عمران خان کی امریکی یاترا، ڈومور یا تعلقات کا نیا آغاز - جابر وقاص

وزیراعظم پاکستان عمران خان کے امریکہ کے دورے کے حوالے سے مختلف آراء سامنے آرہی ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس میں دورہ عسکری قیادت کا زیادہ رول ہے اور خان صاحب ایک جزو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کا سلسلہ بھی اسی تناظر میں جاری ہے۔

خان صاحب امریکہ پہنچے تو پہلے تو شاہ محمود قریشی صاحب کی طرف سے استقبال کیا گیا، کیونکہ وہ سٹیٹ گیسٹ نہیں ہیں۔ اور پاکستانی سفارتخانہ میں قیام کر رہے ہیں۔ استقبال کے لیے تحریک انصاف کے لوگ بھی اکھٹے ہوئے مگر وہیں کچھ ن لیگی بھی پہنچے اور گو عمران گو کا نعرہ لگا۔ کچھ لوگ ہمیشہ کی طرح توقعات مفروضات کا جال بنتے ہیں جیسے کہ عافیہ صدیقی کو رہا کردیا جائے گا ڈاکٹر شکیل آفریدی کے بدلے میں اور بھی بہت کچھ کہا جا رہا ہے۔ سفارتی امور کے ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ ایسی میٹنگز میں اصل بات بہت کم باہر نکلتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں باہمی رضا مندی تو ہوتی ہے مگر عوام کے لیے مثبت پہلو کم ہی ہوتا ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے تنقید کا سلسلہ شروع ہے۔ خاص کر عسکری قیادت کے ہمراہ ہونے پر، حالانکہ افغانستان کی موجودہ صورت حال پر سب زیادہ ضرورت امریکہ کو عسکری قیادت کے تعاون کی ہی ہے کہ وہ متحارب افغان دھڑوں سے معاملات فائنل کریں۔ دوسری طرف بھارت کے کچھ ماہرین یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف لڑنے کے لیے جدید اسلحہ کی ڈیمانڈ کر سکتا ہے جس کا ان کو ڈر ہے کہ ابھینندن کے واقعے کی طرح پھر یہ اسلحہ ان کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے۔

بہرحال آرمی چیف جنرل باجوہ ہمراہ ہیں۔ ڈی جی آئی ایس آئی ڈی جی آئی ایس پی آر شاہ محمود قریشی، حفیظ شیخ اور رزاق داؤد سب ساتھ ہیں۔ دورہ ارینج کیسے ہوا ہے؟ اس بارے میں کہا جا رہا ہے کہ سعودیہ میں پاکستانی سفیر "شہزادہ محمد بن سلمان" نے کپتان سے متاثر ہونے کے بعد اس کی خواہش پر امریکہ کے دورے کے لیے راہ ہموار کی، ٹرمپ کے داماد کو آن بورڈ لیا، جس کے بعد ٹرمپ نے کپتان کو خط لکھا۔ امریکی ری پبلکن سینیٹر جنوری میں پاکستان آئے اس وقت بھی اس دورے کے لیے اصرار کیا گیا۔ اس کے بعد ٹرمپ کے داماد کے دوست اور نیب میں بلائے گئے علی جہانگیر صدیقی کو گشتی سفیرلگایا گیا۔ تاہم یہ ایک سٹیٹ وزٹ نہیں ہے، اس لیے کسی اعلی امریکی عہدیدار نے استقبال نہیں کیا۔ امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کی دعوت پر دورہ کیا جا رہا ہے، اور ملنے کی خواہش کو قبول کرتے ہوئے وائٹ ہاوس نے ٹرمپ انتطامیہ کی مشاورت پر ملاقات کا اہتمام کیا ہے۔ اس سے پہلے وزیراعظم واشنگٹن کے معروف کیپیٹل ون ایرینا میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب اور پاکستان بزنس سمٹ میں شرکت بھی کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   علامہ نہ بنیں، ایکسٹینشن چلنے دیں - نیلم اسلم

