صحافیوں کی طرح ”بکاﺅ مال“ سیاستدان- نصرت جاوید

تحریک انصاف ایک ”نظریاتی“ جماعت ہونے کی دعوے دار ہے۔جولائی 2018ءکے انتخابات جیتنے کے لئے مگر اسے نام نہاد Electablesکی ایک بہت بڑی تعداد کو اپنی صفوں میں خوش آمدید کہناپڑا۔ انتخابی نتائج آنے کے بعد وہ واحد اکثریتی جماعت بن گئی۔ عمران خان صاحب کو وزیر اعظم منتخب کروانے کے لئے لیکن ”آزاد“ حیثیت میں کامیاب ہوئے امیدواروں کی ضرورت محسوس ہوئی۔ چودھریوں کی مسلم لیگ،ایم کیو ایم اور اختر مینگل کی جماعت سے روابط استوار کرنا پڑے۔پنجاب میں عثمان بزدار کو توانا بنانے کے لئے بھی ایسے سمجھوتے لازمی تھے۔ ان سمجھوتوں کی بدولت ہی عمران حکومت نے اپنا پیش کردہ پہلا بجٹ بآسانی منظور کروالیا ہے۔بجٹ کی منظوری کے بعد وہ ہر حوالے سے ایک مستحکم حکومت نظر آرہی ہے۔

عمران حکومت کے مستحکم نظر آنے کا ایک اہم سبب یہ بھی ہے کہ ریاستِ پاکستان کے دائمی ادارے بھی اس حقیقت کو تسلیم کرچکے ہیں کہ پاکستانی معیشت کے استحکام اور بحالی کے لئے ضروری ہے کہ خسارے کے بجٹ بنانے کی علت سے نجات حاصل کی جائے۔زیادہ سے زیادہ پاکستانی اپنے کاروبار کو رجسٹرکروائیں۔ اپنی آمدنی اور خرچ کو آج کے Digitalدور میں دستاویزی صورت میں ریکارڈ کا حصہ بنائیں۔ بجلی اور گیس استعمال کرنے والے کم از کم وہ قیمت ضرور ادا کریں جو حکومت انہیں خرید کر لوگوں کے گھروں تک پہنچنانے کے لئے خرچ کرتی ہے۔

اس ضمن میں لازمی تصور ہوتے اقدامات کو بروئے کار لانے کے لئے IMFنے پاکستان کے لئے ایک طویل المدتی نسخہ تیار کیا ہے۔ اس نسخے کے استعمال کو یقینی بنانے کے لئے IMFکے نامزد کردہ ”طبیب“-ڈاکٹر حفیظ شیخ اور رضاباقر- وزرارتِ خزانہ اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مدارالمہام بنادئیے گئے ہیں۔ ان دو افراد کی زیرنگرانی 39مہینوں تک پھیلے دورانیے میں IMFکا تیار شدہ نسخہ کمیوتھراپی کے Sessionsکی طرح ہماری کینسرزدہ معیشت کی صحت یابی کے لئے استعمال ہونا ہے۔ یہ بات عیاں ہے کہ عالمی معیشت کے IMFجیسے نگہبان ہر صورت یہ چاہیں گے کہ آئندہ 39مہینوں تک عمران حکومت کو غیر مستحکم بنانے کی کوشش نہ ہو۔ مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف دہائی مچاتے ہوئے اس حکومت کو ہنگامہ آرائی کے ذریعے ہٹانے کی کوشش غیر ذمہ دارانہ ٹھہرائی جائیں گی۔

