لاہور کے ایک سکھ ڈاکٹر کی حیران کن کہانی - موسیٰ مجاہد

خوش اخلاق ہونا ایک ایسی نعمت ہے جو نہ صرف دلوں کو جیت لیتی ہے بلکہ روح کو بھی فتح کر لیتی ہے۔ یہی خوبی کسی فرد میں انسانیت کو جانچنے کا پیمانہ بھی ہے۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ معالج کو خوش اخلاق مسیحا کے روپ میں دیکھنا چاہتا ہے۔

ایک ڈاکٹر کے اہل ہونے سے زیادہ ضروری ہے کہ وہ اہل دل ہو، اگر ایسا ہے تو وہ مریض کی دلجوئی کرے گا، مریض کے سوالات پر غصہ نہیں ہوگا، ایک کم تعلیم یافتہ انسان کے لیول پر آ کر بات کرے گا اور اس کے نتیجے میں ایک ڈاکٹر سر بلند ہوگا۔

ڈاکٹر ممپال سنگھ بچوں کے ڈاکٹر ہیں اور عرصہ دراز سے شادباغ میں سردار کلینک کے نام سے ایک ادارہ چلا رہے ہیں۔ اس کلینک کی اہم خوبی یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب سمیت تمام عملہ انتہائی خوش اخلاق ہے۔ السلام علیکم کا جواب وعلیکم السلام اور اس کے بعد "ویر جی" کے الفاظ میں ایک ایسی اپنائیت کا احساس ہوتا ہے جو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ ڈاکٹر صاحب سے جب بھی کچھ پوچھا ان کا انداز ایسا ہوتا ہے کہ جیسے وہ استاد ہیں اور میں میڈیکل کا طالب علم۔ شہد، کھجور، انجیر، زیتون اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پسندیدہ تمام چیزوں کے خواص سے بخوبی آگاہ ہیں۔

ڈاکٹر ممپال سنگھ سے رابطہ گزشتہ دس سالوں سے ہے۔ بچے بھی بیماری میں ڈاکٹر صاحب کے پاس ہی جانا چاہتے ہیں۔ کبھی کسی اور ڈاکٹر کے پاس جانے کا اتفاق ہوا بھی تو مزید مشورہ ڈاکٹر صاحب سے ہی ہوتا ہے کہ ڈاکٹر تو وہی ہے جس کی بات سے تسلی ہو جائے۔

ڈاکٹر صاحب سے رابطے کے بعد نت نئے تجربات ہوئے اور معلومات میں اضافہ بھی۔ معاشرے میں عام تاثر یہی ہے کہ ہم ڈاکٹر کے پاس دوائی لینے جاتے ہیں اور دوائی انجیکشن کے بغیر نامکمل ہوتی ہے۔ گلوکوز/ نارمل سیلائن ڈرپ جادوئی اثر کی حامل چیز ہے، گلی گلی میں لیبارٹریز کھل چکی ہیں یہ ٹیسٹ وہ ٹیسٹ۔ جہاں بے دریغ اینٹی بائیوٹک کا استعمال ہے، وہاں اسے انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر خیال کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ کچھ بھی ہو اینٹی بائیوٹک سے دور رہنا ہے۔

لیکن ایسا نہیں ہے ڈاکٹر کے پاس ہم مشورے کے لیے جاتے ہیں کہ کیا ہم بیمار ہیں؟ کیا ہمیں فوری دوا کی ضرورت ہے یا کچھ دن انتظار کرنا چاہیے؟ کیا ہمیں کسی اینٹی بائیوٹک کی ضرورت ہے یا نہیں؟ جو انجیکشن ہمیں لگایا جارہا ہے کیا اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں؟ کیا ہمیں گلوکوز ڈرپ کی ضرورت ہے؟

ڈاکٹر صاحب ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ جسم کی قوت مدافعت کو ضرور موقع دیں۔ اگر ایمرجنسی نہیں ہے تو کم از کم تین دن انتظار کریں، فوری ڈاکٹر کے پاس نہ آئیں۔ اکثر مسائل رب کے بنائے ہوئے نظام سے خود بخود حل ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح جب دوا شروع کر لیں تب بھی انتظار کریں کہ دوا اپنا کام کرسکے۔ دوا کو دوا ہی سمجھا جائے، جادو نہیں۔

