ایک غیرمسلم کے سوالات اور ان کے جوابات - مفتی سیف اللہ

‎برسلز سے ایک غیر مسلم نے مسلم علماء سے کچھ سوالات کیے ہیں ۔ اور دعویٰ کیا ہے اسے آج تک ان کے کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملے ۔ ‎ان کا مزید کہنا ہے کہ اگر ان سوالوں کا جواب کسی پاس نہیں ہے تو مغرب اس کی بنیاد پر اسلام کو دہشت گردی کوپروان چڑھانے والا مذہب کیوں نہ سمجھے؟

اب بالترتیب غیرمسلم کے سوالات اور ہمارے جوابات ذکر کئے جاتے ہیں۔
‎پہلاسوال: مسلمانوں کو سیکولر ملکوں میں تبلیغ کی پوری اجازت ہے ۔ کیا مسلمان ملکوں میں کسی غیر مسلم سکالر کو اپنے مذہب کی اس پیمانے پر تبلیغ کی اجازت ہے ؟اگر نہیں تو اسلام کورواداری کے خلاف مذہب کیوں نہ سمجھا جائے؟
جواب: سیکولرملک کا کوئ مذہب نہیں ہوتا جبکہ اسلام اسلامی ملک کا مذہب بلکہ آئین ہوتا ہے۔اس لئے اسلامی ملک میں کسی اور مذہب کی تبلیغ کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
کیا کوئ ملک اپنے آئین کے خلاف تبلیغ کی اجازت دے سکتا ہے؟ اسلام رواداری کا مذہب ہے جو اپنے ملک میں ہر مذہب کے ماننے والوں کو اپنے مذہب پر عمل کی مکمل آزادی دیتا ہے لیکن اس کی تبلیغ کی اجازت نہیں دیتا کیونکہ یہ ملکی آئین کی خلاف ورزی ہے جو روداری نہیں بلکہ ملک و قوم سے غداری ہے۔
‎دوسراسوال:اگر غیر مسلم اسلام قبول کرے تو شاباش ، اور اگرمسلمان اپنا مذہب چھوڑے تو واجب القتل ۔ کیا یہ انصاف ہے ؟ اس قانون کو شریعت قرار دینے والے گروہِ انسانی کو دور جدید کے آزادی پسندمعا شروں میں رہنے کا حق کیسے دیا جاسکتا ہے؟
جواب: مسلم ملک میں اسلام فرد کا ذاتی معاملہ نہیں ہوتا بلکہ ملک کا آئین ہوتا ہے اور کسی مسلمان کا اسلام کو چھوڑنا بغاوت اور غداری ہے جس کی سزا موت ہے جیسا کہ اس وقت بہت سے غیرمسلم ممالک میں بھی غدار کی سزا موت ہے۔ جبکہ کسی غیرمسلم کا اسلام قبول کرنا دین حق کی طرف آنا اور ملکی آئین کو دل وجان سے تسلیم کرنا ہے اس لئے اسے اچھا سمجھا جاتا ہے۔ مذہب قبول کرنے میں اسلام اپنے ملک میں کسی پر جبر نہیں کرتا تو کسی غیرمسلم ملک میں جبر کیسے کرسکتا ہے؟ لہذا اگر آزادی پسند معاشرہ مسلمانوں کو رہنے کا حق نہیں دے گا تو ان کی آزاد پسندی کا کیا مطلب ہوگا؟

