اولڈ ہاؤس اور مغرب کا نوحہ - افشاں نوید

ساٹھ سالہ روزمیری بہت اداس تھی۔ آج وہ اپنی ماں کو اولڈ کئیر سینٹر چھوڑ کر آئی تھی۔ بولی وہ دونوں ہاتھ اٹھا کر کہہ رہی تھیں مجھے لے چلو۔ میں دروازے کے عقب سے دیکھنے لگی۔ انھوں نے ساتھ والی عورت کو روزی روزی کہہ کر آواز دی اور اس کے سینے سے سر ٹکا دیا۔ روز میری کی آنکھوں میں یہ کہتے ہوئے نمی در آئی ۔"میرے بھانجے نے دفتر کی ایک ساتھی کا یہ چشم دید واقعہ بیان کیا۔

میں نے کہا تو گھر پر کوئی نرس وغیرہ رکھ لیتے ۔ بولا یہاں یہ سب بہت مہنگا ہے۔ دوسرے یہ کہ سینٹر میں ماں کی ہم عمر اور بھی عورتیں ہونگی کمپنی رہے گی۔
کیا میری کی ماں مالدار عورت نہیں ہے؟جانے کیوں بے وجہ ہی سوال زبان سے پھسل گیا۔ بولا نہ نہ ماں بہت مالدار عورت ہے۔وہ جس علاقے میں رہتی ہے وہ یہاں کے رئیسوں کی شناخت ہے۔ان کا ذاتی گھر تھا وسیع وعریض۔ اب گھر کا کیا ہوگا ؟میں نے پوچھا۔ "گھر حکومت کی ملکیت میں چلا جائیگا۔ روزمیری کو تو ضرورت ہی نہیں وہ تو خود ٹھیک ٹھاک دولتمند آسامی ہے۔"
تو کیا وہ ماں کے لئے ملازمت نہیں چھوڑ سکتی تھی؟ میرے اس سوال پر بھانجے کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ "کیوں ملازمت چھوڑ کر تو وہ پاگل ہوجائیگی۔اسکا بیٹا تو اس کو پوچھتا ہی نہیں۔ کینیڈا میں رہتا ہے۔کبھی کرسمس یا مدرز ڈے پر چاکلیٹس بھیج دیتا ہے۔ کئ سال ہوگئے اسے بیٹے کو دیکھے ہوئے۔وہ بے چاری تو پاگل ہوجائگی ۔کام ہی تو یہاں زندہ رکھتا ہے لوگوں کو خانگی زندگیاں تو اکثر نوحہ ہی ہیں۔ میں نے کہا مگر ہمارے ہاں یہ سوچا جاسکتاہے کہ بیٹی ماں کی خاطر ملازمت چھوڑ دے۔ ہمارے سماج میں والدین کے لئے کوئی بھی بڑی قربانی دی جاسکتی ہے۔ بولا ہم تو جنت دوزخ پر ایمان رکھتے ہیں۔ اس زندگی کا بہت سا نقصان اگلی زندگی کی راحت کی خاطر برداشت کر لیتے ہیں ۔ ان لوگوں کے لئے تو یہی زندگی سب کچھ ہے ۔ واقعی عقیدہ کا کتنا گہرا اثر ہوتا ہے ہماری زندگیوں پر ۔
"عقیدہ ہی زندگی ہے۔"اس ڈھلتی شام جب پرندے پر سمیٹ رہے تھے اور سورج زیر تعمیر بلند عمارت کے پیچھے غروب ہورہا تھا آسمان کی سرخی پر یہی تحریر تھا شائد۔۔۔۔

Comments

افشاں نوید

افشاں نوید

روزنامہ جسارت میں کالم لکھتی ہیں۔ نوید فکر کے نام سے کالموں کا مجموعہ شائع ہو چکا ہے، اسی عنوان سے 5 ماہناموں میں تحاریر شائع ہوتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • پاکستان میں اولڈ ہاوس سزا ہے اور برطانیہ میں اولڈ ہاوس روٹین ورکس، حکومت کی ذمہ داری ہے۔

    برطانیہ میں پاکستان کی طرح گھر نہیں ہوتے کہ اندر کمروں پر کمرے اور فلور پر فلور بنائے جائیں، برطانیہ میں ہر گھر رہنے والوں کی کپیسٹی کے مطابق تیار کئے جاتے ہیں۔ ایک بیڈ روم، دو بیڈ روم، تین بیڈ روم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جس بھی بچے کی شادی ہو گی وہ چاہے تو کونسل سے گھر کرایہ پر لے لے یا چاہے تو پرائیویٹ لینڈر سے کرایہ پر گھر لے لے یا مورگیج پر خرید لے، والدین کے گھر میں ایکسٹیشن نہیں ہو سکتی اگر والدین کا گھر ۳ بیڈ روم ہے تو ۳ ہی رہے گا۔

    کونسل سے گھر کرایہ پر لینے کا فائدہ یہ ہوتا ہے ایک تو اس کا کرایہ بہت ہی کم ہوتا ہے بنسبت پرائیوٹ لینڈر سے کرایہ پر لینے کے، دوسرا کونسل دو سے ۵ سال بعد آفر کرتی ہے کہ اب آپ چاہیں تو یہ گھر خرید سکتے ہیں، جس پر کونسل اب مارکیٹ ریٹ سے ۵۰ فیصد تک رعایت دیتی ہے یعنی یہ گھر آدھی قیمت میں پڑتا ہے۔

    برطانیہ میں جو والدین کام نہیں کر سکتے یا سکتا وہ کسی بیماری کی وجہ سے یا عمر کے مطابق ریٹائیرڈ ہو جاتے ہیں تو حکومت ان کو پینش دیتی ہے اور ایک پینشن انہیں اس سے ملتی ہے جو کام کے دوران پینش کی رقم کاٹی جاتی ہے، جب تک یہ والدین چل پھر سکتے ہیں اگر کونسل کے گھر میں رہ رہے ہیں تو وہیں رہتے ہیں اس کا کرایہ اور ٹیکس حکومت دیتی ہے، اور جب یہ مکمل اپاہج ہو جاتے ہیں جیسے کہ نہ چل پھر سکتے ہیں نہ کچھ حرکت کر سکتے ہیں تب انہیں اولڈ ہاوس میں منتقل کر دیا جاتا ہے، زندگی کی آخری سانس تک اس کا سارا خرچہ حکومت کے ذمہ ہوتا ہے۔ جو خیال ان کی اولاد نہیں رکھ سکتی اس سے زیادہ توقع کا خیال ان کا یہاں سٹاف رکھتا ہے۔

    اب پاکستان میں دن بدن جو حالات دیکھنے میں آ رہے ہیں تو وہ آپ سب جانتے ہیں آپ یورپ کے ساتھ اس کا کیا مواذنہ کریں گے۔ اس پر لکھنے کی ضرورت نہیں اپنے والدین کا خیال رکھیں جنہوں نے آپ کو اس مقام تک پہنچایا، یورپ میں حکومت کی ذمہ داری ہے اس سے مواذنہ کرنا آپ کا وہم ہے۔