تعبیر دین اور ہم عصر رویے! محمد عرفان ندیم

دین کی تعبیرات ہر دور میں مختلف رہی ہیں۔ دین کا کوئی ایسا حکم جو کسی وقت میں ممنو ع ہو، عین وہی حکم کسی دوسرے عہد میں مباح بلکہ مستحب ٹھہرتا ہے۔ یہ تو دو عہد وں کی بات ہے۔ بسا اوقات ایک ہی عہد میں، کسی ایک علاقے میں ایک حکم ممنوع اور دوسرے علاقے میں جائز ٹھہرتا ہے۔ یہ امر باعث حیرت نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اللہ نے شرائع کے نزول میں سوسائٹی کے مالوفات اور عرف و رواج کا خیال رکھا ہے۔ شاہ ولی اللہ نے حجۃ اللہ البالغہ میں اس موضوع کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ فقہ حنفی میں، دیگر آئمہ کی نسبت جو توسع موجود ہے، اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ امام صاحب نے عرف و رواج اور استصحاب حال جیسے ماخذات کو فقہی احکام کی بنیا د ٹھہرایا ہے۔
دین کی تعبیر میں اصل کام شارح کا ہوتا ہے۔ شارح جب کسی حکم شرع کی تفصیل یا وضاحت کر تا ہے تو ایسا ممکن نہیں کہ اس کی نفسیات اور مزاج کا عنصر دین کی اس تعبیر میں شامل نہ ہو۔ روح عصر سے شناسائی شارح دین کے منصب کا بنیادی تقاضا ہے۔ شارح کا مزاج، دین سے وابستگی، تعلق مع اللہ، محبت و اطاعت رسول، زمینی حقائق کا ادراک اور اپنے عصر کی علمیات کا بنیادی علم، یہ تمام عناصر تعبیر دین میں بنیادی کر دار ادا کرتے ہیں۔ امام مالک کسی مسئلے میں تعامل اہل مدینہ کو، دیگر ماخذات پر ترجیح دیتے تھے کیونکہ نبی اکرم کی زندگی کا اہم حصہ مدینہ میں گزرا تھا، اس لیے امام مالک کے نزدیک اہل مدینہ کو یہ تفوق حاصل تھا کہ ان کے تعامل کو ترجیح دی جائے۔

امام ابوحنیفہ کا حال البتہ مختلف تھا، وہ ایک تاجر تھے اور مارکیٹ اور زمانے کے حالات سے زیادہ باخبر۔ بصرہ اور کوفہ کے شہر حضرت عمر ؓ کے زمانے میں بسائے گئے تھے، یہ ترقی یافتہ اور جدید شہر تھے۔ امام ابوحنیفہ کوفہ کے رہائشی تھے، گویا وہ ایک متمدن اور ترقی یافتہ شہر میں بسیرا کرتے تھے، اس لیے وہ جانتے تھے کہ جدید تمدن کے مسائل کیا ہو سکتے ہیں۔ اسی مصلحت کے پیش نظر امام ابوحنیفہ نے اپنی فقہ میں توسع اختیار کی اور بعد میں یہی توسع مختلف حکومتو ں کے ادوار میں فقہ حنفی کی ترویج و تنفیذ کا باعث بنا۔ یہ قرن اول میں دین کی تعبیر کے مختلف شیڈز تھے۔

دین کی یہ تعبیرات ہر دور اور ہر زمانے میں، حالات کی موافقت سے مختلف ہوتی رہی ہیں۔ الف ثانی میں جن اہل علم نے دین کی تعبیر و تشریح کو زندگی کا وظیفہ بنایا، یہ تنوع آپ کو ان کے ہاں بھی مل جائے گا۔ اکبر نے دین الٰہی ایجاد کیا تو شیخ احمد سرہندی المعروف مجدد الف ثانی نے ہم عصر علماء کے ساتھ مل کر اس کے خلاف آواز اٹھائی۔ نواب مرتضی فرید بخاری اور مرزا عزالدین معروب بہ خان اعظم کو وسیلہ بنا کر دربار اکبری تک رسائی حاصل کی۔ عہد جہانگیری میں خان جہان لودھی کو وسیلہ بنا کر جہانگیر کو دین کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی۔ ان کوششوں سے متاثر ہو کر جہانگیر نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ چار دیندار علماء کی ایک جماعت ہر وقت دربار میں موجود رہے اور ہماری دینی راہنمائی کرے۔ شیخ سرہندی نے، جو علمائے سوء کی کارستانیوں سے پہلے ہی باخبر تھے، پیغام بھیجا کہ چار کے بجائے ایک ہی ’’عالم آخرت‘‘ کو رفیق کر لیں، اس سے بڑا راہنماء کوئی نہیں ہو سکتا۔ شیخ احمد سرہندی کو قیدو بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں، مگر ان کی مساعی کی بدولت آج خطے میں دین اپنی اصلی شکل موجود ہے، اسی لیے اقبال کو کہنا پڑا، وہ ہند میں سرمایہ ملت کا نگہبان۔

