بنی گالہ کی جائیداد کیسے خریدی گئی

الیکشن کمیشن کی جانب سے اراکین پارلیمان کے اثاثوں کی تفصیلات جاری کرنے کے بعد ایک بار پھر وزیر اعظم عمران خان کی 300 کنال بنی گالہ اراضی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ عمران خان نے اپنے گوشواروں میں لکھا ہے کہ بنی گالہ کی جائیداد ان کو تحفہ میں ملی اور اسی وجہ سے انہوں نے اس کی قیمت اپنے گوشواروں میں ظاہر نہیں کی۔

وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے الیکشن کمیشن میں جمع کرائی گئی معلومات پر نظر ڈالیں تو وہاں پھر بھی عمران خان نے بنی گالہ جائیداد کو تحفہ ظاہر کیا ہے۔ سال 2015 اور 2016 کے گوشواروں میں جائیداد کی موجود مالیت کا خانہ بھی شامل تھا جس میں عمران خان نے بنی گالہ جائیداد کی موجودہ مالیت 75 کروڑ ظاہر کی تھی مگر اسے تحفہ ہی ظاہر کیا تھا۔

اگر عمران خان کی جانب سے اس جائیداد کو ہمیشہ سے تحفہ ہی دکھایا گیا ہے تو پھر ایک بار پھر بنی گالا جائیداد کو تحفہ کہنے پر سوالات کیوں اٹھائے جا رہے ہیں؟ اس کی وجہ عمران خان کے ماضی میں اپنے بیانات اور سپریم کورٹ میں ان کی طرف سے اپنایا گیا موقف اور پیش کی گئی تفصیلات ہیں؟

بنی گالہ کی جائیداد کیسے خریدی گئی
بنی گالہ جائیداد کی کہانی سپریم کورٹ میں حنیف عباسی کی طرف سے عمران خان کے خلاف دائر کیس سے واضح ہوتی ہے۔ کیس کی سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان نے بنی گالا جائیداد اپنی فیملی کے لیے خریدی۔ بنی گالا کی قیمت خرید عدالتی فیصلے کے مطابق 2002 میں چار کروڑ اور 35 لاکھ روپے تھی۔ عمران خان نے جائیداد خریدنے کے لیے اپنے لندن میں فلیٹ کو بیچنے کی کوشش کی مگر معاملہ عدالتی معاملات کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوا۔ اس بیچ جائیداد کی خرید کے لیے عمران خان 65 لاکھ روپے خود سے ادا کر چکے تھے۔ مزید ادائیگیوں کے لیے عمران خان نے جمائما خان سے رجوع کیا جس پر جمائما نے باقی ماندہ تین کروڑ، 62 لاکھ روپے فراہم کیے۔

یہ بھی پڑھیں:   ن لیگ کہاں ہے؟ ن لیگ تھی کہاں؟ آصف محمود

عمران خان اور جمائما گولڈسمتھ کے موقف میں تضادات
ماضی میں عمران خان کے بنی گالہ پر مختلف موقف عمران خان کے لیے مشکلات کا باعث بنے ہیں۔ 5 نومبر، 2011 کو دنیا نیوز پر صحافی نسیم زہرہ کے انٹرویو میں عمران خان نے موقف اپنایا کہ انہوں نے بیوی سے پیسے ادھار لے کر زمین خریدی، جب طلاق ہوئی تو انہوں نے لندن کا فلیٹ بیچ کر جمائما کو پیسے واپس کیے جس پر انہیں گھر گفٹ کر دیا گیا۔ 6 دسمبر، 2016 کو صحافی مہر بخاری کو انٹرویو میں بھی عمران خان نے یہی موقف دہرایا اور کہا کہ جمائما نے جائیداد اس لیے خریدی کیونکہ ان کے پاس جائیداد خریدنے کے لیے پورے پیسے نہیں تھے۔

عمران خان نے سپریم کورٹ میں قانون موقف اپناتے ہوئے کہا کہ یہ جائیداد انہوں نے اپنی اہلیہ جمائما اور بچوں کے لیے خریدی اور اگر طلاق نہ ہوتی تو قوی امکان تھا کہ جائیداد انہی کے نام پر رہتی۔ جہاں عمران خان ہمیشہ سے کہتے آئے ہیں کہ انہوں نے جمائما سے پیسے لے کر جائیداد ان کے نام پر خریدی، وہیں سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی تفصیلات میں تضاد سامنے آیا جب عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے بتایا کہ جائیداد کی قیمت کا کچھ حصہ (73 لاکھ روپے) عمران خان نے اپنی جیب سے ادا کیا۔ 73 لاکھ میں سے 65 لاکھ روپے جائیداد کی پہلی دو ادائیگیاں تھی۔ عمران خان کا جائیداد کے لیے 73 لاکھ روپے خود سے ادا کرنے کے باوجود اسے تحفہ کہنے پر سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔

عمران خان کے علاوہ جمائما کے بیانات میں بھی تضاد سامنے آیا ہے۔
جمائما کی طرف سے 21 ستمبر 2004 کی دستخط شدہ پاور آف اٹارنی کے مطابق عمران خان نے بنی گالہ جائیداد جمائما کے نام پر بے نامی کروائی۔ جہاں جمائما بنی گالہ کی جائیداد کو بے نامی کہہ رہی ہیں وہیں عمران خان کو جائیداد کو تحفہ کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک اور واضح تضاد ماضی میں بھی سامنے آیا تھا جس پر بعد میں جمائم کو وضاحت بھی کرنا پڑی تھی۔ 5 دسمبر، 2011 کو انہوں نے ٹویٹ کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ عمران خان نے ان سے آج تک کبھی پیسے نہیں لیے۔

یہ بھی پڑھیں:   فارن فنڈنگ کیس، کیا عمران خان نا اہل ہو سکتے ہیں؟ آصف محمود

اس ٹویٹ کے بعد عمران خان کے مؤقف پر سوالات اٹھائے جانے لگے کیونکہ ان کے مطابق بنی گالہ جائیداد کے لیے انہوں نے جمائما سے پیسے لیے تھے۔ اس ٹویٹ کے چھ گھنٹے کے بعد جمائما کو ایک اور ٹویٹ کر کے وضاحت جاری کرنا پڑی کہ پہلے انہوں نے عمران خان کو اپنے گھر [بنی گالہ جائیداد] کے لیے پیسے دیے اور جب عمران خان نے لندن فلیٹ بیچا تو انہوں نے پیسے واپس کر دیے۔

بنی گالہ جائیداد تحفہ یا بے نامی تھی؟
اس سوال کا جواب سپریم کورٹ نے اپنے 15 دسمبر 2017 کے فیصلے میں دیا ہے۔ فیصلے کے مطابق کیونکہ جمائما جائیداد کی مالکن تھی اس لیے وہ جائیداد عمران خان کو تحفہ کر سکتی تھیں۔ اس وجہ سے جمائما کی پاور آف اٹارنی میں بے نامی کا لفظ دھوکے سے زیادہ غلط فہمی کا نتیجہ لگتا ہے۔ فیصلے میں مزید وضاحت کی گئی ہے کہ جمائما کی بنی گالہ جائیداد کی منتقلی سے متعلق نیت واضح ہے جس سے ایک امکان یہ ہے کہ بے نامی کا لفظ جائیداد کی منتقلی کو بغیر کسی تاخیر کے کرنے کے لیے کیا گیا ہو۔

(بشکریہ انڈیپینڈنٹ)