خدا ظالموں کو دوست نہیں رکھتا! روف کلاسرا

لاہور کبھی کبھار آنا ہوتا ہے۔ اس دفعہ مرحوم کالم نگار اور صحافی رحمت علی رازی کا چالیسواں تھا اور تعزیت بھی کرنی تھی۔ ماڈل ٹائون ایکسٹینشن کے آر بلاک کی جامع مسجد میں داخل ہوئے تو میں نے رانا اشرف کو کہا: مجھے پڑھنے کے لیے ترجمے والا سپارہ ڈھونڈ دو۔ سپارہ نہ ملا تو وہ قرآن پاک لے کر آ گیا۔ پڑھتے پڑھتے ایک جگہ رک گیا ''خدا ظالموں کو دوست نہیں رکھتا‘‘۔ ایک لمحے کے لیے کانپ گیا کہ دن بھر ہم جانے انجانے کتنے لوگوں کے ساتھ ایسی حرکتیں کر جاتے ہوں گے جو ان کو ظلم لگتی ہوں گی‘ لیکن ہم اپنے اقتدار، طاقت ، غرور اور سماجی رتبے کے زعم میں ان حرکتوں کو ظلم سمجھتے ہی نہیں۔
اس آیت کو پڑھتے ہوئے مجھے کئی ایسے مظالم یاد آئے۔ ابھی فیس بک پر ڈیرہ غازی خان کے شاندار رپورٹر یعقوب بزدار کی وال پر پڑھا کہ کیسے ڈیرہ کی پولیس نے ایک گھر کی تین خواتین‘ جن میں ایک شیر خوار بچے کی ماں ہے ‘کو تھانے میں بند کر دیا ہے۔

ان پر کوئی پرچہ یا مقدمہ نہیں۔ دراصل ایک معاملے پر دو لوگوں کے درمیان کچھ جھگڑا ہوا‘ ایک نے تھانے پرچہ درج کرادیا۔ دوسرے نے جا کر ضمانت قبل از گرفتاری کرا لی‘ لیکن کچھ دن بعد ضمانت کینسل ہوئی تو وہ بھاگ گیا۔ پولیس سیدھی اس کے گھر گئی اور گھر کی تین خواتین کو لا کرتھانے بند کر دیا کہ جب تک بندہ واپس نہیں آتا وہ تھانے رہیں گی۔ میں نے یعقوب بزدار کو فون کیا کہ پوری تفصیل لوں۔ پتا چلا کہ زمین کا جھگڑا تھا۔ عبوری ضمانت کینسل ہونے پر پولیس اس ملزم کو ہائی کورٹ سے ہتھکڑیاں لگا کر ڈیرہ لارہی تھی۔ ورثا کے مطابق راستے میں پولیس نے پیسے لے کر اسے فرار کرا دیا۔ جب مدعی پارٹی نے شور ڈالا تو پولیس نے جاکر اس گھر کے مرد اور عورتیں اٹھا لیں اور کہا کہ جب تک وہ بندہ نہیں آئے گا وہ پولیس کے پاس رہیں گی۔ یعقوب بزدار نے ڈی پی او عاطف کو واٹس ایپ کیا کہ یہ کیا ظلم ہے؟ جواب ملا :انہیں کہیں‘ بہتر ہے ملزم واپس کرائیں۔ مجھے ڈیرہ غازی خان کے آر پی او عمر شیخ یاد آئے‘ اگر وہ ہوتے تو شاید اب تک ان پولیس والوں کو ہتھکڑیاں لگ چکی ہوتیں۔ عمر شیخ کی شکل میں پہلا پولیس افسر دیکھا تھا جو اس بات پر یقین رکھتا کہ اگر عام بندہ جرم پر پکڑا جاسکتا ہے اور اس پر مقدمہ ہوسکتا ہے‘ ہتھکڑیاں لگ سکتی ہیں تو پولیس والوں کو ان کے جرائم پر کیوں نہیں؟چند دن پہلے انہیں ڈیرہ کے ایک سردار کی فرمائش پر ہٹا دیا گیا ‘کیونکہ وہ ایک قتل دبانے کو تیار نہ تھے۔

