برہان مظفروانی شہید ؒ حافظ محمد ادریس

تین سال بیت گئے‘ کشمیر کا قابل ِفخر سپوت برہان مظفر وانی بھارتی درندگی کے ظلم کا نشانہ بنا اور شہادت کی وادی میں اتر گیا۔ یہ 8 جولائی 2016ء کا دن تھا‘ جو کشمیر کی تاریخ میں یادگار بن گیا ہے۔ برہان مظفر وانی کی قبر سے صداآرہی ہے ۔؎
ہم کل بھی سرِ دار صداقت کے امیں تھے
ہم آج بھی انکارِ حقیقت نہ کریں گے
فارسی میں کہا جاتا ہے ''خوش درخشید ولے شعلہ مستعجل بود‘‘۔ شہیدکشمیر برہان مظفروانی اس مصرعے کا حقیقی معنوں میں مصداق ہے۔ یہ شعلہ امتِ محمدؐ کے درمیان کشمیر کی وادیوں اور کوہساروں میں چند سال ہی چمکا‘ مگر اپنے پیچھے اتنے چراغ روشن کرگیا کہ پوری وادی کشمیر آج ایمان کی حرارت اور جذبۂ حریت سے مالامال ہے۔ اس کے جانے کے بعد اندھیرے نہیں اجالے کا دور ہے۔ آج ہر شخص کی زبان پر ہے کہ کشمیر کو بھارتی بنیا اپنی اندھی قوت کے بل بوتے پر زیادہ دیر غلامی کی ذلت میں مبتلا نہیں رکھ سکتا۔ امیدوں کے چراغ روشن ہیں‘ مایوسی کے اندھیرے کافور ہوچکے ہیں‘ اب نور کا ظہور وادی کے ہر گھر کو منور کررہا ہے۔

برہان مظفروانی شہید ایک فرد تھا‘ مگر درحقیقت وہ ایک تحریک کی حیثیت اختیار کرگیا۔ تاریخ انسانی میں بعض ایسی شخصیات ملتی ہیں ‘جن کی نظیر انسانی معاشروں میں کم کم پائی جاتی ہے۔ یہ ایسی شخصیات ہوتی ہیں ‘جو قدرت کی طرف سے بہت مختصر مہلت کے ساتھ دنیا کی اس عارضی زندگی میں بھیجی جاتی ہیں‘ مگر اللہ تعالیٰ ان سے اتنے بڑے کام لیتا ہے کہ تاریخ ان کی عظمت کے سامنے سرجھکاتی اور انہین خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے۔ 21‘22سال عمر ہی کیا ہے؟یہ تو کھیلنے کودنے کے دن ہوتے ہیں‘ تاہم اللہ کے کچھ بندے اس قادرمطلق کی اپنی مشیت کے مطابق ‘اس دنیا میں آنے سے بہت پہلے عظمتوں کے امین بنا دیے جاتے ہیں۔ یہ خوش نصیب بندے ہر دور میں موجود رہے ہیں ‘جو تاریخ کی گزرگاہوں میں آج بھی اپنی روشنی بکھیر رہے ہیں۔ اگر‘ کوئی صاحبِ بصیرت‘ نگاہِ عبرت کے ساتھ ان کے قدموں میں بیٹھ کر کچھ روشنی حاصل کرنا چاہے تو اس کا موقع ہر وقت موجود رہتا ہے۔

برہان مظفر وانی ایک مسلمان اور مجاہد فی سبیل اللہ تھا۔ اگر‘ اس کی یہ حیثیت نہ ہوتی ‘بلکہ وہ کسی اور پہچان اور تشخص کا حامل ہوتا تو آج گنیزبک میں اس کا تذکرہ ہوتا‘ اسے نوبیل ایوارڈ کا مستحق قرار دیا جاتا اور اس کی یادمیں مغرب کے ہر شہر میں یادگاری مجسمے نصب کیے جاتے۔ تکلف برطرف‘ یہ سب چیزیں ایک سراب اور دھوکہ ہیں۔ مظفروانی کو ان میں سے کسی چیز کی ضرورت نہیں۔ اسے وہ کچھ ملا ہے‘ جس کیلئے اللہ کے عظیم بندوں نے زندگی بھر تمنا بھی کی اور جدوجہد بھی‘ مگر اس مقام کا حصول ہرایک کے لیے ممکن نہ ہوسکا۔ شہادت ایک ایسا تمغہ ہے ‘جس کا بدل یہ پوری دنیا اور اس کی جملہ دولت وثروت‘ اس جہان کے تمام مناصب اور ان کی چکاچوند ہر گز نہیں ہوسکتی۔ شہدا مرتے نہیں‘ زندہ رہتے ہیں۔ یہ کوئی افسانہ نہیں‘ اللہ کا سچا کلام اس پر شاہد اور اللہ کے سچے نبی کی زبانِ مبارک اس کی گواہ ہے۔

