ہیں

شہ زور ہیں یہ، سردار ہیں

اب قوم کی خاطر مرتے ہیں

اسلام کا بھی دم بھرتے ہیں