جب یہ کالم لکھا جارہا ہے‘ وہ خواتین پولیس کے پاس ہیں‘ جنہیں عقوبت خانے میں رکھا گیاہے نہ کہ تھانے میں کہ کہیں بیلف نہ پڑ جائے۔ ویسے یاد دہانی کے لیے عرض ہے چیف جسٹس بھی ڈیرہ غازی خان سے ہیں اور چیف منسٹر پنجاب بھی۔
اس سے یاد آیا‘ جنرل مشرف کے دور میں ایک سٹوری میں نے اپنے انگریزی اخبار میں فائل کی تھی کہ میرپور آزاد کشمیر کی پولیس گجر خان سے چھ سات خواتین کو اٹھا کر لے گئی تھی اور وہ پندرہ دن سے تھانے میں قید تھیں۔ ان پر کوئی پرچہ نہیں تھا۔ میں خود اسلام آباد سے میرپور گیا اور تھانے میں چپکے سے ان خواتین سے ملا‘ جن کی حالت بہت بری تھی۔ کئی دنوں سے انہیں نہانے نہیں دیا گیا تھا ‘نہ ہی ان کے پاس متبادل کپڑے تھے۔ جس تھانے کے بند کمرے میں انہیں رکھا گیا تھا وہاں شدید بو تھی۔ پتہ چلا کہ گجر خان کے ایک لڑکے پر شک تھا کہ اس نے ایک بچے کو اغوا کرنے میں مدد کی تھی۔ بچہ ریکور ہوگیا تھا ‘اب ملزم پکڑنے تھے۔ پولیس اسے نہ پکڑ سکی تو اس کی ماں‘ بہنوں اور دیگر رشتہ دار خواتین کو اٹھا کر لے گئی اور ان پر تشدد ہورہاتھا کہ اسے سرنڈر کرائو۔ اس خاندان کا لڑکا اس اغواشدہ بچے کو یہ کہہ کر چند دن گھر لے آیا تھا کہ زلزلے میں اس کے ماں باپ مر گئے تھے۔ پورے گھر نے بچے کو پیار دیا اور پھر کچھ دن بعد وہ لے گیا کہ اس کے رشتہ دار مل گئے ہیں۔

انہیں علم نہ تھا کہ بچہ اغوا ہوا تھا۔ اب وہی خواتین تھانے میں بند تھیں اور ان کے فرشتوں کو بھی علم نہ تھا کہ کہانی کیا ہے۔ چھوٹی چھوٹی بہنیں پندرہ دن سے قید۔ ڈی ایس پی ان پر تشدد کررہا تھا۔ میں نے پولیس سے پوچھا تو انہوں نے کہا: ہمیں علم ہے وہ بے قصور ہیں‘ لیکن جب تک ان کا لڑکا سرنڈر نہیں کرے گا یہ تاوان کے طور پرتھانے میں قید رہیں گی۔ اغوا شدہ لڑکے کے باپ سے میں ملا تو اس نے کہا: وہ عورتیں بے قصور ہیں۔ میں نے کہا: تو آپ تھانے میں کیوں نہیں بتاتے؟ وہ بولے: تھانے والے نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ اور کوئی حل نہیں۔ میں نے آئی جی آزاد کشمیر کو فون کیا جو کبھی اپنی پروموشن نہ ہونے پر روزانہ اسلام آباد میں میرے سامنے اپنا رونا روتے تھے۔ ان کے ساتھ واقعی زیادتی ہورہی تھی۔ میرا خیال تھا وہ خود ناانصافی کا شکار رہے ‘لہٰذا احساس کریں گے۔ وہ آئی جی بولا: رئوف صاحب کن چکروں میں پڑ گئے ہو۔ خواتین کو اٹھائیں گے تو ملزم ملے گا۔ مجھے زندگی میں پہلی دفعہ احساس ہوا کہ ایک غلط پولیس افسر کی حمایت کی تھی۔ اس کی واقعی پروموشن نہیں ہونی چاہیے تھی۔ ان لوگوں کو ظلم یا زیادتی وہی لگتی ہے جو ان کے ساتھ ہو‘ باقیوں کے ساتھ سب جائز ہے۔ وہ ایک لمبی کہانی ہے کہ وہ خواتین پولیس کے عقوبت خانے سے کیسے رہا ہوئیں۔
ایک حالیہ ظلم بھی سن لیں۔ سب نے سن اور پڑھ رکھا ہے کہ شہباز شریف کے داماد علی عمران نے کیسے ایرا کے ایک آڈٹ اور اکائونٹس افسر کے ساتھ مل کر کروڑوں روپے بنائے ۔ اس افسر کو اسلام آباد سے 2013 ء میں لاہور پنجاب پاور پروجیکٹ میں لایا گیا اور اس نے جعلی دستاویزات پر کاروبار شو کر کے علی عمران‘ جو گوالمنڈی میں معمولی دکان چلاتا تھا لیکن قسمت اچھی تھی شہباز شریف صاحب کا داماد بن گیا‘ کو یہ دولت کمانے میں مدد کی۔ آڈٹ افسر کا بھی بادشاہ بابر جیسا ذہن تھا کہ یہ دنیا دوبارہ نہیں ملنی لہٰذا ڈٹ کر عیاشی کرو۔ اس نے اپنے تئیں یہ سوچا کہ وہ اپنے دو لڑکوں اور بیوی کو اچھی قسمت دے رہا ہے۔

