کازیاں دا منڈا-عبدالخالق بٹ

غلطی ہائے مضامین مت پوچھ

لوگ نالے کو رسا باندھتے ہیں

’میرزا غالبؔ نے اس شعر میں سطحی مضمون باندھا ہے‘۔۔۔۔یہ ہم نہیں کہتے ’فاتح عالم‘ کہتے ہیں۔ ان کی بات کو رد کرنا آسان نہیں کہ غالب شکنی میں آپ ’ یگانہ چنگیزی ‘ کے ہم پلہ ہیں۔ پھر غالب اگر ایبک ترک تھے تو موصوف چَغتائی مغل ہیں۔غالب کو آبا کی ’سپہ گری‘ پر ناز تھا، تو انہیں اجداد کی ’قضا گری‘ پر فخر ہے۔ اس باب میں ان کا فرمانا ہے :

سو پشت سے ہے پیشۂ آبا ’قضا گری‘

کچھ شاعری ذریعۂ عزت نہیں مجھے

غالب نے اس شعر میں تصرف کیا اور ’ قضا گری‘ کو ’ سپہ گری‘ سے بدل کر خوب داد سمیٹی۔

دودمان قاضیان سے نسبت ہمارے ممدوح کے نام سے جھلکتی ہے۔ موصوف پنجاب میں ہوتے تو’ کازیاں دا منڈا ‘ کہلاتے۔

ایک روز ہم نے جی کڑا کرکے پوچھا لیا کہ: ’کازیوں کے منڈے‘ اور ’ پٹواریوں کے منڈے‘ میں بنیادی فرق کیا ہے؟‘

سوال سن کر جھوم ہی تو گئے۔ کہنے لگے :’پٹواریوں کا منڈا ’دوروں دوروں انکھیاں مارتا ہے‘ اور ۔۔۔۔ اتنا کَہ کر خاموش ہوگئے،۔۔۔۔۔ آنکھیں موندلیں اور غالب کا شعر گنگنانے لگے:

’مغل بچے عجیب ہوتے ہیں

جس پہ مرتے ہیں اسے مار رکھتے ہیں‘

ایک روز موصوف گیان بانٹنے کو بیتاب تھے۔ ہم نے دست بستہ عرض کیا: ’حضور میرزا غالب کے ’سطحی مضمون‘ کی نشاندھی کردیتے تو ہم بھی کچھ سیکھ لیتے‘۔

سوال سن کر پہلے غالب کا شعر پڑھا:

غلطی ہائے مضامین مت پوچھ

لوگ نالے کو رسا باندھتے ہیں

پھر کہنے لگے: ’ پہلی غلطی تو یہی ہے کہ شعر، لباس کے معاملات سے بحث کرتا ہے مگر مصرع اولیٰ میں اسے ’پروف ریڈنگ‘ کا مسئلہ بتاکر خلط مبحث پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے‘۔

’وہ کیسے؟‘ ۔۔۔ ہم نے دبی زبان میں پوچھا۔

’وہ ایسے کہ دوسرے مصرع میں غدر کی ہولناکی،کساد بازاری اور لوگوں کی قوت خرید متاثر ہونے کی طرف اشارہ ہے۔میرزا کہنا یہ چاہتے ہیں کہ اس دورِ پُرآشوب میں دلی والے شلوار، تنبا اور پائجامہ کی قبیل سے جو کچھ پہنتے ہیں اس میں ’ ناڑے ‘ کے بجائے’ رَسّا ‘باندھتے ہیں‘۔

بات ہضم نہیں ہوئی اس لیے وضاحت چاہی: ’ پر شعر میں ’ ناڑا ‘ کہاں سے در آیا۔ پھر رَسّا ہی کیوں؟ رسی کیوں نہیں، کہ نیفے میں آسانی سے گزر جاتی‘۔

سوال ’طالب علمانہ‘ تھا جو انہیں جاہلانہ لگا۔ پہلے زرو دار قہقہہ لگایا،جسے شرفاء عیب میں شمار کرتے ہیں۔ پھر گیسوئے تاب دار میں پنجے کا برش پھیرتے ہوئے گویا ہوئے: ’ میاں صوتی تبادل سے واقف ہو؟‘ ۔۔۔۔ ہم نے نفی میں گردن ہلائی۔۔۔۔ تو گویا ہوئے: ’صوتی تبادل میں حرف اپنے قریب المخرج حرف سے بدل جاتا ہے۔ جیسے حرف ’ ب ‘ حسب موقع ’ پ ‘ سے بدل جاتا ہے یوں پاکستان ، عربی میں ’ باکستان ‘ ہوجاتا ہے‘۔ یا حرف ’ ی ‘ بعض جگہ پر حرف ’ ج ‘ سے بدل جاتا ہے۔ ’یاسمین ‘ کو ہی دیکھ لو انگریز ی میں ’ جیسمین ‘ ہے ‘۔