IMFکے علاوہ ٹرمپ کا امریکہ بھی ہے۔ 18برس تک افغانستان میں اربوں ڈالر خرچ کرنے، سینکڑوں امریکی فوجیوں کو مروانے اور ہزاروں کو عمر بھر کے لئے معذور بنانے کے باوجودوہ اس ملک میں اپنی پسند کا ”استحکام“ حاصل نہیں کرپایا۔ ٹرمپ بضد ہے کہ آئندہ ا نتخاب میں اپنی جیت کو یقینی بنانے کے لئے وہ افغانستان سے اپنی افواج کو باہر نکال لے۔ افغانستان سے مگر ٹرمپ اس انداز میں باہر نہیں آنا چاہتا جیسے نکسن ویت نام سے باہر آیا تھا۔ نکسن کی ویت نام سے واپسی امریکہ کی ذلت آمیز شکست ثابت ہوئی تھی۔ اس ”شکست“ کی تلافی کو کئی برس لگے۔سوویت یونین نے دسمبر1979میں افغانستان میں اپنی افواج داخل کرتے ہوئے امریکہ کے لئے ایک مناسب ماحول فراہم کر دیا۔ صدر ریگن اور سی آئی اے نے افغانستان میں کمیونسٹ افواج کو مجاہدین کے ذریعے زچ کرتے ہوئے ویت نام کا بدلہ لے لیا۔ ٹرمپ افغانستان سے نکسن کی طرح ذلت آمیزانداز میں واپس آنے کو تیا رنہیں۔

اپنے مشیر خاص زلمے خلیل زاد کے ذریعے طالبان سے مذاکرات کرتے ہوئے ایسے معاہدے کی تلاش میں ہے جو امریکی افواج کی افغانستان سے ”باعزت“ واپسی کو یقینی بنائے۔ شنید ہے کہ ممکنہ معاہدے کے بنیادی خدوخال طے ہوچکے ہیں۔ امریکہ چاہتا ہے کہ اس کی افواج افغانستان سے یکدم نکلنے کے بجائے تین برسوں میں مرحلہ وار واپس آئیں۔ طالبان کا اصرار ہے کہ واپسی کا دورانیہ دوبرس سے زیادہ نہ ہو۔ امریکہ اس پررضامند ہوگیا تو اس کی جانب سے ”قابض افواج“ کی واپسی کے ٹائم ٹیبل کے اعلان کے بعد طالبان سیزفائر کا اعلان کردیں گے۔ سیزفائر کے اعلان کے بعد مگر افغانستان میں امن کی بحالی کےلئے مذاکرات کے ایک اور طویل دور کا آغاز ہوگا۔ ان مذاکرات کے ذریعے طالبان اور افغانستان کے دیگر سیاسی فریق یہ طے کریں گے کہ امریکی افواج کی عدم موجودگی میں ملک کا نظام کیسے چلایا جائے۔ اس ملک کو ”امارات“ کہا جائے یا ”جمہوریت“۔ افغانستان کے سربراہ”امیر“ ہو یا ”صدر“۔ اس ”امیر“ یا ”صدر“ کا انتخاب کیسے ہو۔

میری دانست میں مذاکرات کا یہ دور بہت ہی پیچیدہ اور گھمبیر ہوگا۔افغان عموماََ اپنے معاملات میں لچک دکھانے کے عادی نہیں۔افغانستان میں عمل کی بحالی کے لئے مگر حیران کن سمجھوتوں پر آمادگی ضروری ہے۔ افغانستان کے معاملات سے جڑے فریق لچک پر آمادہ نہ ہوئے تو یہ ملک ایک خوفناک خانہ جنگی میں مبتلا ہوجائے گا اور ممکنہ خانہ جنگی 1990کی دہائی کے دنوں میں جاری خانہ جنگی سے کہیں زیادہ خوں ریز ہوسکتی ہے۔ افغانستان میں ٹرمپ کو اپنی پسند کا منظرنامہ بنانے کے لئے پاکستان کے تعاون کی شدید ضرورت ہے۔ اسی باعث وہ 22جولائی کو وزیر اعظم عمران خان کو وائٹ ہاﺅس میں ایک ملاقات کے لئے بلانے پر مجبور ہوا۔

