ماضی میں جو پس پردہ ہوتا تھا، وہ ہم کھل کے کر رہے ہیں - ترجمان عمران خان

وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی اور ترجمان ندیم افضل چن کا کہنا ہے کہ معشیت کو فوج نہیں وزیراعظم چلا رہے ہیں، ماضی میں فوج سے مشورے پس پردہ رہ کر کیے جاتے تھے، ہم ایسا کھل کے کر رہے ہیں۔

سعودی نیوز ویب سائٹ اردو نیوز سے خصوصی انٹرویو میں ندیم افضل چن کا کہنا تھا کہ ملک میں سیکورٹی کی صورتحال کے باعث پاک فوج میعشت اور ترقی میں شراکت دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’پس پردہ بھی تو آپ مشورے کر رہے ہوتے ہیں، ساری حکومتیں کرتی رہی ہیں، تو ہم کھل کر اپنے ملک کی فوج کے ساتھ کر رہے ہیں ناں مشورے۔‘

قومی ترقیاتی کونسل میں آرمی چیف کی شمولیت
وزیراعظم کی جانب سے حال ہی میں قائم کی جانے والی قومی ترقیاتی کونسل میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی شمولیت اور معیشت میں فوج کے کردار پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کے حوالے سے ابھی مثالی صورتحال نہیں ہے اوراس میں ابھی وقت لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا اور بلوچستان کی معیشت ترقی اور امن و امان کی بات ہو تو اس میں سیکورٹی ادارے شراکت دار ہیں کیوں کہ وہاں ایک لڑائی چل رہی ہے۔ کراچی میں امن وامان اور معیشت کی بحالی میں ڈی جی رینجرز بھی شراکت دار ہیں اور کور کمانڈر بھی شراکت دار ہیں۔ اس تمام صورتحال کو دیکھتے ہوئے آرمی چیف کو قومی ترقیاتی کونسل کا ممبر بنایا گیا ہے۔

ملکی معیشت کون چلا رہا ہے؟
ندیم افضل چن نے واضح کیا کہ معشیت کو فوج نہیں وزیراعظم چلا رہے ہیں کیوں کہ وہ چیف ایگزیکٹو ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں کو دوسروں کی مداخلت سے بچنے کے لیے خود بھی رول ماڈل بننا ہو گا، ‘ہمیں خود اپنے اندر وزیر خزانہ پیدا کرنے ہوں گے وزیرقانون پیداکرنے ہوں گے۔اپنی پارٹیز کے اندر سے لوگوں کی ان عہدوں کے لیے تربیت کرنا ہوگی۔’ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتیں اپنی ذمہ داری نہیں نبھاتیں اور پھر دوسروں پر مداخلت کی بات کرتی ہیں۔ ندیم افضل چن کے مطابق آرمی چیف کا وزیراعظم کے ساتھ امریکا جانا خوش آئند ہے کیوں کہ دورے کے دوران افغان امن عمل اور خطے کی سلامتی کے حوالے سے بات ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:   کچھ باتیں تو واضح ہونے لگیں - ایاز امیر

آرمی چیف کو توسیع ملے گی؟
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے انہوں نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم اس معاملے میں اعلان کریں گے۔

پاکستان پر بھاری جرمانہ، اب کیا ہوگا؟
ندیم افضل چن کا کہنا تھا کہ ریکوڈک کیس میں ملک کو نقصان پہنچانے والے ججوں کے خلاف تحقیقات ہونی چاہیے۔ وزیراعظم عمران خان نے پانچ وزرا پر مشتمل کمیٹی بنائی جو اس سلسلے میں حتمی فیصلہ دے گی۔ ان سے پوچھا گیا تھا کہ ریکوڈک معاملے پر کیا ججوں کے خلاف بھی نیب کاروائی کر سکتا ہے۔ جس کے جواب میں انہوں نے ‘اس ملک کے ساتھ جس جس نے ظلم کیا خواہ ججز ہیں یا کوئی اور ہے ان کے خلاف انکوائری تو ہونی چاہیے‘۔ یاد رہے کہ عالمی بینک کے سرمایہ کاری پر اٹھنے والے تنازعات کے تصفیہ کے لیے بین الاقوامی سینٹر (انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انوسٹمنٹ ڈسپیوٹس) نے اس کیس میں پاکستان پر پانچ ارب 97 کروڑ ڈالرز کا جرمانہ عائد کیا ہے۔