اتنا کَہ کر فاتحانہ انداز میں ہماری طرف دیکھا۔۔۔۔ تو ہم نے عرض کیا :’پر ناڑا تو وہیں لٹک رہا ہے‘۔

یہ سن کر بھنّا گئے۔ تیوریاں چڑھائیں اور ہوا کے گھوڑے پر چڑھ گئے ، شمشیر فصاحت لہراتے ہوئے بولے: ’ حرف ’ ل ‘ اکثر صورتوں میں حرف ’ ر ‘ سے بدلتا ہے اور ’ ر ‘ موقع ملتے ہی ’ ڑ ‘ بن جاتا ہے۔۔۔۔ کیا کبھی کسی کو ’ نال ‘ کی جگہ ’ناڑ ‘ بولتے نہیں سنا ‘۔

’ سنا تو ہے پر غور کبھی نہیں کیا‘۔۔۔ہم منمنائے۔

موصوف نے زورِ خطابت میں پہلو بدلا تو چہرے کا تاثر بھی بدل گیا۔کہنے لگے : ’ جہاں تک تمھارا دوسرا سوال ہے کہ ’ ناڑے ‘ کے بجائے’ رَسّا ‘کیوں باندھتے ہیں،۔۔۔ تو ذرا غدر کے ہولناکی ذہن میں لاؤ۔ چشم تصور میں مغل شہزادوں کے سروں کو تھال میں سجا اور مولوی باقر کو توپ سے بندھا دیکھو، تمھارا اپنا ’ناڑا ‘ڈھیلا نہ ہو جائے تو کہنا۔پھر تم بھی رَسّا ڈھونڈتے پھرو گے‘۔

اتنے بھاری بھرکم تاریخی حوالے کے بعد قائل ہونا پڑا۔ تاہم بعد میں اہل علم سے معلوم ہوا کہ موصوف کی صوتی تبادل والی بات 100 فیصد درست اور شعر کی تشریح 200 فیصد غلط ہے۔

’ ناڑے ‘ کو ’ کمر بند ‘ بھی کہتے ہیں۔ نستعلیق مزاج رکھنے والے اسے ’اِزار بند‘ پکارتے ہیں، جب کہ اہل ادب کے یہاں ’ بندِ قبا ‘ سے موسوم ہے۔رسا چَغتائی کَہ گئے ہیں:

صرف مانع تھی حیا بند قبا کھلنے تلک

پھر تو وہ جان حیا ایسا کھلا ایسا کھلا

قبل اس کے کہ ذہن بندِ قبا کھلنے کے بعد کے مناظر میں کھو جائے ہم موضوع کو آگے بڑھاتے ہیں۔

’ناڑا‘ جس ’ڈیوائس‘ کی مدد سے راہ پاتا ہے اسے ’ اِزار بند دانی‘ اور ’ناڑے‘ کی گزر گاہ کو ’نیفہ‘ کہتے ہیں۔ ’نیفہ‘ کیوں کہتے ہیں اس کے لیے جنگلی چوہے کے بل تک پہنچنا ہوگا، اس بل کو عربی میں ’ نفق ‘ کہا جاتا ہے۔ چوہا اس بل میں ایک طرف سے داخل ہوتا ہے اور خطرہ محسوس ہونے پر دوسرے رستے سے فرار ہوجاتا ہے ۔

اسی ’نفق‘ کی نسبت سے عربی میں ’ سرنگ ‘ کو بھی ’نفق‘ کہا جاتا ہے کہ بندہ پیدل ہو یا سوار اس میں ایک طرف سے داخل ہوتا ہے اور دوسری طرف نکل جاتا ہے۔