اس نے ایک ارب سے زائد کی جائیدادیں ان پروجیکٹس کے پیسوں سے بنانا شروع کیں۔ اپنے دو لڑکوں اور بیوی کے نام پر خریدتا چلا گیا۔ اسے پتہ تھا کہ اس کی بیک پر شہباز شریف کے داماد کا ہاتھ ہے اور تاحیات رہے گا۔ آخر باتیں کھلنے لگیں تو اسے اینٹی کرپشن سے گرفتار کرا دیا گیا۔ ایک دن عدالت میں اس کے وکیل نے کہہ دیا کہ جن رقومات کی ادائیگی علی عمران کو کی گئی وہ اینٹی کرپشن کے علم میں تھیں‘ وہ اکیلا نہیں تھا۔ عدالت سے واپسی پر لاہور سی آئی اے کے ایک بدنام زمانہ ایس پی کے حوالے اس افسر کو کیا گیا۔ اس نے پوری رات اس پر بدترین تشدد کیا کہ تمہیں شہباز شریف کے داماد کا نام لینے کی جرأت کیسے ہوئی۔ اس ظالم رینکر ایس پی نے اس پر بس نہ کی‘ کیونکہ اسے شولڈر پروموشن شہباز شریف نے دی تھی‘کام پکا کرنے کیلئے اس افسر کی بیوی کو رات کوپولیس بھیج کر گھر سے اٹھوایا گیا اور اس کے سامنے بتایا گیا کہ اب علی عمران کا نام عدالت میں لیا تو پھر باقی سوچ لو۔

پہلے ظلم اس آڈٹ افسر نے اپنی بیوی اور دو لڑکوں پر کیا ‘جن کے نام پر جائیدادیں بنائیں‘ جو اب سب نیب کو واپس کرائیں اور جس علی عمران کو مال کما کر دیا اس کے سسر کی پولیس نے اس پر بدترین تشدد کیا۔ اب اتنے تشدد اور نیب جیل کے بعد ایک ارب بھی واپس کر دیا ہے۔ کیا ملا اس افسر کو علی عمران کی جیبیں بھر کر؟ خود کو ذلیل کرایا، خاندان پر ظلم کرائے۔ جس نے اس افسر اور اس کی فیملی پر تشدد کرایا ان کا اپنا بیٹا سلمان بیوی بچوں سمیت لندن مفرور ہے۔ دوسرا حمزہ جیل میں ہے، بچیوں اور بیویوں کے نام پر چھبیس ملین ڈالرز کی منی لانڈرنگ کی ٹی ٹی نکل رہی ہیں، بڑا بھائی پہلے جیل میں ہے، بھتیجے حسن ‘حسین بھی مفرور ہیں۔بڑے بھائی کا سمدھی اسحاق ڈار بھی مفرور، بھتیجی ویڈیوز ٹیپ دکھاتی پھر رہی ہے، کہیں سے اس خاندان کوآ سرا نہیں مل رہا۔ صرف ایک سال پہلے تک وہ سیاہ و سفید کے مالک تھے‘ آج سب در بدر ہیں۔
شریف خاندان کی مسلسل پریس کانفرنس میں ''مظلومیت‘‘کی کہانیاں سن کر مجھے قرآن پاک کی یہی آیت یاد آئی اور میں کپکپا کر رہا گیا...اللہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا۔