دو گندے ہو چکے، ایک ناکام - ایاز امیر

سابقہ جمہوری ادوار کے دونوں بڑوں پہ تو کرپشن کا ٹھپہ لگ چکا ہے۔ کارروائی یا سزائیں ہوتی ہیں یا نہیں لیکن ملک کے طول و عرض میں یہ تاثر پکا ہو چکا ہے کہ لیگی اور پپلی‘ دونوں قیادتوں نے لوٹ مار کے ایسے ریکارڈ قائم کیے‘ جن کی مثال پاکستان کی زخم زدہ تاریخ میں نہیں ملتی۔ لیکن ساتھ ساتھ یہ تاثر بھی پھیلا ہے کہ یہ نئے پاکستان والے بھی نکھٹو ہی نکل رہے ہیں۔ دعوے ان کے بہت تھے لیکن ان سے وہ کچھ نہیں ہوا جو سادہ لوح عوام سوچ رہے تھے۔

تاجروں کا تو اچھا ہوا کہ بھرم کھل گیا۔ ایک دن کی ہڑتال کی اور اُس کے بعد ان کے پاس کوئی خاکۂ عمل نہ تھا۔ توقع بھی یہی تھی کہ ایک سے زیادہ دن دکاندار طبقات کچھ نہیں کر سکیں گے۔ مہنگائی کے سبب لوگوں کو پریشانی تو ضرور ہے خاص طور پہ جن کی آمدن محدود یا فکسڈ ہے۔ دکانداروں اور چھابڑی والوں کا کچھ نہیں جاتا۔ مہنگائی جتنی بڑھے وہ اپنے دام اس سے زیادہ بڑھا دیتے ہیں اور پوچھنے والا کوئی نہیں۔

احتساب بھی چل رہا ہے اور بڑے بڑے نون لیگیے اندر ہو رہے ہیں۔ ظاہر ہے انہوں نے یا اُن کی جماعت نے شور مچانا ہے لیکن حکومت کے لئے یہ صورتحال کچھ زیادہ پریشانی کا باعث نہیں بن رہی۔ پھر بھی ملک میں عمومی تاثر یہ ہے کہ موجودہ حکومت بس ایسے ہی ہے اور اس کی کارکردگی زیادہ متاثر کن نہیں۔ اب تو یہ بہانہ بھی نہیں رہا کہ نئے آئے ہیں اور انہیں وقت دینا چاہیے۔ حکومت کا بارہواں مہینہ شروع ہونے والا ہے اور جیسا کہ کہا جاتا ہے‘ سیاست میں ایک ہفتہ بھی بہت لمبا وقت ہوتا ہے۔

زیر عتاب سیاسی پارٹیاں تو کچھ کر نہیں سکیں۔ ان کے ورکروں میں باہر آنے کا دم خم نہیں۔ یہ جماعتیں اقتدار میں ہوں تبھی ان کے ورکر پہلوان نظر آتے ہیں۔ اقتدار سے محروم ہو جائیں تو اپنی اوقات پہ آ جاتے ہیں اور پھر انہیں ڈھونڈنا مشکل ہو جاتا ہے۔ لیکن ایک اور محاذ بھی ہے جو آہستہ آہستہ گرم ہو رہا ہے اور وہ دینی جماعتوں اور مدارس کا ہے۔ یہ کہنا تو آسان ہے کہ مدارس کو سرکاری امتحان دینے پڑیں گے اور وہیں سے ان کے طالب علموں کو سرٹیفکیٹ ملیں گے۔ لیکن ایسا کرنا آسان نہیں۔ آرمی چیف جنرل باجوہ بھی چیدہ چیدہ مولوی صاحبان سے ملے ہیں، لیکن اندر کی کہانی بتاتی ہے کہ مولوی صاحبان اس اقدام پہ زیادہ خوش نہیں۔