قرآن عظیم الشان میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ''اے لوگو‘ جو ایمان لائے ہو‘ صبر اور نماز سے مدد لو۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں‘ انہیں مردہ نہ کہو‘ ایسے لوگ تو حقیقت میں زندہ ہیں‘ مگر تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں ہوتا۔‘‘ (البقرۃ۲:۱۵۴)۔ سورۂ البقرۃ کی ان آیات میں اہلِ ایمان کو حکم دیا گیا ہے کہ شہدا کوکبھی مردہ نہ کہیں۔ اسی مضمون کو مزید وضاحت کے ساتھ اللہ جل شانہ نے سورۂ آلِ عمران میں قرآن کی زینت بنایا۔ یہاں ارشاد ہو اکہ شہدا کے بارے میں یہ گمان بھی نہ کرو کہ وہ مردہ ہیں: ''اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں انہیں مردہ نہ سمجھو‘ وہ تو حقیقت میں زندہ ہیں‘ اپنے رب کے پاس رزق پارہے ہیں‘ جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے‘ اس پر خوش وخرم ہیں‘ اور مطمئن ہیں کہ جو اہلِ ایمان ان کے پیچھے دنیا میں رہ گئے ہیں اور ابھی وہاں نہیں پہنچے ہیں‘ ان کے لیے بھی کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے۔ وہ اللہ کے انعام اور اس کے فضل پر شاداں وفرحاں ہیں اور ان کو معلوم ہوچکا ہے کہ اللہ مومنوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔‘‘(آلِ عمران۳:۱۶۹-۱۷۱)

برہان مظفر وانی کا تاریخی وخاندانی پس منظر یہ ہے کہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے ایک چھوٹے سے گاؤں داداسرا نزد ترال‘ ضلع پلوامہ کے ایک تعلیم یافتہ مسلمان گھرانے میں 1994ء میں پیدا ہوا۔ برہان کے والد مظفراحمدوانی ہائرسیکنڈری سکول کے پرنسپل تھے جبکہ شہید کی والدہ میمونہ مظفر ایم ایس سی ہونے کے باوجود اپنے گاؤں اور علاقے میں مسلمان بچیوں اور خواتین کو قرآن وحدیث کی تعلیم سے آراستہ کرنے کا عظیم فریضہ ادا کرتی تھیں۔ یہ دونوں میاں بیوی جماعت اسلامی کی فکر سے متاثر اور باعمل مسلمان ہیں۔ دونوں کے ہزاروں شاگرد مقبوضہ کشمیر اور پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ مظفراحمد وانی کو اللہ نے تین بیٹے اور ایک بیٹی عطافرمائی۔ سب سے بڑے بیٹے خالد مظفروانی تھے‘ ان کے بعد ان کی بہن ارم مظفروانی اور پھر برہان مظفر وانی اور سب سے چھوٹے نعیم عالم مظفروانی۔
برہان مظفر سکول ہی میں تھا کہ اسے اور اس کے بڑے بھائی خالد مظفر کو بلاوجہ بھارتی فوج کے درندوں نے ناقابل ِبیان ظلم وتشدد کا نشانہ بنایا۔ اس بات نے نوعمر برہان وانی کے دل میں بھارتی درندوں کے خلاف پہلے سے موجود نفرت کو مزید بھڑکایا۔ اس نے سوچا ظلم کا یہ راج کب تک برداشت کیا جاتا رہے گا۔