بعد میں شاہ ولی اللہ آئے تو دین کی تعبیر و تشریح میں ان کا مزاج مختلف ٹھہرا۔ حجۃ اللہ البالغہ لکھی جس میں دیگر مباحث کے ساتھ اسرار شریعت کو بیان کیا۔ برصغیر پاک و ہند میں حدیث کی تدریس کو عام کیا، قرآن کا ترجمہ اور اصول تفسیر وضع کیے۔ یہ اس دور کا تقاضا تھا۔ بعد میں شاہ عبدالعزیز آئے تو انگریز برصغیر پر قابض ہو چکا تھا، انھیں ہندوستان کے دارلحرب ہونے کا فتویٰ جاری کرنا پڑا۔ سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید نے اپنے حالات کی موافقت سے دین کی جہادی تعبیر کو مناسب جانا، اور دلی سے نکل کر سندھ سے ہوتے ہوئے افغانستان اور پشاور کے راستے سے بالا کوٹ میں پڑاؤ کیا۔ دین کی یہ تعبیر بھی بالآخر بالاکوٹ میں آسودہ خاک ہوئی۔

آمدم بر سر مطلب، قیام پاکستان کے بعد دینی راہنماؤں نے، اپنی دانست کے مطابق دین کی تعبیر و تشریح اور مختلف فتنوں کی سرکوبی کے لیے لائحہ عمل اپنایا۔ 1953ء میں قادیانیوں کے خلاف تحریک چلی جو 1973ء کے آئین میں پایہ تکمیل کو پہنچی۔ ایران میں انقلاب آیا تو اس کے اثرات پاکستان میں نمودار ہونا شروع ہوگئے۔ مختلف علاقوں میں توہین صحابہ کرام کے واقعات تسلسل سے ہونے لگے۔ ایسے میں بعض دینی رہنماؤں نے عظمت صحابہ کے بیان کےلیے جارحانہ تعبیر کو اپنایا۔ اسی وجہ سے آج گھر گھر یہ پیغام پہنچ چکا ہے اور عظمت صحابہ کے حوالے سے سوسائٹی میں حساسیت موجود ہے۔ جب یہ پیغام عام ہوا تو بتدریج اس تعبیر کو حکمت اور مصلحت کے تحت نرم مزاجی، افہام و تفہیم اور باقاعدہ سیاسی جدوجہد کی طرف موڑ دیا گیا۔ آج اس تعبیر کے جانشین آپ کو قانونی دائرے اور اسمبلیوں میں سیاسی جدوجہد کرتے نظر آ رہے ہیں کہ موجودہ عصر کا یہی تقاضا ہے۔ میرے عہد کے کچھ نامور علماء پیغام محبت کے نام پر ماضی کی ان تمام قربانیوں کو پس پشت ڈالنا چاہتے ہیں، ایسے محبت کے داعیوں سے گزارش ہے کہ محبت کا پیغام ضرور عام کیا جائے، مگر اپنے پچھلوں کی خدمات اور قربانیوں کو نظرانداز کرنے کی قیمت پر ہرگز نہیں۔

ہر دور اور ہر عصر کا اپنا ایک تناظر ہوتا ہے اور اسی تناظر میں رہ کر کسی کام کی حکمت عملی اپنائی جاتی ہے۔ بعض تبلیغی راہنما اور آج کا نوجوان ماضی کے حالات کو حال کے تناظر میں دیکھ کر ماضی کی قربانیوں کو فراموش اور ان شخصیات کو مطعون کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے بعض شہسوار قدیم کتب اور فتاویٰ جات سے اختلافی تعبیرات ڈھونڈ کر لاتے اور اس پر واویلا کرتے اور شور مچاتے ہیں۔ یہ سمجھے بغیر کہ ان فتاویٰ اور تعبیرات کا اصل تناظر کیا ہے۔ یہ رویہ قابل افسوس تو ہے ہی لیکن اس کے ساتھ ان حضرات کی عقل و فہم پر سوالیہ نشان بھی۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ماضی کے مزار ڈھانے کے بجائے اپنی صلاحیتیں مستقبل کی تعمیرپر صرف کی جائیں، ماضی پر کیچڑ اچھالنے کے بجائے اپنے عہد کی ذمہ داریوں سے نبردآزما ہوا جائے۔ ہاں اگر کوئی چاہے تو اکڈیمک سطح پر، ان تعبیرات اور پالیسیوں پر سنجیدہ نقد اور ان کو تجزیے کی بنیاد بنا سکتا ہے۔

Comments

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم نے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر اور اسلامیات میں ایم فل کیا ہے، شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں اور او پی ایف بوئز کالج اسلام آباد میں بطور لیکچرار فرائض سرانجام دے رہے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.