بے حیائی کی زد میں ہمارا معاشرہ - ابن بشیر

اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک ایسی نعمت سے نوازا ہے جس کے بغیر ہماری زندگی کی کوئی قیمت نہیں۔ وہ نعمت دینِ اسلام ہے چونکہ اسلام دین فطرت ہے اللہ تعالیٰ اور رسول کے ارشادات اور احکامات پر عمل پیرا ہونا ہی دین ِاسلام ہے جو مومنین اور مومنات کو حجاب یعنی پردے کے حوالے سے سختی کے ساتھ عملی جامعہ پہنانے کا حکم دیتا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”اے آدم کی اولاد ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے کہ تمہارے کے قابلِ شرم حصّوں کو ڈھانکے اور تمہارے لۓ جسم کی حفاظت اور زینت کا ذریعہ بھی ہو، اور بہترین لباس تقویٰ کا لباس ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔شاید کہ لوگ اس سے سبق لیں”۔(سورةالاعراف:٢٦)

پردہ کی اسلام میں خصوصی اہمیت بیان کی گیٔ ہے اور مرد و زن کو ستر پوشی کے ساتھ ساتھ شرم وحیا کو بھی مقدم رکھنے کا حکم دیا گیایہی وجہ ہے کہ مرد کے لۓ کسی بھی عورت پر دوسری نگاہ ڈالنا جایٔز نہیں۔نبی کریمﷺ بھی بہت شرم وحیا والے تھے اور آپۖ نے دوسروں کو بھی اس کا درس دیا۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ’ ‘حضرت ابو سعید خدری کا بیان ہے کہ آپﷺ پردہ والی کنواری لڑکیوں سے بھی زیادہ باحیا تھے۔جب کوئی بات ایسی دیکھتے جو آپﷺ کو ناگوار گزرتی تو ہم لوگوں کو آپۖ کے چہرے سے معلوم ہوجاتا تھا”۔ (صحیح بخاری جلد سوم،حدیث نمبر1055)

اسلام دشمن لوگوں نے ہمیشہ مسلمانوں کو کمزور کرنے کے لیے مختلف قسم کے حربے استعمال کیے ہیں اور اب بھی کرتے ہیں۔اس وقت جو اِن کا کارآمد اور طاقتور ہتھیارہے وہ معاشرے میں بے حیائی اور بے پردگی کو عام کرناہے۔اور اس کو عام کرنے کے لیے انہوں نے انٹرنٹ،ٹی وی، کیبل کا سہارا لیا ہے۔ مسلم نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں یہ وسوسہ ڈالا جاتا ہے کہ بے پردگی اور فحاشی میں ہی ترقی ہے۔ٹی وی،کیبل،انٹرنیٹ وغیرہ ایسے شیطانی ذرائع ہیں جن کی وجہ بے حیائی مسلمانوں کے گھروں میں پہنچ رہی ہے اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معاشرے میں مسلمان عورتوں میں پردہ اور مسلمان مردوں میں حیا کا دن بہ دن خاتمہ ہوتا جارہا ہے۔