ہم کچھ میڈیا والوں کی عادت بن چکی ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا مذاق اڑاتے ہیں یا ان کا ذکر ہلکے الفاظ میں کرتے ہیں۔ لیکن آثار بتا رہے ہیں کہ ان کا ارادہ پکا ہے کہ عمران خان حکومت کے خلاف وہ دیگر جماعتوں کو لے کر باہر نکلیں۔ کرپشن تو کوئی ایشو نہیں، اس پہ تو کوئی تحریک نہیں چل سکتی۔ لیکن یہ مدارس اور امتحانات والا ایسا مسئلہ ہے جس کو تحریک چلانے کی خاطر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بات تو یہاں تک آن پہنچی ہے کہ ہمارے کئی صحافی دوست‘ جن کو عام طور پہ باخبر ہی سمجھا جاتا ہے‘ رقم رقوم کی بھی باتیں کر رہے ہیں کہ فلاں نے فلاں کو رقم دی۔ رقم یہاں سے آئے گی اور مین پاور یعنی افرادی قوت فلاں حضرت مہیا کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا کشمیر بارے موددی کا غرور ٹوٹ گیا؟ میر افسر امان

ایک بات تو طے ہے یا طے ہونی چاہیے کہ ماضی میں بھی کوئی تحریک کامیاب نہیں ہوئی جب تک کہ سایوں کے پیچھے سے تھپکی نہ آئی ہو۔ جو اپنے آپ کو واقفانِ حال سمجھتے ہیں، انہوں نے تو کہنا شروع کر دیا ہے کہ اندھیروں کے پیچھے سے تھپکی آ رہی ہے۔ یعنی ممکنہ گڑبڑ کو روکنے کی کوشش نہیں کی جا رہی۔ سوال پھر اُٹھتا ہے کہ اگر ایسا ہے تو کیوں ہے؟

سوال تو سیدھا سادہ ہے لیکن سیدھا جواب اِس کا ملتا نہیں۔ واقفانِ حال تو یہ بھی کہتے ہیں کہ سایوں میں لپٹے رہنے والے حکومت کی کارکردگی سے خوش نہیں۔ اگر ایسا ہے بھی تو دوسرا سوال اُٹھتا ہے کہ متبادل کیا ہے؟ ایک سواری آپ کو پسند نہ بھی ہو تو تبدیل آپ تب ہی کرتے ہیں کہ جب کوئی دوسری میسر ہو۔ یعنی ریل کا سفر تنگ کرے تو بس پہ آپ چڑھ جاتے ہیں۔ متبادل نہ ہو تو جو ہے اُسے برداشت کرنا پڑتا ہے۔ واقفانِ حال اس مخمصے کا سمجھ آنے والا جواب دینے سے قاصر ہیں۔

مولانا فضل الرحمان پہ جو بھی الزام لگایا جائے، انہیں ناسمجھ کوئی نہیں کہے گا۔ اس ملک کی سیاست کے رموز وہ جانتے ہیں۔ اُنہیں بخوبی علم ہے کہ طاقت کے مراکز کون سے ہیں اور وہ کیا کچھ کر سکتے ہیں۔ جوشِ خطابت میں وہ کبھی بنیادی حقیقتوں کو نہیں بھولتے۔ اگر میدان میں آنا چاہتے ہیں تو وہ اوروں سے زیادہ بہتر پیچھے سے اشاروں کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ کیا انہیں کوئی اشارے مل رہے ہیں؟ اشارے نہ ملیں تو وہ میدان میں نہیں آئیں گے۔ وہ اتنے بھولے نہیں کہ نواز شریف اور آصف زرداری کے کہنے پہ اپنا سب کچھ داؤ پہ لگا دیں۔ لہٰذا اگر اُنہیں کوئی اشارے مل رہے ہیں تو پھر وہی سوال کہ کہاں سے اور کیونکر؟ ہلچل بھی پیدا کرنی ہو تو اس کے مقاصد کیا ہو سکتے ہیں؟