جج ارشد ملک کا ویڈیو اسکینڈل
ندیم افضل چن نے احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کے ویڈیو اسکینڈل کے حوالے سے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایات ہیں کہ اس تنازعہ میں ملوث جج کا دفاع نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جج ارشد ملک کو عہدے پر نہیں رہنا چاہیے۔ ‘میں سمجھتا ہوں کہ ایسے ججز کو کیسز سے علیحدہ ہو جانا چاہیے۔ میرا ذاتی موقف تو یہ ہے کہ ایسے ججز بالکل نہیں ہونے چاہیے۔ججز کو بڑا آئیڈیل ہونا چاہیے۔

عمران خان کے دورہ امریکا سے قبل حافظ سعید کی گرفتاری کیوں؟
ان کا دعوی تھا کہ جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید کی گرفتاری کا وزیراعظم کے دورہ امریکا سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ ان کو نیشنل ایکشن پلان کی حکومتی پالیسی کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی حکومت کو اب تک کوئی کامیابی ہوئی؟
موجودہ حکومت کی بڑی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے وزیراعظم آفس میں کرپشن کے خاتمے، بیرونی دوروں میں فضول خرچی ختم کرنے، پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کے منصوبے اور احساس پروگرام کے تحت 200 ارب روپے غریبوں کے لیے مختص کرنے جیسے منصوبوں کے بارے میں بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی آزاد اور متوازن خارجہ پالیسی بھی موجودہ حکومت کا کارنامہ ہے جس کے تحت ایک طرف تو سعودی عرب اور متحدہ امارت کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کیے گئے ہیں تو دوسری طرف ایران اور چین کے ساتھ بھی بہتر تعلقات قائم رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے دورہ امریکا سے دونوں ممالک مزید قریب آئیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   ورکشاپ کا چھوٹا - سید طلعت حسین

پاکستان نے امریکی جنگ لڑی
انہوں نے کہا کہ ‘پاکستان نے افغانستان میں امریکا کی جنگ لڑی ہے جو تاریخی طور پر ثابت ہو چکا ہے دوسری طرف امریکہ نے بھی پاکستان کی ایف سولہ سمیت دفاعی اور دیگر امداد کی ہے۔’

موجودہ حکومت میں ترجمانوں کی کثرت کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ سرکاری طور پر ‘وزیراعظم کا ترجمان صرف میں ہوں۔ باقی یہ کہ جتنے میڈیا چینلز ہیں اس حساب سے ترجمان ابھی بھی کم ہیں ہر وزیر حکومت کا ترجمان ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ وفاقی کابینہ میں عہدے کے باوجود تنخواہ یا کوئی مراعات نہیں لیتے بلکہ مہمانوں کو چائے بھی اپنے خرچے سے پلاتے ہیں۔

پاکستان میں میڈیا پابند کیوں؟
میڈیا کی طرف سے سنسرشپ کی شکایات پر انہوں نے کہا کہ صورتحال آئیڈیل نہیں ہے لیکن ماضی میں بھی میڈیا پر پابندیاں لگیں، مشرف اور نواز دور میں بھی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ دور بدل چکا ہے اب صحافیوں کو بھی اپنا رویہ بدلنا ہو گااور سیاستدانوں کو بھی۔ زرد صحافت اور لفافہ صحافت کی گنجائش نہیں رہی۔

صحافیوں کے خلاف مہم نہیں چلائی جانی چاہیے
جب ان سے پی ٹی آئی کےآفیشل سوشل میڈیا اکاونٹس کی جانب سے صحافیوں کے خلاف مہم چلانے کے حوالے سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعت کے پلیٹ فارم سے صحافیوں کے خلاف مہم نہیں چلائی جانی چاہیے اور وہ اس سے متفق نہیں ہیں۔

حکومتی شخصیات کے خلاف نیب کارروائی کیوں نہیں کرتا؟
اردو نیوز نے ندیم افضل چن سے حکومت میں نیب زدہ لوگوں کی موجودگی کے حوالے سے سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ نیب کی انکوائری اور ریفرنس میں فرق ہوتا ہے اور حکومت میں شامل کسی شخص پر ریفرنس نہیں ہے۔