بشیرے کی کہانی- عطا ء الحق قاسمی

وہ ایک بڑے شاپنگ پلازہ میں کام کرتا تھا۔ گھر کے قریب ہونے کی وجہ سے میں شاپنگ کے لئے اکثر اسی پلازہ پر جایا کرتا تھا۔ اس کا مالک بھی میرا دوست تھا، یہ اچھا آدمی تھا۔ اس کے ملازم کا نام بشیر تھا لیکن سب اسے بشیرا بشیرا کہتے تھے۔ وہ وہاں ہیلپر تھا، جوان ہونے کے باوجود اس کے چہرے پر زردی سی چھائی رہتی تھی۔ وہ ایک انتہائی صابر و شاکر نوجوان تھا۔ میں جب رسمی طور پر اس کا حال پوچھتا تو وہ جواب میں کہتا ’’اللہ کا شکر ہے، بہت اچھی گزر رہی ہے‘‘ اور لگتا تھا وہ یہ جملہ دل کی گہرائیوں سے ادا کر رہا ہے، جب کبھی پلازے کا مالک بھی پلازے کے ’’دورے‘‘ پر ہوتا تو وہ اسے میرا خریدا ہوا سامان میری گاڑی میں رکھنے کے لئے کہتا اور ایسا کرنے کے بعد وہ فوراً واپس جانے کی کرتا چنانچہ میں ہمیشہ اسے رکنے کے لئے کہتا اور ٹپ کے طور پر کچھ رقم ادا کرتا، مجھے یہ صابر و شاکر اور خود دار نوجوان اچھا لگنے لگا تھا۔

ایک دن وہ شاپنگ شاپ پر اکیلا تھا اور مجھے بھی واپس جانے کی کوئی جلدی نہ تھی، میں نے اُس سے پوچھا ’’سنا بھئی بشیرے کیسی گزر رہی ہے؟‘‘ اس کے چہرے پر اس کی سدا بہار مسکراہٹ پھیل گئی اور اس نے پورے یقین سے اپنا معمول کا جملہ دہرایا ’’اللہ کا شکر ہے جی بہت اچھی گزر رہی ہے‘‘۔ میں نے اس سے شادی کے بارے میں دریافت کیا تو اس نے شرماتے ہوئے کہا ’’جی پچھلے برس میری شادی ہوئی ہے اب خیر سے میری ایک بچی بھی ہے‘‘۔ میں نے پوچھا ’’تمہاری تنخواہ کتنی ہے؟‘‘ بولا ’’دس ہزار‘‘ میں نے پوچھا ’’اس میں گزارا کیسے ہوتا ہے‘‘۔ بولا ’’جناب میں لوگوں کی شاپنگ ان کی گاڑی تک چھوڑنے جاتا ہوں ان میں سے اکثر خاصی ٹپ دیتے ہیں اور یوں تنخواہ سمیت ملا کر تیس ہزار کے قریب ہو جاتے ہیں۔ میرا چھوٹا سا گھر ہے جس کا کرایہ پندرہ ہزار روپے ہے۔ باقی پندرہ ہزار میں گھر چلاتا ہوں۔ اللہ کا شکر ہے جی، کوئی مسئلہ نہیں‘‘۔ اس نے جو بجٹ بنا کر دکھایا اس پر مجھے اپنی مالی آسودگی بری لگنے لگی مگر وہ ہر جملے کے بعد اللہ کا شکر ہے جی کہتا جاتا تھا۔

اس کی اس قناعت پسندی پر میرا دماغ پھٹنے والا ہو گیا تھا، میں نے کہا ’’بشیرے جب تم سارا دن کام سے تھکے ماندے گھر پہنچتے ہو تو کیا تمہارا جی نہیں چاہتا کہ تم اپنی بیوی اور بچی کو لے کر باہر جاؤ یا تم لوگوں کی ساری تفریح صرف یہ ہے کہ تمہاری عدم موجودگی میں تمہاری بیوی ٹی وی دیکھتی رہتی ہے اور واپس گھر جاکر تم بھی بیوی کے ساتھ ٹی وی کے سامنے بیٹھ جاتے ہو‘‘۔ اس پر اس نے ہنس کر کہا ’’ہمارے گھر میں کوئی ٹی وی نہیں ہے جی، ہم میں بہت محبت ہے ہم بس ایک دوسرے کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں‘‘۔ یہ سن کر اللہ جانے میرے دل پر کیوں چوٹ سی لگی، میں خاموش ہوگیا۔