‎تیسرا سوال:اگر اسلام سلامتی کا مذہب ہے تو مسلمان غیر مسلم کو ’’السلام علیکم ‘‘ کیوں نہیں کہتے ؟
جواب: اسلام یقیناً سلامتی کا مذہب ہے اور اس نے تمام انسانیت کے ساتھ بھلائ کا حکم دیا ہے۔قرآن میں فرمایا وقولواللناس حُسنا تمام لوگوں کے ساتھ بھلائ کی بات کرو۔ حدیث میں فرمایا لوگوں کیلئے وہ پسند کرو جو اپنے لئے پسند کرتے ہو تب مسلمان بنو گے۔ جہاں تک السلام علیکم کہنے کا تعلق ہے اس سے مراد دنیا و آخرت کی سلامتی ہے جو صرف اہل اسلام کے ساتھ خاص ہے۔ مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق دیگر مذاہب کے لوگ آخرت میں فلاح نہیں پائیں گےاسلئے وہ دیگر مذاہب کے لوگوں کو السلام علیکم نہیں کہہ سکتے۔ اس کے بعد بھی سلام کے متعلق مسلمانوں پہ اصرار مذہبی آزادی کے سراسر خلاف ہے۔
‎چوتھا سوال :کیا تمام مکتبہ فکر کے مسلمان علماء نے متفقہ طور پر اپنے اس موقف کو عالمی سطح پر پیش کیا ہے کہ خود کش دھماکے مسلمانوں کے خلاف ہوں یا غیر مسلموں کے خلاف، وہ اسلام میں حرام ہیں ۔
جواب: مسلم علماء اور ان کے موقر اداروں نے کئ مرتبہ اپنے اس موقف کو پیش کیا کہ معصوم لوگوں کے خلاف خودکش حملے حرام ہیں۔
‎پانچواں سوال :قرآن میں ہے :ان اہل کتاب سے جو نہ اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے، نہ اللہ اور اس کے رسول کے حرام ٹھہرائے ہوئے کو حرام ٹھہراتے اور نہ دین حق کی پیروی کرتے، جنگ کرو تا آنکہ وہ مغلوب ہو کر جزیہ ادا کریں اور ماتحت بن کر زندگی بسر کرنے پر راضی ہوں۔(سورۃ توبہ29 )کیا مسلمان اس قرآنی آیت کو شریعت کا حصہ سمجھتے ہیں ؟ اگر سمجھتے ہیں تو کیا وہ عالمی امن کے لیے خطرہ نہیں؟
جواب: اسلام نہ صرف ریاست کا آئین ہے بلکہ اسلامی ریاست کا عالمی ایجنڈا ہے۔ اسلامی ریاست کی ذمہ داری صرف ایک ملک میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں اسلام کا نفاذ ہے۔
مسلمانوں کے اس عقیدہ سے عالمی امن کو نہیں بلکہ عالمی امن تباہ کرنے والی طاقتوں کے ایجنڈا کو خطرہ ہے۔کیونکہ مسلمان دنیا میں اللہ کی حاکمیت جبکہ دیگر طاقتیں اپنی بالادستی چاہتی ہیں
زمینی و تاریخی حقائق اس کےگواہ ہیں مسلمانوں نے غلبہ حاصل کرنے کے بعد امن کو قائم کیا جبکہ دیگر اقوام نے امن تہہ و بالا کیا۔

‎ چھٹا سوال :’’اے ایمان والو، تمہارے گرد و پیش جو کفار ہیں ان سے لڑو اور چاہیے کہ وہ تمہارے رویہ میں سختی محسوس کریں اور جان رکھو کہ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے۔‘‘ یہ بھی سورۃ توبہ ہی کی آیت ہے، اس پر ایمان رکھنے والی اسلامی ریاست اپنے غیر مسلم ہمسایہ ریاستوں کے ساتھ امن سے کیسے رہ سکتی ہے ؟
جواب: اسلام کا نفاذ چونکہ مسلم ریاست کا عالمی ایجنڈا ہےاس لئے قرآن نے اس کیلئے اقدامی پالیسی بیان کی ہے اور اس سے مراد بھرپور جنگی تیاری ہے تاکہ امن کو تہہ و بالا کرنے
والی طاقتوں کو مرعوب کیا جاسکے۔ کیا عالمی طاقتیں سامان حرب و ضرب اور جنگی مشقیں نہیں کرتی؟ اور ان کا مقصود اپنی دھاک بٹھانے کے علاوہ کیا ہوسکتا ہے؟ جب وہ اپنی بالادستی قائم کرنے کیلئے دنیا کے امن کو تہہ و بالا کرسکتی ہیں تو پھر اسلام اللہ کی حاکمیت اور امن کے قیام کیلئے جنگ کیوں نہیں کرسکتا۔ اسلامی تاریخ گواہ ہے جس کا کوئ انکار نہیں کرسکتاکہ دور رسالت و خلافت راشدہ میں جتنی جنگیں لڑی گئیں ان میں بہت کم افراد مارے گئے جبکہ بہت بڑے علاقہ میں دیرپاامن قائم کیا گیا۔ خلاصہ یہ ہے کہ اسلام صرف مذہب نہیں بلکہ ایک دین ہے جوفرد،معاشرہ اور انسانیت کیلئے مکمل نظام حیات ہے۔ اسلام فرد کیلئے ضابطہ حیات، اسلامی ملک کیلئے نظامِ حکومت وآئین اورپوری دنیا میں نفاذِاسلام اسلامی ریاست کا عالمی ایجنڈا
ہے۔