افسوس کی بات ہے کی آج باپ بیٹی کے سامنے اور بیٹی باپ کے سامنے ایسی فلمیں دیکھتے ہیں جن میں بے ر اہ رو ی کا اتنا پروان ہوتا ہے کہ یہ دونوں متاثر ہوتے ہیں اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بیٹی کسی غیر محرم کے ساتھ (بلا کسی خوف و ڈر) تعلقات بڑھاتی ہے۔ بیٹیاں شادی سے پہلے ہی ماں بن جاتی ہیں اور یہ سب اس وجہ سے ہوتا ہے کہ معاشرے میں حیا کا نام بھی باقی نہیں ہے۔ایسا لگتا ہے کہ حیا نامی لفظ کا کہیں وجود ہی نہیں ہے۔ ”مغربی تہذیب یہ کہتی ہے کہ اسلام نے عورتوں کو پردے میں رکھ کر اس پر ظلم کیا ہے۔اسے غلام بنایا ہے اور ہم نے عورت کو بے پردہ کر کے اسے آزادی دی ہے۔دراصل انہوں نے عورت کو بے پردہ کر کے اس کی عزت کو نیلام کیا ہے۔اسلام نے پردے کا حکم دیکر ایک عورت کو عزت کے تحفظ کا بندوبست کیا ہے۔بے پردگی کی وجہ سے معاشرے میں بدنظری پھیل گیٔ ہے اور نظر ہی زنا کی پہلی سیڈھی ہے۔بد نظر اُم الخبایٔث کے مانند ہے۔(کامران میگزین صفہ:18شمارہ 6) پردہ میں ہی حیا ہے۔ لازمََ جس نے پردہ کیا اس میں حیا اور شرم بھی ہوگی۔اورجس میں شرم و حیا ہوگی یقینا معاشرے میں اُس کی عزت بھی ہوگی۔اور اگر یہی عزت کسی کی نظروں میں کم ہوگی تو اس کو دوبارہ حاصل کرنا بہت مشکل ہے۔ آپ نے یہ کہاوت سنی ہوگی اگر انسان کسی پہاڑ سے گر جایے ٔ تو ممکن ہے کہ وہ دوبارہ اٹھ سکتا ہے لیکن اگر کسی کی نظرون سے گر جائے تو بہت مشکل ہے کہ وہ اپنا مقام ا’س شخص کی نظروں میں پھر سے حاصل کرسکتا ہے ۔

چوں کہ پہلے ہی ذکر کیا گیا کہ اسلام دشمن لوگوں نے مختلف قسم کے حربے استعمال کیے تاکہ مسلمان اپنے دین سے دور ہوجائیں۔ اگر انٹرنیٹ کی بات کی جائے تو سب سے اعلیٰ ہتھیار یہی ہے۔انٹرنیٹ سے فحاشی کیسے پھیلی ہے اس کیلۓ فیس بُک کی مثال مناسب ہے۔ ایک سروے کے مطابق 2018 کے تیسرے مہینے کی آخر تک فیس بُک پر2.27بلین ماہانہ فعال صارفین تھے۔اور انہی2.27 بلین صارفین میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کا مقصد صرف فحاشی پھیلانا ہوتا ہے۔اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ان پوسٹس کو شیرٔ بھی کرتے ہیں۔ پھر نہ جانے کتنے گناہوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔جب تک یہ پوسٹ اس پر ہوگی تب تک جتنے بھی لوگ اس کو دیکھیں گے ایک تو وہ گناہوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور اُس شخص کے سر پر بھی گناہوں کا اضافہ ہوتا جاتا ہے جس نے یہ پوسٹ کی ہوتی ہے۔اس سے اندازہ کیجیے ایک پوسٹ سے فحاشی کا بازیر کتنا گرم ہوجاتا ہے۔

”ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ نبیۖ نے فرمایا: جو شخص ہدایت (نیکی) کی طرف بُلائے اُسے ہدایت پر چلنے والوں کا بھی ثواب ملے گا اور چلنے والوں کے ثواب میں کسی قسم کی کمی نہیں کی جائے گی۔ اور جو شخص گمراہی (برائی) کی طرف بلایۓ اُس کو گمراہی پر چلنے والوں کا بھی گناہ ہوگا اور ان چلنے والوں کے گناہ میں بھی کسی قسم کی کمی نہیں کی جائے گی۔”(مسلم)