اس نکتے پہ آ کے کم از کم میری سب قیاس آرائیاں ختم ہو جاتی ہے۔ سمجھ نہیں آتی کہ موجودہ حالات میں عمران خان کا متبادل کیا ہے۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ اشارے والے سمجھیں کہ چار پانچ سال کے لیے ان سب نکموں سے جان چھڑائی جائے اور بندوبستِ حکمرانی کسی اور روپ میں کیا جائے۔ لیکن یہ بھی دور کی کوڑی ہے گو کئی واقفانِ حال کہتے ہیں کہ آنے والا نومبر بڑا اہم ہے، بڑے فیصلے ہونے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ حکومتیں مضبوط ہوں تو ہلچل پیدا بھی کر سکتی ہیں اور اُس سے نبرد آزما بھی ہو سکتی ہیں۔ ترکی میں رجب اردوان کے خلاف جب بغاوت کی کوشش کی گئی تو اُنہوں نے اپنے دشمنوں کو للکارا اور وسیع پیمانے پہ سرکاری صفوں میں چھانٹی شروع کی۔ وہ سخت اقدامات سے نہ گھبرائے کیوں کہ اُن کی اپنی پوزیشن مضبوط تھی۔ چین میں جب چیئرمین ماؤ نے کلچرل انقلاب کی ابتداء کی تو پورے ملک میں افراتفری پھیل گئی جو دو تین سال تک برقرار رہی۔ سکول کالج بند ہو گئے‘ طالب علم سڑکوں پہ آ گئے اور انہوں نے کسی اور کو ٹارگٹ نہیں کیا خود کمیونسٹ پارٹی اور بڑے بڑے عہدیداروں کو اپنی تحریک کا نشانہ بنایا۔ یہ سب کچھ ممکن ہوا کیونکہ چیئرمین ماؤ کی حالات پہ گرفت مضبوط تھی۔ افراتفری اور انارکی پھیلی تو اُس پہ بھی اُن کی گرفت کبھی ڈھیلی نہ پڑی۔ جو اُن کا اشارہ ہوتا اُسی پہ عمل ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں:   سینیٹ اور کرپشن، تاریخ کیا کہتی ہے؟ ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ہمارے ہاں ایسی صورتحال نہیں ہے۔ احتساب کا عمل تو چل رہا ہے اور نون لیگی قیادت اس کی زد میں آ رہی ہے لیکن یہ اس لئے نہیں ہو رہا کہ عمران خان کی حکومت مضبوط ہے۔ احتساب چل رہا ہے تو کسی اور کے زور پہ۔ صرف عمران خان ہوں تو وہ حالات کو کنٹرول نہ کر سکیں۔ اگر حالات کنٹرول ہو رہے ہیں تو دیگر ہاتھوں کی وجہ سے۔

پاکستانی تاریخ میں حکومتی تجربات بہت ہوئے ہیں، کبھی پارلیمانی طرز حکومت اور کبھی صدارتی نظام۔ پھر ایک سے زیادہ مرتبہ باوردی حکومتیں۔ موجودہ نظام بھی ایک تجربے کی حیثیت رکھتا ہے۔ سامنے حکومت منتخب ہے لیکن پس پردہ بھی کچھ حقیقتیں ہیں۔ یہ نہیں کہ ایسی حقیقتیں پہلے نہ تھیں لیکن منتخب حکومتوں سے اُن کا الجھاؤ بنا رہتا۔ اب کی بار ایسا نہیں ہے۔ الجھاؤ یا ٹینشن سامنے اور پیچھے کے بیچ میں نہیں ہے۔ لیکن ایسا بھی نہیں کہ پیچھے والے سامنے والوں کی ہر بات پہ خوش ہیں۔ امیدیں تو لگائی گئی تھیں لیکن حکمرانی اتنی کمزور اور ناقص ہو گی اس کا اندازہ شاید پیچھے والوں کو نہ تھا۔

سو دیکھیں کیا ہوتا ہے۔ ہم تو قیاس کے گھوڑے ہی دوڑا سکتے ہیں۔ اگر ساون آن پہنچا ہے تو نومبر بھی اتنا دور نہیں۔ ایسی کہانیوں میں عمریں گزر گئیں۔ ہماری صورتحال نہیں بدلی اور مولا کے رنگ بھی نرالے ہوتے ہیں۔

پسِ تحریر: مریم نواز نے کیا سمجھا تھا کہ جج ارشد ملک نہتے ہیں۔ سارے ڈرامے سے نتیجہ کیا برآمد ہوا ہے؟ جج صاحب کا فیصلہ تو برقرار ہے اور گو احتساب عدالت سے ہٹائے گئے ہیں، اُن کی ججی برقرار ہے۔ مزید برآں اُن کے خلاف ویڈیو کے پیچھے اشخاص کے خلاف پرچہ بھی درج ہو گیا ہے اور ایک بدقسمت ایف آئی اے کے ہتھے بھی چڑھ چکا ہے۔ اُس کے ساتھ جو سلوک ہوا اس نے قمیض اُٹھا کے ریمانڈ والے جج کو دِکھا دیا۔ پرچے میں نامزد دیگر افراد بھاگے ہوئے ہیں اور بھاگے ہی رہیں گے۔ مریم نواز اُن کی کیا مدد کر سکتی ہیں؟