وزیر اعظم ’’اِن‘‘ وائٹ ہاؤس- مجیب الرحمن شامی

وزیراعظم عمران خان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملنے امریکہ پہنچ چکے ہوں گے یا پہنچنے والے ہوں گے۔ شاہ محمود قریشی کے مطابق ان کی دو ملاقاتیں متوقع ہیں۔ ظہرانہ بھی وہ وائٹ ہائوس ہی میں تناول کریں گے۔ دونوں رہنمائوں کی ساخت اور انداز کو مد نظر رکھ کر مبصرین اندازے لگا رہے ہیں کہ... خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے ''دیوانے‘‘ دو... دونوں غیر روایتی لیڈر ہیں، اپنے اپنے سیاست دانوں اور اپنے اپنے میڈیا ہائوسوں سے بیزار۔ دونوں کے اقتدار میں آنے سے پہلے بھی ان میں مماثلتیں تلاش کی جا رہی تھیں، اور کامیڈی شوز کا بھی موضوع تھیں۔ کئی لوگ عمران خان کو چڑانے کے لیے ان پر ''ٹرمپی پھبتی‘‘ کستے تھے لیکن ان کے اکثر مداح اسے تعریف سمجھ کر کورنش بجا لاتے تھے۔ امریکہ اور پاکستان کے سیاسی پنڈتوں کا خیال تھا کہ دونوںکو کبھی اقتدار نصیب نہیں ہو گا، یا یہ کہ دونوں اقتدار کو نصیب نہیں ہوں گے۔ امریکہ میں ہیلری کلنٹن کا ستارہ عروج پر تھا، اور توانائی اور دہشت گردی کے بحران پر قابو پانے کے بعد نواز شریف سُکھ کا سانس لے رہے تھے۔ پنجاب ان کا مضبوط گڑھ تھا، یہاں ان کے چھوٹے شہباز شریف کا طوطی بول رہا تھا۔ پاکستان کے چاروں صوبوں میں پنجاب اپنی مثال آپ تھا۔ کوئٹہ اور کراچی تو کیا پشاور سے بھی جو لاہور آتا دنگ رہ جاتا۔ یہاں کی تعمیر و ترقی اپنا آپ منوا رہی تھی، بجلی کی سی رفتار سے بجلی کے منصوبے لگ رہے تھے۔

صحت، تعلیم اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں فراٹے بھرے جا رہے تھے۔ یوں لگ رہا تھا کہ پنجاب میں ''شریف خاندان‘‘ کا جھنڈا برسوںگڑا رہے گا۔ تنقید کی جا سکتی تھی، اور ہو بھی رہی تھی۔ بہت کچھ کرنے کے باوجود بہت کچھ کرنے کی ضرورت اپنی جگہ تھی۔ انتظامیہ پر خاندانی چھاپ کی شکایات تھیں۔ ادارہ جاتی تقسیمِ اختیارات کو نظر انداز کیا جا رہا تھا، بلدیاتی اداروںکے انتخابات کے باوجود وہ ہضم نہیں ہو پا رہے تھے، نچلی سطح تک اختیارات کی تقسیم کے فوائد نگاہ سے اوجھل تھے۔ نچلی کیا بالائی سطح پر بھی اقتدار بند مٹھیوں میں تھا۔ ان سب شکایات کے باوجود گھوڑا سر پٹ دوڑ رہا تھا، اور امیدوں سے دِل بھرے ہوئے تھے۔ نواز شریف کو پانامہ کے نام پر ڈس لیا گیا تو سمجھا جانے لگا کہ شہباز شریف ان کی جگہ لیں گے، عمران خان کے نعروں اور دھرنوں کی طاقت ان کے چھکے نہیں چھڑا پائے گی۔ عمران نوجوانوں اور خواتین میں مقبول تھے۔ ان کی طلسماتی شخصیت ماحول کو اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔ کرکٹ کے بعد سماجی شعبے میں خدمات نے سونے پر سہاگہ کر رکھا تھا، ان کی منفی مہم بلندیوں کو چھو رہی تھی، لیکن عام خیال تھا کہ یہ انتخابی فتح میں تبدیل نہ ہو پائے گی۔ پھر یہ ہوا کہ آسمانی قوتیںان پر قربان ہوتی گئیں۔ پرانی قیادت اور سیاست سے نجات کا جذبہ طاقت کے سرچشموں میں سرایت کر گیا۔ وہ حربے جو ہیلری کو پچھاڑ چکے تھے، پاکستان میں بھی آزمائے گئے، اور یہاں بھی وہ تبدیلی آ گئی، جس کے خواب دن دہاڑے دیکھے اور دکھائے جا رہے تھے۔