’نفق‘ ہی سے لفظ ’ نفاق‘ بھی ہے۔ جس شخص میں ’ نفاق ‘ پایا جائے اسے ’منافق‘ کہتے ہیں ۔ عربی زبان کے بڑے عالم لکھ گئے ہیں کہ : ’ ایک دروازے سے حلقۂ اسلام میں داخل ہونے اور دوسرے دروازے سے نکل جانے کو نفاق کہتے ہیں‘۔

بات یہاں تک تو سمجھ آگئی مگر الجھن میں اس وقت اضافہ ہوا جب ’ نفاق ‘ کا ہم ریشہ لفظ ’ اِنفاق ‘ نظر سے گزرا۔ کیو نکہ’ اِنفاق ‘ کو ’ نفاق ‘ کے برخلاف مثبت پایا اس لیے حیرت بھی ہوئی۔ کھود کرید پر پتا چلا کہ ’ اِنفاق ‘ کے عمومی معنی خرچ کرنے کے ہیں۔ اور انفاق فی سبیل اللہ کا مطلب ہوا ’ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ‘۔ رہی بات لغوی معنی کی تو ’انفاق‘ کے عمل میں بندے کے پاس ایک طرف سے مال آتا ہے اور جسے وہ دوسری طرف خرچ کردیتا ہے۔

اسی انفاق کے ساتھ ایک لفظ ’ نفقہ ‘ بھی ہے جو ’نان‘ کے ساتھ مزا دیتا ہے اس لیے ’ نان نفقہ ‘ کہلاتا ہے۔ آدمی اپنے گھر والوں پر جو کچھ خرچ کرتا ہے وہ نیکی میں شمار ہوتا ہے اس رعایت سے یہ خرچ ’ نفقہ ‘ کہلاتا ہے ۔

بات ’نیفے‘ سے چلی تو’ نفقے ‘ میں جا اٹکی۔ حق تو یہ ہے کہ ’نیفے‘ کی اصل بھی ’نفق‘ ہی ہے کیونکہ نیفے میں ’ ناڑا ‘ ایک طرف سے داخل ہوتا ہے اور دوسری طرف سے نکل آتا ہے۔اگر نہ نکلے تو آپ گھر سے نہیں نکل سکتے۔

چَغتائی مزاج قارئین چڑھائی کرسکتے ہیں کہ جب ’ نفق ۔ نفاق۔ منافق۔ اِنفاق ‘ وغیرہ میں ’ ق ‘ موجود ہے تو نیفے میں کیوں نہیں؟۔۔۔۔۔۔ اول تو نیفے میں’ ناڑا ‘ہی کافی ہے، خواہ مخواہ ’ ق ‘ کے دخول کی ضرورت نہیں۔۔۔۔دوسری بات یہ کہ عربی میں ’نیفے‘ کو’ نَیْفَقُ ‘ کہتے ہیں جو اردو میں پہنچتے پہنچتے ’ نیفہ ‘ بن گیا ہے۔

کثرت استعمال سے الفاظ کا ’ گِھس ‘ جانا عام ہے۔ ہر زبان اپنے مزاج کے مطابق لفظ کا بوجھل پن دور کرکے اسے سبک اور سلیس بنالیتی ہے۔ چونکہ بات سنجیدہ ہوتی جارہی ہے اس لیے ہم ایک مثال دے کر اجازت چاہیں گے۔

اردو میں عام استعمال ہونے والا فارسی لفظ ’ شاباش ‘ اپنی اصل میں ایک دعائیہ جملہ ’ شاد باش ‘ ہے۔ جس کے معنی ہیں: ’خوش رہو ‘۔ مولانا جلال الدین رومی کَہ گئے ہیں :

’شاد باش‘ اے عشقِ خوش سودا ئے ما

اے طیبِ جملہ علت ہائے ما

’اے ہمارے اچھے جنون والے عشق، ’خوش رہ‘ کہ تو ہی ہماری تمام علتوں اور بیماریوں کا معالج ہے‘۔

Comments

عبدالخالق بٹ

عبدالخالق بٹ

عبدالخالق بٹ گزشتہ دودہائیوں سے قلم و قرطاس کووسیلہ اظہار بنائے ہوئے ہیں۔ وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی سے اسلامی تاریخ میں ایم۔اے کیا ہے۔اردو ادب سے بھی شغف رکھتے ہیں، لہٰذا تاریخ، اقبالیات اور لسانیات ان کے خاص میدان ہیں۔ ملک کے مؤقر اخبارات اور جرائد میں ان کے مضامین و مقالات جات شائع ہوتے رہے ہیں۔