عمران ٹرمپ ملاقات اور پاکستانی امریکیوں کی اہمیت - محمد فاروق بھٹی

بڑا اہم ہے مرحلہ ہے سفارتکارانہ مہارتوں کا۔ گمان غالب یہی ہے کہ ہمارا فارن آفس بھر پور تیاریوں میں ہوگا۔ بقول وزیر ریلوے ٹرمپ اور عمران ایک ہی مزاج کے لوگ ہیں، اللہ خیر کرے۔ نئے منظر نامے بڑی تیزی سے ترتیب پا رہے ہیں، عمران خان کی انگریزی بہت اچھی ہے اور وہ نوٹس دیکھ کر پڑھنے کو ایک کمتر عمل خیال کرتے ہیں حالانکہ سفارتکاری میں سربراہان کی ملاقات کے مرحلے تک آتے آتے بیک ڈور میں کئی معاملات طے کیے جا چکے ہوتے ہیں۔ کیا بات کرنی ہے؟ کیوں کرنی ہے اور کیا نتائج اخذ کرنے ہیں؟ یہ مخلص، دیانتدار، وفا شعار، تجربہ کار اور زیرک سفارتکار پہلے سے طے کر چکے ہوتے ہیں۔

نوٹس دیکھ کر پڑھنا یا فی البدیہہ گفتگو کرنا کوئی کارِ ندامت نہیں۔ جب آپ نے اچھا ہوم ورک کیا ہو، آپ نے زمینی حقائق اور اپنی خواہشات کا حقیقی تجزیہ کیا ہو، جب آپ نے مدمقابل کپتان کی شخصیت، اس کی کمزوریوں اور رجحانات کا جامع مطالعہ کیا ہو، جب آپ نے اپنے کارڈز کی سٹرنتھ دیکھی ہو، جب آپ نے اپنی ترجیحات اور امیج کا ادراک حاصل کر لیا ہو، جب آپ نے دوسرے ملک میں بسنے والے اپنے ہم وطنوں کا بھی اعتماد حاصل کر لیا ہو، اور جب آپ نے نیت اور مہارت کو باہم سنکرونائز کر لیا ہو، تو خدا سے مدد مانگیں۔ اس نیت و اخلاص کے ساتھ جو اللہ کے نبی حضرت محمد صلی اللہ و علیہ وسلم نے غزوہ بدر سے پہلی رات میں مانگی تھی۔ جب معاملہ قوم کا ہو تو آنسو بھی پیش کر دیں۔

اس مجبور، مقہور، مقروض و مظلوم قوم کی قیادت اخلاص سے، مہارت سے، تکنیکی سفارت کاری سے، خود اعتمادی سے کرنا ہوگی۔ یہ وہ قوم ہے جس نے 1979ء سے اب تک قربانیاں ہی دی ہیں۔ اپنے بہادر سپوتوں کی، معصوم شہریوں کی قربانی، اپنے مال و وسائل کی قربانی، اپنے تعلقات کی قربانی، اپنی تیز ترین ترقی کی قربانی۔ تب بھی Thank You Pakistan کے بجائے Do More ہی سنا ہے۔ ہمارے 28000 سے زائد پاکستانی ڈاکٹرز عرصہ دراز سے امریکی مریضوں کو پیغام شفا دے رہے ہیں، ہمارے 17000 سے زائد پاکستانی انجینئرز اور آئی ٹی ایکسپرٹس امریکی معاشرے کی خدمت پر کمربستہ ہیں، ہمارے لاکھوں پاکستانی آج بھی امریکی معاشرے میں اپنا مثبت، پرامن، پروگریسوو کردار ادا کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا کشمیر بارے موددی کا غرور ٹوٹ گیا؟ میر افسر امان

ان پاکستانیوں کو سیاسی، سماجی، مسلکی، علاقائی، لسانی یا صوبائی بنیادوں پر تقسیم مت کریں۔ وزیراعظم پاکستان کے اس دورے کے موقع پر دھڑے بندیوں سے بالاتر ہو کر بطور محبِ وطن پاکستانی امریکن اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ کریں۔ میری رائے میں کمیونٹی لیڈرز کو پاکستانی سفارتکاروں کے ذریعے اعتماد میں لیکر ان کی خدمات حاصل کی جانی چاہیے تاکہ بہترین نتائج حاصل کیے جا سکیں کیونکہ امریکی معاشرے، سیاست اور معیشت کو ان سے بہتر لابنگ فرمز نہیں جان سکتیں۔