بڑے سائز کا نیا ٹی وی خریدنے کے بعد پرانا ٹی وی میرے پاس بیکار پڑا تھا اگلے دن میں نے اسے گاڑی میں رکھا اور بشیرے کی شاپ پر گیا، اسے باہر بلا کر میں نے ٹی وی اس کے سپرد کیا تو وہ سوالیہ انداز میں میری طرف دیکھنے لگا۔ میں اس کی الجھن سمجھ گیا میں نے کہا ’’یہ میری طرف سے تحفہ ہے تم نے اس کے لئے کچھ ادا نہیں کرنا‘‘ میں نے محسوس کیا کہ فرطِ مسرت سے اس کا چہرہ سرخ ہو گیا ہے، کچھ دیر تک اس سے بولا نہ گیا، پھر وہ اس وقت تک میرا شکریہ ادا کرتا رہا جب تک میں نے اسے مزید شکریہ ادا کرنے سے روک نہیں دیا‘‘۔

میری ایک بہت عجیب عادت ہے اور وہ یہ کہ میں جب کسی پر مہربان ہوتا ہوں تو پھر ہوتا ہی چلا جاتا ہوں ۔ اب بشیرا میرے اس ’’مہربان رویے‘‘ کی زد میں آگیا تھا۔ ایک دن میں نے سوچا کہ ہمارے ہاں اب ہر کوئی موبائل فون اٹھائے پھرتا ہے حتیٰ کہ ایک خاکروب ایک گٹر سے دوسرے گٹر میں موجود خاکروب سے بات کررہا ہوتا ہے مگر بیچارا بشیرا جدید دور کی اس سہولت سے محروم ہے۔ میرے پاس ایک پرانا موبائل بیکار پڑا تھا وہ میں نے بشیرے کو دے دیا، اس کا معاوضہ بشیرے کی بے پناہ مسرت کی صورت میں مجھے ملا۔ اسی طرح گرمیوں کے موسم میں میں نے اسے ایک سستا سا ڈیزرٹ کولر بنوا دیا اور اس نوع کا سلسلہ بہت دیر تک جاری رہا۔

اس دوران مجھے دو سال کے لئے ملک سے باہر جانا پڑا۔ میں واپس آیا تو بشیرے سے ملنے اس کے پلازہ والی شاپ پر گیا مجھے یقین تھا کہ زندگی کی بیشتر ضروریات کے حصول کے بعد اب اس کی زندگی آسان ہو گئی ہو گی اور یوں میں پہلے سے زیادہ خوش و خرم بشیرے کا چہرہ دیکھنا چاہتا تھا مگر بشیرا وہاں نہیں تھا، اتفاق سے پلازہ کا مالک اس روز وہیں تھا میں اس کے پاس گیا اور پوچھا ’’بشیرا کہاں ہے؟‘‘ مالک نے کہا ’’اس کے اخراجات اتنے زیادہ ہو گئے تھے کہ قلیل آمدنی میں پورے نہیں ہو سکتے تھے، اس نے قسطوں پر موٹر سائیکل بھی خریدی اور اسی طرح دوسری چیزیں بھی وہ گھر لاتا رہا، وہ چھوٹا موٹا جوا بھی کھیلنے لگا تھا، ا س نے اپنا گھر بھی بدل لیا تھا، اس نے اپنے جاننے والوں سے باری باری قرض لیا۔ جب زیادہ عرصے تک لوگوں کو اپنا دیا ہوا قرض واپس نہ ملا تو انہوں نے اس کا جینا حرام کر دیا اور یوں اس کی پریشانی عروج پر پہنچ گئی۔ وہ میری اس شاپ میں بھی ہیر پھیر کرنے لگا تھا، چنانچہ میں نے اسے ملازمت سے برطرف کردیا‘‘۔

مجھے یوں لگا جیسے میرے جسم میں جان نہ رہی ہو، میں نے ہکلاتے ہوئے پوچھا ’’پھر کیا ہوا؟‘‘ وہ بولا ’’پرسوں اس نے پنکھے کے ساتھ لٹک کر خود کشی کرلی ہے آج اس کے قل ہیں، میں تھوڑی دیر بعد وہیں جارہا ہوں‘‘۔