میٹرک کے نمبرز اور کامیابی کی بات - محمودفیاضؔ

تیس سال بعد ہم اسی اسکول میں اکٹھے ہوئے تھے جہاں ہم نے میٹرک کے امتحان میں بیٹھنے سے پہلے آخری کلاس پڑھی تھی۔ حیرت سے میں نے دو سبق سیکھے۔ پہلا سبق تو یہ تھا کہ انسان کی فطرت نہیں بدلتی، چاہے لاکھ عہدے، موٹیویشن، سوٹ بوٹ، دکھ سکھ اس پر گذر جائیں۔ جو چلبلا تھا وہ ہزار پریشانیوں سے گذر کر بھی مسکراہٹیں بکھیر رہا تھا۔ جو سنجیدہ تھا، وہ آج بھی مزید سنجیدگی اوڑھے بیٹھا تھا۔

جو شرمیلا تھا، وہ آج بھی انگلیاں مروڑ رہا تھا، جو تنقید کرتا تھا، اسکو آج بھی کچھ نہ کچھ اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ تب مجھے اندازہ ہوا، ہماری شخصیت واقعی زندگی کے پہلے چند سال میں طے ہو جاتی ہے، باقی عمارت اسی کے اوپر کھڑی ہوتی ہے۔ دوسری بات، جس کے لیے آج تحریرلکھی ہے، وہ میں نے یہ سیکھی کہ میٹرک کے نمبرز کسی بھی کامیابی یا ناکامی کا پیمانہ نہیں ہیں ۔ بلکہ اکثر اوقات ایک رکاوٹ ہیں۔ ایک پردہ ہے جو اچھے نمبرز لینے والوں کی عقل پر پڑتا ہے تو وہ ساری زندگی ایک خاص قسم کی نرگسیت کا شکار ہو کر اپنا ہی نقصان کر بیٹھتے ہیں۔ اور جو برے نمبرز والوں کی صلاحیتوں پر پڑتا ہے تو وہ ساری زندگی اس احساس کمتری کے ساتھ گذار دیتے ہیں کہ وہ تو لائق ہی نہیں ہیں، اس لیے جیسی جاب مل گئی ویسی ہی کر لیں گے، اپنے پوٹینشل کو وہ دیکھ ہی نہیں پاتے۔ وہ تو انکی اگلی نسل آ کر انکو بتاتی ہے کہ انکے جینز میں ایک جینئس، آرٹسٹ یا نابغہ روزگار کاروباری چھپا ہوا تھا۔ میں کوشش کرتا ہوں کہ آپ کو کہانیوں کی بجائے زندگی کے واقعات اور ہڈبیتی ہی کی مثالیں دوں۔ یہ مثال بھی میری اپنی زندگی سے ہی ہے۔ اس کمرہ جماعت میں تیس سال بعد ہم بیس بائیس میٹرک کے لڑکے اکٹھے ہوئے تھے، جن کی داڑھیاں بھی سفید ہو رہی تھیں۔ میں نے وہاں دیکھا کہ روپے پیسے میں سب سے کمانے والے میٹرک میں پہلی دس پوزیشنز میں بھی نہیں تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   کامیابی کا سبق - کفیل اسلم

میں نے دیکھا کہ معاشرے میں عہدے، رعب، اور متاثر کن زندگی حاصل کرنے والے بھی ٹاپ پوزیشن ہولڈرز نہیں تھے۔ میں نے دیکھا کہ جس کو کلاس میں روز مرغا بنایا جاتا تھا، وہ کسی دوسرے ملک میں کمال کا ریسٹورنٹ چلا رہا ہے، اسکے بچے بہترین زندگی انجوائے کر رہے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ جو میٹرک میں ناکام ہو گئے، وہ کامیابی حاصل کرنے والوں سے کئی معاملات میں آگے تھے۔ کسی کی اولاد اچھی نکل آئی تھی، کسی کی دکان چل پڑی تھی، اور کسی کو خاندانی معاملات میں سکون و عافیت حاصل تھی۔ اس روز میرے حساب سے میٹرک کے نمبرز کے حساب سے وہ مختلف گریڈز کے بچے میرے سامنے اپنے اپنے شعبوں اور زندگیوں میں کمال کے نمبرز حاصل کیے بیٹھے تھے۔ تب مجھے اندازہ ہوا کہ مارکنگ اور گریڈنگ کا اسکولی نظام کس قدر بودا اور دھوکہ دینے والا ہے۔ اور اس دھوکے کا پہلا شکار خوش یا غمگین ہونے والے والدین اور دوسرا متاثر خود بچہ ہوتا ہے۔ جس پر اچھے نمبرز کی صورت میں ساری زندگی ایک پریشر پڑا رہتا ہے کہ اسکو دوسروں سے بہتر پرفارم کرنا ہے، اور برے نمبرز کی صورت میں اسکو احساس کمتری کا طوق گلے میں لٹکانے کو ملتا ہے۔والدین سے گذارش ہے کہ اپنے بچے کو ہر دو صورتوں میں مناسب ردعمل دیں۔ دنیا پہلے سے کہیں زیادہ بدل چکی ہے۔ تعلیمی نمبرز کے دھوکے میں اپنے بچوں کی صلاحیتیں اور زندگی خراب مت کریں۔

Comments

محمود فیاض

محمود فیاض

محمود فیاض نےانگلستان سے ماس کمیونیکیشنز میں ماسٹرز کیا اور بین الاقوامی اداروں سے وابستہ رہے۔ آج کل وہ ایک عدد ناول اور ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اساتذہ، کتابوں اور دوستوں کی رہنمائی سے وہ نوجوانوں کے لیے محبت، کامیابی اور خوشی پر لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.