تضحیک ، تمسخر حرام ہے - یمین الدین احمد

پچھلے چند سالوں میں کہ جب سے سوشل میڈیا کا استعمال بہت زیادہ بڑھا ہے یہ بات تواتر کے ساتھ مشاہدے میں آئی ہے کہ ہمارے ہاں ایک دوسرے کا مذاق اڑانا، لطیفے بنانا اور مختلف طریقوں سے اوروں کی تحقیر اور تمسخر کرنا ایک عمومی مزاج بن گیا ہے۔ خصوصا" سیاسی یا مذہبی مخاصمت میں بنا سوچے سمجھے بہت سے لوگ کسی بھی حد تک چلے جاتے ہیں۔ اگر کوئی کھلاڑی اچھا نہیں کھیل رہا یا ٹیم ہار رہی ہے جیسا کہ حالیہ ورلڈ کپ میں دیکھنے میں آیا۔

مجھے شدید حیرانی اس بات پر ہوتی ہے کہ اچھے خاصے عمر والے، تعلیم یافتہ اور اچھے گھرانوں کے لوگ بھی اس عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ سیاستدانوں کی موجودہ نسل میں سے اکثر نے بلا تفریق اس عادت کے فروغ میں خوب کردار ادا کیا ہے۔ یہاں تک کہ پچھلے چند سالوں میں ہمارے ممبران اسمبلی کی جو زبان اسمبلی کے اندر اور باہر میڈیا پر دیکھنے میں آئی ہے اس کے بعد میں یہ سوچ رہا ہوں کہ ہم کس قماش کے لوگوں کو اپنی نمائندگی سونپتے ہیں اور کیا یہی وہ اخلاق ہیں جو ہم اپنے گھروں میں بھی استعمال کرتے ہیں۔۔۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ ہماری مذاق اڑانے کی یہ عادت قبیحہ ہمارے لئے کیا تحفے لے کر آرہی ہے۔

قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا يَسْخَرْ قَومٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَى أَنْ يَكُونُوا خَيْراً مِنْهُمْ وَلا نِسَاءٌ مِنْ نِسَاءٍ عَسَى أَنْ يَكُنَّ خَيْراً مِنْهُنَّ وَلا تَلْمِزُوا أَنفُسَكُمْ وَلا تَنَابَزُوا بِالأَلْقَابِ بِئْسَ الاِسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الإِيمَانِ وَمَنْ لَمْ يَتُبْ فَأُوْلَئِكَ هُمْ الظَّالِمُونَ۔ (الحجرات 49:11) اے ایمان والو! نہ تو مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ ہی خواتین، دوسری خواتین کا مذاق اڑائیں، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ آپس میں ایک دوسرے پر طعن و تشنیع نہ کیا کرو اور نہ ہی ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کیا کرو۔ ایمان لانے کے بعد فاسقانہ نام بہت ہی بری بات ہے۔ جو لوگ اس روش سے توبہ نہ کریں، وہی ظالم ہیں۔]

مذکورہ آیت میں اشخاص و افراد کے باہمی حقوق و آداب معاشرت کا ذکر ہے۔ ان میں تین چیزوں کی ممانعت فرمائی گئی ہے۔ اول کسی مسلمان کے ساتھ تمسخر و استہزاء کرنا، دوسرے کسی پر طعنہ زنی کرنا، تیسرے کسی کو ایسے لقب سے ذکر کرنا جس سے اس کی توہین ہوتی ہو یا وہ اس سے برا مانتا ہو۔ پہلی چیز سخریہ یا تمسخر ہے۔

امام قرطبی نے فرمایا کہ کسی شخص کی تحقیر و توہین کے لئے اس کے کسی عیب کو اس طرح ذکر کرنا جس سے لوگ ہنسنے لگیں، اس کو سخریہ، تمسخر، استہزاء کہا جاتا ہے۔ اور یہ جیسے زبان سے ہوتا ہے ایسے ہی ہاتھ پاؤں وغیرہ سے اس کی نقل اتارنے یا اشارہ کرنے سے بھی ہوتا ہے۔ اور اس طرح بھی کہ اس کی بات سن کر بطور تحقیر کے ہنسی اڑائی جائے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ سخریہ و تمسخر کسی شخص کے سامنے اس کا ایسی طرح ذکر کرنا ہے کہ اس سے لوگ ہنس پڑیں اور یہ سب چیزیں بنص قرآن حرام ہیں۔