اینٹی بائیو ٹیکس کا غیر ضروری استعمال درست نہیں۔ وائرل بیماریاں جیسے نزلہ ، لاکڑا کاکڑا، ڈینگی بخار ، پیلا یرقان وغیرہ میں اینٹی بائیوٹکس کا کوئی رول نہیں، لیکن جب ان کی ضرورت ہو تو لازمی استعمال ہونی چاہییں۔ غیر ضروری انجیکشن سے پرہیز کریں۔ اس وقت پاکستان غیر ضروری انجیکشن، گلوکوز ڈرپ اور اینٹی بائیوٹک استعمال کرنے والے ممالک میں سرفہرست ہے، عام طور پر مریض کو گلوکوز ڈرپ کی ضرورت نہیں ہوتی۔

ڈاکٹر صاحب انجیکشن کبھی کبھار ہی لگاتے ہیں۔ الحمدللہ دس سالوں میں نہ کبھی گلوکوز ڈرپ اور نہ ہی کوئی لیب ٹیسٹ تجویز کیا۔ کبھی اس طرح بھی ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ بچہ بالکل ٹھیک ہے، اسے کسی دوا کی ضرورت نہیں اور فیس واپس لے لیں۔

تقریباً پانچ سال قبل بیٹے نے گول مقناطیس کا ایک ٹکڑا نگل لیا۔ جلدی جلدی کوٹ خواجہ سعید ہسپتال گئے، ایکسرے کیا گیا، مقناطیس پیٹ کے نچلے حصے میں نظر آ رہا تھا۔ ایمرجنسی میں موجود ڈیوٹی ڈاکٹر نے میو ہسپتال جانے کو کہا۔ میں نے پوچھا کوئی مسئلہ تو نہیں ہوگا تو اس اللہ کے بندے نے کہا کچھ نہیں کہہ سکتا۔ میں تسلی کے دو لفظ سننا چاہتا تھا لیکن ڈاکٹر نے جیسے منہ پر ٹیپ لگا لی۔ ہم میو جانے لگے تو اچانک ڈاکٹر صاحب کا خیال آیا، ان کے کلینک چلے گئے، کلینک ابھی بند تھا، پریشانی کی حالت میں ہم میاں بیوی بچے کو لے کر فٹ پاتھ پر ہی بیٹھ کر انتظار کرنے لگے۔ ڈاکٹر صاحب آئے، ایکسرے دیکھا، بچے کا پیٹ چیک کیا اور بولے پیٹ کے جس حصے میں مقناطیس پہنچ چکا ہے، پاخانے کے راستے باہر نکلنا یقینی ہے اور یہ نوکیلا بھی نہیں، چپ کر کے گھر جائیے۔ کسی دوا کی ضرورت نہیں، اگلی صبح ایسا ہی ہوا مقناطیس پاخانے کے ذریعے نکل گیا۔

گزشتہ دنوں بیٹے کو پیلا یرقان ہوا۔ آغاز میں بخار تھا۔ میں نے کہا کوئی اینٹی بائیوٹک تجویز کر دیں، لیکن ڈاکٹر صاحب نے انکار کر دیا۔ اگلے دن بخار مزید شدت اختیار کر گیا تو ہم دوبارہ چلے گئے۔ پھر مزید اصرار کہ اب تو کوئی اینٹی بائیوٹک دے ہی دیجیے۔ ڈاکٹر صاحب کہنے لگے جو دوا میں اپنے بچوں کے لیے پسند نہیں کرتا، وہ کسی دوسرے کے بچے کے لیے کیسے تجویز کر سکتا ہوں؟ آپ مزید انتظار کریں۔

سردار کلینک شادباغ کے لوگوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ بس ایک مسئلہ ہے کہ اب ڈاکٹر صاحب کے پاس بہت رش ہو گیا ہے۔ اپوائنٹمنٹ لینا مشکل ہو گیا ہے۔