لیکن قادیانی عبدالشکور کی ٹرمپ سے ملاقات اور نوازشریف کے قریبی ساتھی جو امریکہ پہنچے ہوئے ہیں، ہر اس دفتر جا جا کر ملاقاتیں کر رہے ہیں جہاں شاید کپتان نے بھی نہیں جانا۔ خیر سے امریکی ویلکم بھی کر رہے ہیں۔ یہ ساری صورتحال پریشر میں لینے کے لیے ہی بنائی جا رہی ہے۔ جب آپ کی معشیت ہچکولے لے رہی ہو اور آپ سی پیک پر کام بھی آئی ایم ایف کی وجہ سے بہت سلو کر چکے ہوں تو توقعات پھر امریکہ سے لگائی جاتی ہیں۔ لیکن امریکہ کے لیے سب سے اہم افغانستان سے نکلنا ہے۔ طالبان اشرف غنی کو منہ نہیں لگا رہے۔ اشرف غنی کی حکومت کھلری پڑی ہے، کوئی مستقبل نہیں، لیکن وہ افغان صدر تو ہیں۔ ان کے رابطے بھی ہیں تو جتنا لچ تلا جا سکتا وہ تل رہے ہیں۔ دوحہ مذاکرات، بھوربن کانفرنس کے بعد بہت زیادہ چانس بن چکا ہے کہ "امن معاہدہ " جلد یا بدیر ہو جائے گا۔ البتہ طالبان کی کابل اور دیگر شہروں میں کارروائیاں جاری ہیں۔ دورہ کیسے ہو رہا ہے؟ کیسے ارینج ہوا؟ سب اب بعد کے معاملات ہیں۔

اصل بات یہ کہ پاکستان اپنے لیے مانگنے کیا جا رہا ہے، حالانکہ مانگنے کے بجائے برابری کا سلوک ہونا زیادہ ضروری ہے۔ فارن آفس کے کچھ دوستوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان ٹرمپ سے اک فیور یہ بھی چاہتا ہے کہ ریکوڈک کے کھاتے میں بیرون ملک ہمارے اثاثوں کے حوالے سے کوئی رولنگ نہ آ جائے۔ اس حوالے سے سابق سیکرٹری خارجہ اور اقوام متحدہ میں سابق پاکستانی سفیر شمشاد احمد کے ساتھ ایک نشست یونیفائیڈ میڈیا کلب کے زیراہتمام ہوئی، جس میں ان کا یہ کہنا تھا کہ کسی دورے کے نتیجے میں کبھی بھی ایک ڈالر نہیں ملا نہ ہی کوئی خیر ملی ہے۔

عمران خان پہلے وزیراعظم ہیں جن کو منتخب ہونے کی مبارک دینے امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ خود چل کر آیا۔ یہ ایک گیور ہے پاکستان کے موجودہ منطرنامے میں۔ ایوب خان اور لیاقت علی خان جیسے دورے اب پاکستان کی قسمت میں نہیں ہیں۔ بدقسمتی سے پچھلے تیس سالوں میں ہمارے ساتھ صرف ڈومور کا سلوک ہوتا رہا ہے۔ اس کی وجہ سیاسی اور معاشی عدم استحکام ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   رحمۃ للعالمین کانفرنس میں شرکت - محمد ریاض علیمی

عمران خان کو سیکیورٹی امور پر عبور حاصل ہے۔ فوج اور حکومت کا ایک پیج پر ہونا ملک کے لیے بہترین ہے۔ آج عمران خان ایک مضبوط حکمران کے طور پر جا رہے ہیں۔ عمران خان جنوبی کوریا کے صدر کے بعد واحد حکمران ہیں جنھیں امریکی صدر نے گرمجوشی سے مدعو کیا ہے۔ پاکستان کا کردار افغانستان میں امن کے حوالے سے انتہائی اہم ہے۔ مشرق وسطی, افغانستان اور خود پاکستان کی صورتحال میں پاکستانی وزیر اعظم کا دورہ انتہائی اہم ہے۔ پاکستان کی کامیابی یہ ہوگی کہ پاکستان کو نیوکلیئر معاملات میں انڈیا کے برابر سلوک کیا جائے۔ ایف اے ٹی ایف اور دیگر معاملات ثانوی ہیں۔ معاشی امداد نہ ملنا پاکستان کے حق میں ہے. ٹریڈ، انوسمنٹ، اور برابری کی بنیاد پر تعلقات پاکستانی وزیر اعظم کے مطالبات ہونے چاہییں اور امید ہے کہ ہوں گے۔ امریکہ کی کشمیر پر پوزیشن پاکستان کے حق میں نہیں ہے۔

شمشاد صاحب کی یہ باتیں حقیقت کے قریب نطر آتی ہیں۔ مگر بات پھر ٹرمپ اور اس کی انتظامیہ پر ہی آ کر ٹھہرتی ہے کہ کیا واقعی ہی وہ پاکستان کو ان حالات میں ریسکیو کرنا چاہتے ہیں یا پھر ڈومور کا پیزا ہی بیچا جاتا ہے؟