اس آیت کو سن کر سلف صالحین کا حال یہ ہو گیا تھا کہ عمرو بن شرحبیل نے فرمایا کہ اگر میں کسی شخص کو بکری کے تھنوں سے منہ لگا کر دودھ پیتے دیکھوں اور اس پر مجھے ہنسی آ جائے تو میں ڈرتا ہوں کہ کہیں میں بھی ایسا ہی نہ ہو جاؤں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں اگر کسی کتے کے ساتھ بھی استہزاء کروں تو مجھے ڈر ہوتا ہے کہ میں خود کتا نہ بنا دیا جاؤں۔ (قرطبی)۔۔۔ دوسری چیز جس کی ممانعت اس آیت میں کی گئی ہے، وہ "لمز" ہے۔ لمز کے معنی ہیں کسی میں عیب نکالنے اور عیب ظاہر کرنے یا عیب پر طعنہ زنی کرنے کے ہیں۔ علماء نے فرمایا ہے کہ انسان کی سعادت اور خوش نصیبی اس میں ہے کہ اپنے عیوب پر نظر رکھے، ان کی اصلاح کی فکر میں لگا رہے اور جو ایسا کرے گا اس کو دوسروں کے عیب نکالنے اور بیان کرنے کی فرصت ہی نہ ملے گی۔ ہندوستان کے آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر نے خوب فرمایا ہے۔۔۔ نہ تھی حال کی جب ہمیں اپنی خبر، رہے دیکھتے لوگوں کے عیب و ہنر - پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر، تو جہاں میں کوئی برا نہ رہا

یہ بھی پڑھیں:   مسلمان بننے کے بعد کیا ہوا؟ جاوید چوہدری

تیسری چیز جس سے آیت میں ممانعت کی گئی ہے وہ کسی دوسرے کو برے لقب سے پکارنا ہے جس سے وہ ناراض ہوتا ہو، جیسے کسی کو گنجا، لنگڑا، لولا یا اندھا کانا کہہ کر پکارنا۔۔۔یا آج کل اپنے سیاسی مخالفین کے مختلف نام رکھے جاتے ہیں جیسے کہ چور، ڈاکو، زانی، یہودی ایجنٹ، ڈیزل، احمق اعظم، جعلی ملا وغیرہ۔۔۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ آیت میں تنابز بالالقاب سے مراد یہ ہے کہ کسی شخص نے کوئی گناہ یا برا عمل کیا ہو اور پھر اس سے تائب ہو گیا ہو، اس کو اس برے عمل کے نام سے پکارنا مثلاً چور یا زانی یا شرابی وغیرہ۔۔۔ حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کو ایسے گناہ پر عار دلائے جس سے اس نے توبہ کر لی ہے تو اللہ نے اپنے ذمہ لے لیا ہے کہ اس کو اسی گناہ میں مبتلا کر کے دنیا و آخرت میں رسوا کرے گا۔ (قرطبی) (مصنف: مفتی محمد شفیع، معارف القرآن سے اقتباس)

افسوس کی بات ہے کہ اس آیت میں بیان کردہ احکامات کی ہمارے ہاں بڑے پیمانے پر خلاف ورزی کی جاتی ہے۔ عام لوگ تو ایسا کرتے ہی ہیں مگر جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ ہمارے سیاسی اور مذہبی راہنما بھی اس آیت کی خلاف ورزی میں پوری طرح ملوث ہیں۔ جب کسی معاملے میں ہمارا اختلاف رائے ہو جاتا ہے، تو ہم یہ فرض کر لیتے ہیں کہ ہم سے مختلف نقطہ نظر رکھنے والا ہر شخص گمراہ اور ملک دشمن یا دین دشمن ہے۔ اس آیت میں بیان کردہ احکامات کا اس شخص سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس شخص کی جان، مال اور آبرو محترم نہیں ہے اور میں جو چاہوں کہہ سکتا ہوں۔

اس کے بعد ہر طریقے سے ہم مخالف نقطہ نظر رکھنے والے شخص کو رسوا کرنے کی مہم کا آغاز کر دیتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے بازاری زبان استعمال کی جاتی ہے۔ مخالف پر کیچڑ اچھالا جاتا ہے۔ اس کی کردار کشی کی جاتی ہے۔ اگر اس کی کوئی حقیقی خامی دستیاب ہو جائے تو اسے ہر ممکن ذریعے سے مشہور کر دیا جاتا ہے۔ اگر حقیقی خامی دستیاب نہ ہو سکے تو اس کی طرف ایسی برائیاں منسوب کر دی جاتی ہیں جو کہ اس میں حقیقتاً پائی نہیں جاتیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ سارا عمل سیاسی اور دینی خدمت کے نام پر کیا جاتا ہے۔ اب تو حال یہ ہوگیا ہے کہ ایسے عاقبت نا اندیش لوگ بھی وجود میں آگئے ہیں جو خواتین کی بھی اس معاملے میں کوئی رعایت نہیں کرتے چاہے وہ مریم نواز ہوں، جمائما ہوں، بشری بی بی ہوں، مریم اورنگزیب ہوں یا اور کوئی سیاسی طور پہ متحرک خاتون ہوں۔ اللہ اکبر! میرے بھائیوں اور بہنوں! یاد رکھیے کہ اگر ہم کسی شخص کے نقطہ نظر کو درست نہیں بھی سمجھتے، تب بھی ہمیں صرف اسی بات کا حق ہے کہ ہم شائستہ زبان استعمال کرتے ہوئے اس کے نقطہ نظر کی خامی کو دلائل کے ساتھ واضح کر دیں۔ اس سے آگے بڑھ کر کسی کی کردار کشی کرنا، اللہ کے احکامات کی رو سے ہمارے لئے جائز ہی نہیں ہے۔ اگر ہم نے اس عمل کا ارتکاب کیا تو یاد رکھیے کہ روز قیامت ہمارا گریبان اس شخص کے ہاتھ میں ہوگا۔ اس وقت ہماری نیکیاں اس کے نامہ اعمال میں منتقل کر دی جائیں گی۔ اگر بالفرض وہ شخص جہنم کا مستحق بھی ہوا، تب بھی دنیا میں کی گئی ہماری کردار کشی کی وجہ سے جہنم میں اس کی سزا میں تخفیف کر دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:   تمھیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے؟ - ماریہ تحسین