اس کے بھائی خالد مظفروانی کو بعد میں بھارتی فوجیوں نے اس کے تین ساتھیوں سمیت 13اپریل2015ء کو اس وقت گھیرے میں لے لیا جب وہ کہیں جارہے تھے۔ پھر ان پر گولیاں برسائی گئیں۔ خالد کے تینوں ساتھی گرفتار کرلیے گئے اور اسے نہایت بے دردی سے شہید کردیاگیا۔ اس واقعہ نے پورے علاقے میں تمام مسلمان آبادی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ بھارت کے ظالمانہ اقدامات اور بھارتی درندوں کی غنڈہ گردی اور قتل وغارت گری کے خلاف نفرت کا لاوا پھٹ پڑا۔ پورا علاقہ اب ‘اس ظلم کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے کے لیے یکسو ہوگیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس واقعے نے معصوم برہان وانی کی زندگی اور سوچ کا دھارا ہی بدل دیا۔
برہان مظفربہت ذہین اور پاکیزہ خیال نوخیز مسلمان لڑکا تھا۔ آپ اس کی تصویر دیکھیں تو دل گواہی دے گا کہ یہ کسی اللہ والے کا چہرہ ہے‘ بے داغ جوانی‘ اجلاکردار‘ عظم جدوجہد‘ یادگار کارنامے! وہ ان سارے واقعات سے متاثر ہو کر 16اکتوبر2010ء کو 15سال کی عمر میں عملی جہاد کی تربیت حاصل کرنے کے لیے والدین کو اشاروں کنایوں میں بتا کر اپنے گھر سے خاموشی کے ساتھ چلا گیا۔ اس نے کشمیری حریت پسند نوجوانوں سے مل کر عسکری تربیت حاصل کی۔

اس تربیت کی تو ظلم کی چکی میں پستے ہوئے خطۂ کشمیر کے ہرنوجوان کو ضرورت ہے؛ البتہ برہان وانی کا ذہنی وذاتی رجحان فکری وابلاغیاتی محاذ سنبھالنے کی طرف زیادہ راغب تھا۔ اپنے بھائی کی مظلومانہ شہادت کے بعد اب اس کی زندگی کا ایک ہی مشن تھا کہ اپنے مظلوم خطۂ کشمیر کو بھارتی تسلط سے آزاد کرائے۔ یہ خطہ جو کبھی جنت نظیر تھا اب ملبے کا ڈھیر اور ظلم کی آماج گاہ بن چکا تھا۔ برہان کا خون کھول اٹھتا تھا‘ جب وہ یہ سنتا کہ کسی علاقے یا بستی میں بھارتی درندوں نے اس کی کسی ماں بہن کی عزت لوٹ لی ہے۔ اب اس کے سامنے ایک ہی نظریہ اور تصور تھا کہ ہر دختراسلام اس کی ماں اور بہن ہے۔ اسے ہر قربانی دے کر ان کی عزت کا محافظ بننا ہے۔
برہان مظفروانی اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ کوکرناگ کے قریب بم دورہ کی بستی میں ایک گھر میں مقیم تھا۔ بھارتی جاسوسوں نے اس کے بارے میں مسلح بھارتی دستوں کو اطلاع دی تو 08جولائی کو انہوں نے اس بستی کو اپنے گھیرے میں لے لیا۔ اس وقت اس کے دو ساتھی سرتاج احمدشیخ اور پرویزاحمد لشکری بھی اس کے ساتھ تھے۔

بستی کے لوگوں نے مسلح بھارتی فورس کا مقابلہ اینٹ پتھر سے کیا۔ اس حملے میں جموں اینڈ کشمیرپولیس کا خصوصی دستہ اور19راشٹریہ رائفلز کے جوان وافسران بڑی تعداد میں شریک تھے۔ بہت سارے نہتے مقامی شہری زخمی ہوئے‘ مگر بڑی فورس کے سامنے سینہ سپر رہے۔ ساڑھے چار بجے بعد دوپہر برہان وانی اور اس کے ساتھیوں سے مسلح دستوں کا براہِ راست مقابلہ شروع ہوگیا{ جو سوا چھ بجے تک جاری رہا۔ اس کے نتیجے میں تینوں کشمیری نوجوان شہید ہوگئے۔08جولائی2016ء کو برہان وانی اور اس کے ساتھیوں کی شہادت ہوئی۔ 09جولائی کو برہان وانی کا جنازہ اس کے گاؤں میں پڑھا گیا۔ غیرجانب دار ذرائع ابلاغ نے اپنی رپورٹنگ میں بتایا کہ اس چھوٹے سے گاؤں میں جنازے کے شرکا کی تعداد دو لاکھ کے قریب تھی۔ کشمیر میں ہونے والے کسی بھی جنازے میں یہ سب سے زیادہ تعداد تھی۔ بھارتی فوج نے بدترین تعصب اور بددیانتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ تعداد12سے 15ہزار تک بتائی۔