ٹرمپ کا امریکہ اور عمران کا پاکستان ایک دوسرے کی تصویر نہیں ہیں۔ ایک دُنیا کی سب سے بڑی طاقت اور دوسرا ستر سال کا ہو کر بھی گھٹنوں کے بل چل رہا ہے، اس کے باوجود ان دونوں کے درمیان بہت کچھ ایسا ہے جس کا تصور کرتے ہوئے پھول مہک اٹھتے ہیں، اور کچھ نہ کچھ وہ بھی ہے جو انگاروں کی طرح دہک اٹھتا ہے۔ گزشتہ کئی عشروں نے امریکہ اور پاکستان کو خواہی، نخواہی ایک دوسرے کے ساتھ باندھے رکھا ہے۔ شکووں کے ساتھ ساتھ تعلق و رفاقت کے لمحات بھی تاریخ سے کھرچے نہیں جا سکتے۔ آزادی کے بعد امریکہ پاکستان کی پہلی محبت تھا۔ دونوں کا ورلڈ ویو ایک تھا، دونوں دُنیا کو ایک دوسرے کی عینک سے دیکھنے لگ پڑے۔ پاکستان کے لیے اس کے بڑے ہمسایے، بھارت نے ابتدا ہی سے سکیورٹی کے مسائل پیدا کر دیئے تھے۔ تقسیم کے دوران میں فراخ دِلی کا مظاہرہ نہ کر پایا تھا، وہ شاید اس خیال میں مگن تھا کہ نوزائیدہ ملک پر دبائو بڑھا کر اسے مطیع و فرمانبردار بنایا جا سکتا ہے۔ اگر وہ منقولہ اور غیر منقولہ اثاثوں کو بانٹتے ہوئے دِل کھلا کر لیتا تو آج اس خطے کی تاریخ مختلف ہوتی۔ دونوں ملک (کم از کم) خارجی اور دفاعی امور میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے نظر آتے، یورپ سے کہیں پہلے جنوبی ایشیا کی سرحدیں نرم ہو جاتیں۔ بھارتی دبائو کا سامنا کرنے کے لیے پاکستان امریکہ تک پہنچا، اور غیر جانبدارانہ خارجہ پالیسی کو زہر قاتل سمجھ کر دفاعی معاہدوں کا حصہ بن گیا۔

یہ معاہدے بھارت کے خلاف نہیں تھے، لیکن پاکستان کو دفاعی اور معاشی طور پر مستحکم کر سکتے تھے، اسے خود کفالت کی منزل تک لے جا سکتے تھے۔ گزشتہ سات عشروں میں جو کچھ ہوا، اس نے پاکستان کو پورے قد سے کھڑا رکھا، اور جو کچھ نہیں ہوا، اس کی ذمہ داری سے ہم اپنے آپ کو بری الذمہ نہیں کر سکتے۔ بھارت کے ساتھ مسلح تصادم سے بچتے ہوئے ہم اگر اپنا سفر جاری رکھنے میں کامیاب ہو جاتے تو آج جنوبی کوریا اور ملائیشیا کیا‘ شاید جاپان کے ہم پلّہ ہوتے... لیکن یہ الگ کہانی ہے۔ آج کی حقیقت یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات ہونے والی ہے۔ کہتے ہیں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اِسے ممکن بنایا ہے۔ صدر ٹرمپ کے داماد سے ان کی گہری ذاتی دوستی نے امریکی بیوروکریسی کی کھڑی رکاوٹیں پھلانگتے ہوئے وائٹ ہائوس سے براہِ راست دعوت نامہ بھجوانے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے، اس امید کے ساتھ کہ دونوں قادر الکلام (بلکہ منہ پھٹ) رہنما نئے مستقبل کی طرف بڑھ سکیں گے۔

افغانستان میں قیام امن امریکہ کی اولین ترجیح ہے، پاکستان کے لیے بھی اس کی افادیت سے انکار ممکن نہیں۔ عمران خان کے ساتھ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی امریکہ میں ہوں گے، گویا طاقت اور سیاست کے قدم ملے ہوئے ہوں گے۔ پاکستان اور امریکہ دونوں کو ماضی سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے، ہمیں اپنی ضرورت سے غافل نہیں ہونا چاہئے۔ وزیر اعظم عمران خان نے اس دورے کے دوران سادگی اور کفایت کی جو روایات قائم کی ہیں، اس سے پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان، اور پہلے فوجی صدر فیلڈ مارشل ایوب خان کے دوروں کی یادیں تازہ ہوئی ہیں۔ توقع کی جانی چاہیے کہ وزیر اعظم عمران خان جب واپس آئیں گے، تو ایک مدبر رہنما کے طور پر بھی ان کا تعارف ہو چکا ہو گا۔ انتظار کرنے والی تالیوں کو مایوسی نہیں ہو گی۔

ایک اور سابق وزیراعظم
عمران خان کے امریکہ پہنچنے سے پہلے پاکستان میں جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید اور ان کے کئی ساتھیوں کو گرفتار کیا جا چکا تھا۔ حافظ صاحب کی گرفتاری پر تو صدر ٹرمپ نے خوشی سے بغلیں بھی بجا ڈالی تھیں۔ لیکن سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو جس طرح نیب نے دبوچا، اس پر عمران خان صاحب کو بھی تاسف کا اظہار کرنا چاہیے۔ الجھے ہوئے سوالات کے کھرے اور سیدھے جوابات حاصل کرنے کے باوجود پاکستان کے ایک دیانتدار اور پاکباز سیاست دان کی شہرت رکھنے والے شخص کو گرفتار کر کے مشکلات کھڑی کر لی گئی ہیں۔ ایل این جی کی درآمد اور ٹرمینل کی تعمیر میں حیران کن کامیابی پر پٹرولیم کے وزیر کے طور پر شاہد خاقان عباسی کو ایوارڈ ملنا چاہیے تھا، لیکن کم صلاحیت تفتیش کاروں نے اسے ایک مسئلہ بنا کر رکھ دیا۔ پاکستان کے نظام عدل کے لیے بھی یہ گرفتاری ایک چیلنج ثابت ہو گی، اور پاکستانی سیاست کے لیے بھی۔ اُجلے سیاست دان قوم کی متاعِ عزیز ہوتے ہیں، ان کو داغ دار کرنے کی بے جا کوششیں قومی نفسیات اور وقار کو مجروح کرنے کے مترادف ہی سمجھی جائیں گی، اور تاریخ ان کو اسی حوالے سے یاد رکھے گی۔