دوسری طرف ہمیں اپنی نیکیوں کا جو نقصان برداشت کرنا پڑے گا، اس کی بدولت ممکن ہے کہ ہمارا ٹھکانہ بھی جہنم میں اسی شخص کے ساتھ کر دیا جائے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اپنی زیادتی کے باعث ہمیں اتنی زیادہ نیکیاں اس شخص کو دینی پڑ جائیں کہ ہماری نیکیاں ختم ہو جائیں۔ اس کے بعد ہمیں اس کے گناہ اپنے ذمے لینا ہوں گے۔ عین ممکن ہے کہ اس طریقے سے گناہوں سے نجات حاصل کرنے کے بعد وہ جنت میں داخل ہو جائے اور ہمیں اپنی زیادتی کی پاداش میں جہنم میں جلنا پڑے۔ اللہ حفاظت فرمائے۔ آمین۔ اگر ہم کسی کے نقطہ نظر سے اختلاف بھی رکھتے ہوں تو ہمیں بس اسی کا حق ہے کہ اس کے نقطہ نظر کی غلطی کو واضح کر دیں۔ ہمیں بس نظریات پر تنقید تک ہی محدود رہنا ہوگا۔ نظریات سے آگے بڑھ کر کسی شخص کی ذات پر تنقید کرنا ہمیں جہنم کی سزا کا مستحق بنا دینے کے لئے کافی ہو سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے اس رویے پر توبہ کریں، متعلقہ شخص سے معافی مانگیں اور آئندہ کے لئے اس جرم کا ارتکاب نہ کرنے کا عزم کریں۔ اسی لئے ہمارے دین کی پہلی غایت انسان کی اصلاح ہے۔ اگر آپ والدین میں سے ہیں تو اپنے بچوں کو یہ بات ابھی سے سمجھائیں۔

اگر آپ اساتذہ میں سے ہیں تو اپنے اسکول ، کالج ، یونیورسٹی یا مدرسے میں اللہ کے اس حکم کو نصاب کا حصہ بنائیں۔ اگر آپ سیاسی کارکن ہیں تو دیگر سیاسی کارکنوں کو یہ بات سمجھائیں ۔ اگر آپ کے پسندیدہ سیاسی قائدین اس طرح کی زبان استعمال کرتے ہیں تو ان کو خطوط لکھیں، ٹوئیٹ کریں، ان سے ملاقات کریں ، ان پر دباو ڈالیں کہ ہم نے آپ کو سیاسی نظریہ کی بنیاد پر سپورٹ کیا ہے لیکن ہم آپ کو اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے کہ آپ ہماری معاشرتی اقدار کو تباہ و برباد کردیں ۔ اگر آپ صحافی ہیں تو آپ پر لازم ہے کہ اس اہم مسئلے پر لکھیں، بات کریں ، بار بار بات کریں ۔ اگر آپ ٹی وی اینکر ہیں تو اپنے پروگراموں میں اس مسئلے کو اجاگر کریں اور اگر سیاسی زعماء آپ کے پروگراموں میں آتے ہیں تو ان کو اچھی طرح سے بات سمجھائیں۔ اگر آپ علماء کرام میں سے ہیں تو مسجد سے جمعے کے خطبوں میں یہ صدا لگوائیں ، لوگوں کو یاد دہانی کروائیں۔ غرضیکہ آپ جس شعبہ زندگی سے بھی تعلق رکھتے ہیں وہاں اس بات کو چلائیں۔ ورنہ تھوڑے ہی عرصے میں ہم بہت پچھتائیں گے۔ اللہ تعالی ہمیں حکمت، بصیرت اور اچھے اخلاق اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