عمران حکومت کے ”استحکام“ کی جانب لوٹتے ہوئے ہمیں ذہن میں رکھنا ہوگا کہ IMFکو اپنے نسخے کے اطلاق کےلئے 39مہینے درکار ہیں۔ ٹرمپ کو افغانستان سے اپنی افواج کو بتدریج واپس لانے کےلئے تقریباََ اتنا ہی عرصہ درکار ہے۔ مختصراََ یوں کہہ لیجئے کہ ٹرمپ اور IMFباہم مل کر آئندہ تین برسوں میں پاکستان میں کوئی ”انہونی“ برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ فی الوقت ٹھوس وجوہات کے سبب وہ عمران حکومت کو مستحکم اور توانا دیکھنا چاہ رہے ہیں۔

عمران حکومت کو اپنی مذکورہ Edgeکا بھرپور ادراک ہے۔ اسی باعث وہ ”چوروں اور لٹیروں“ کو کوئی رعایت دینے کو تیار نہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر ان شاہ خرچیوں کا ذکر کیا جارہا ہے جن کی بدولت تحریک انصاف کی حکومت IMFسے ایک ایسا معاہدہ کرنے پر مجبور ہوئی جو کینسر کے مریض کےلئے کمیوتھراپی جیسا تکلیف دہ ہے۔ حکومت کے پاس فی الوقت مہنگائی، بےروزگاری اور کساد بازاری کے مداوے کا فوری بندوبست میسر نہیں۔ لوگوں کو محض یہ دکھاتے ہوئے ہی تسلی دے سکتی ہے کہ کم از کم وہ ماضی کی حکومتوں میں شاہ خرچیاں کرنےوالے افراد کو معاف کرنے کو ہرگز تیار نہیں۔ نواز شریف آصف علی زرداری، خواجہ سعد رفیق اور حمزہ شہباز جیلوں یا نیب کی قید میں ہیں۔ شہباز شریف اور ان کا خاندان اب منی لانڈرنگ جیسے سنگین جرائم کا عادی ہوا دکھایا جارہا ہے۔ رانا ثناءاللہ ایک سیاست دان نہیں”ہیروئین فروش“ ہونے کے باعث گرفتار ہوئے ہیں۔

راناثناءاللہ کی بطور ”ہیروئین فروش“ گرفتاری نے اپوزیشن کے کئی اراکین اسمبلی اور سینٹ کو دہشت زدہ کردیا ہے۔ ان کی صفوں میں پھیلی سراسیمگی کا احساس مجھے منگل کے دن پارلیمان جاکر ہوا۔ ویسے تو قومی اسمبلی کا اجلاس جاری تھا مگر ایوان کی راہداریوں میں جاری سرگوشیاں یہ طے کرنے میں مصروف تھیں کہ سینٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے پیش ہوئی تحریک عدم اعتماد منظور ہوجائے گی یا نہیں۔

اصولی طورپر یہ سوال اٹھانا ہی احمقانہ محسوس ہوتا ہے کیونکہ اپوزیشن کی جماعت کو ایوانِ بالا میں واضح اکثریت حاصل ہے۔ اس نظر آتی ہوئی ”ٹھوس اکثریت“ کے باوجود پارلیمانی رپورٹروں کی اکثریت کو یقین تھا کہ حکومت نے صادق سنجرانی کے خلاف پیش ہوئی تحریک عدم استحکام کو ناکام بنانے کے لئے ا پنے ”نمبر“ پورے کرلئے ہیں۔

عمران حکومت کے استحکام کی تمام وجوہات گنواتے ہوئے ایمانداری سے سوچ رہا ہوں کہ تحریک انصاف کو ان تمام تر وجوہات کے ہوتے ہوئے ایک ”نظریاتی جماعت“ ہونے کی دعویداری کے باوجود ”نمبرپورے“ کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔ کہیں یہ ثابت کرنا تو مقصود نہیں کہ تمام سیاستدان صحافیوں کی طرح ”بکاؤمال“ ہوتے ہیں۔ فرض کیا یہ ثابت ہو بھی گیا تو ان سیاست دانوں اور صحافیوں کے بارے میں عمومی تاثر کیا ہوگا جو ان دنوں دل وجان سے تحریک انصاف کی حمایت میں ڈٹ کرکھڑے ہیں؟