اللہ تعالیٰ کا بھی ارشاد ہے۔ ”اے محمدۖ،اِن سے کہو کہ میرے ربّ نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں: بے شرمی کے کام۔۔خواہ کُھلے ہوں یا چھپے (الاعراف٣٣) اور دوسری جگہ فرماتے ہیں:۔ ”اور نہ تم بے حیایٔ کے کاموں ک قریب بھی جا، چاہے وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ۔(الانعام(101) بے حیائی (فحش) کی اشاعت ایک جامع بات ہے جس میںزنا،تہمت زنا،بے حیایٔ کی باتوں کا چرچا کرنا اور انسان کو زنا کی طرف مایٔل کرنے والی باتیں اور حرکتیں کرنا سب شامل ہیں۔موجودہ دور میں اشاعت فحش کے ماڈرن طور طریقے ایجاد ہوگۓ۔مثلاً عشق بازی کا جنون پیدا کرنے والی فلمیں،جنسی بے رواہ روی پیدا کرنے والے اور اخلاق سوز گانے، نایٔٹ کلب، ذہنوں پر عورت کا بھوت سوار کرنے والے اشتہارات، حسن کے مقابلے،ٹی وی پر عورتوں کے بے ڈھنگے مظاہرے،دانس کے پروگرام وغیرہ شامل ہیں۔ اسی طرح ایک ایپ کے نام پر فحش کے بازار کو گرم کرنے کیلۓ ایسی ایپ ایجاد کی گئی ہے جس نے تمام باطل قوت ہتھیاروں کو پیچھے چھوڑ دیا۔TIK-TOK۔ جی ہاںTIK TOK ایک ایسی ایپ ہے جس نے فحش کی دنیا میں ایک ایسا انقلاب برپا کیا کہ اب اس کو زندگی کی ضرورت سمجھاجاتا ہے۔ لوگ مزاحیہ انداز مین اپنے اپنے ویڈیو اپلوڈ کرتے ہیں ۔مسلمان لڑکے اور لڑکیاں بھی اس میں ملوث ہیں اور ایسی حرکات کرتے ہیں جس سے شیطان بھی شرم سار ہوتا ہوگا۔

افسوس اس بات کا ہے جو مسلمان لڑکے اور لڑکیاں اس کارِبد میں ملوث ہیں۔ان کے والدین انہیں اس کام سے روکتے ہی نہیں۔میں یہ بات کہنے میں کویٔ ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا یا تو ان کے والدین ان کے ساتھ ہوتے ہیں یا پھر ان کی تربیت میں کمی ہے۔Tik-tok ایک اسٹیج ہے۔ جس طرح عورتوں کا بن سنور کے منظر عام پر آنا اور پھر ناچنا اور گانا اسی اسی طرح Tik-tok پر بھی یہ ناظرین کو خوش کرتے ہیں۔ لڑکیاں لڑکوں کا حلیہ اور لڑکے لڑکیوں کا حلیہ بناکیاسٹیج پر آتی ہیں۔ اللہ کے رسولۖ نے فرمایا:۔ تین قسم کے لوگ جنت مین نہیں جایٔں گے اور نہ ہی روزِقیامت مین اللہ تعالیٰ ان کی طرف دیکھے گا۔ ١۔جو والدین کی نافرمانی کرے۔ ٢۔ وہ عورت جو کہ مردوں کا حلیہ بنائے اور ٣۔ دَیُّوث شخص (جو اپنے بیوی بچوں میں بے حیائی کو برداشت کرے۔ (مسند احمد:6180) افسوس ہے کہ والدین اپنے بچوں پر فخر محسوس کرتے ہیں جب وہ اپنے بچوں کو کسی غیر محرم لڑکے کے ساتھ ہاتھ میں ہاتھ ملائے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جب ان کی بیٹی کسی غیر محرم کے ساتھ ناچتی ہے تو وہ فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ ہماری بیٹی نے ٹیلنٹ کا میدان مارلیا۔ ہم مسلمانوں نے پردہ کو چھوڑا ہم نے مغربی تہذیب کو اپنا نمونہ بنایا۔ جو طریقہ نبیۖ نے ہمیں دیا ہے۔ اُسے ہم نے پسِ پشت چھوڈ دیا۔محشر کے دن ہم لوگ کیا جواب دین گے۔رسولۖ نے دین کو پہنچانے میں بہت تکلیفیں برداشت کیں اور ہم ہیں کہ آج اس دین کا مذاق اُڑا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہدایت بخشے۔اٰمین