عورت کی عصمت کا محافظ اسلام یا لبرل ازم ؟ فہیم حسین

اسلام جو کہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور ایک نہایت ہی خوبصورت دین ہے. اس میں ہر مسئلے کے حوالے سے رہنمائی موجود ہے. اس دین نے عورت کو بہت احترام اور عزت بخشی ہے. جو کہ کسی اور مذہب میں نہیں ملتی۔ اسلام عورت کے ہر ایک حق کی بات کرتا ہے۔ خواہ وہ سماجی ہو، معاشرتی ہو یا معاشی ہو.

جب کہ زمانہ جاہلیت میں کوئی قابل ذکر حقوق عورتوں کو حاصل نہیں تھے۔ معاشرے میں عورت کا کردار ناپسندیدہ سمجھا جاتا تھا۔ حتی کہ جینے کا حق اس سے چھین لیا گیا تھا اور زندہ درگور کرنے کی رسم عام تھی۔ رومانی، ایرانی، یونانی اور زمانہ جاہلیت کی ثقافتوں اور تہذیبوں میں عورت کو ثانوی حیثیت سے بھی کم تر درجہ دیا جاتا تھا. اسلام واحد دین ہے جس نے عورت کی عزت و حیثیت کو واضح تصور دیا اور شرف انسانیت بخشا۔ اللہ تعالی نے سورۃ النساء میں عورتوں کے سماجی و معاشرتی حقوق و مسائل کے لیے احکامات کے ساتھ ساتھ رہنمائی بھی فرمائی ہے۔اور بھی متعدد آیات میں عورتوں کے حقوق کو روشن کیا گیا ہے۔ اسی طرح اسلام عورت کی عزت و عصمت کی حفاظت کے لیے حجاب (پردے)کا بھی حکم دیتا ہے تاکہ معاشرے میں پاکیزگی اور اخلاقی اقدار برقرار ہیں جس سے ایک اجنبی شخص کو نظر نیچے رکھنے میں مدد مل سکے۔
جیسا کہ قرآن پاک میں واضح کہا گیا ہے۔ ترجمہ۔ : "مومن عورتوں سے کہہ دو کہ ان کی آنکھوں میں حیا ہو اور اپنی شرم گاہوں کی پردہ پوشی کریں اور اپنا بناؤ سنگھار ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو خود ظاہر ہوجائے اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں۔" (سورہ نور)
باپردہ اور باحیا عورت ایک مستحکم معاشرے کی ضمانت ہے۔ اس آیت میں واضح پردے کا حکم دیا گیا ہے۔اور بارہا پردہ کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔

احدیث نبویﷺ میں بھی بارہا حجاب کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ پھر بھی پردہ کرنے والیوں کی تعداد نہایت کم ہے ایسا کیوں ہے؟ پردہ معاشرے میں پھیلی لاتعداد برائیوں کی تلفی کرتا ہے۔ لیکن لبرلزم اور مغربی تہذیب و ثقافت کے فتنوں نے مسلمان عورت کو اپنے جھانسے میں لے لیا ہے۔ اور آزادی کے نام پر ان کا استیصال کیا جارہا ہے۔ جو کہ اسلام کو نیچا دکھانا اور اس کی اخلاقی اقدار کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے۔ آزادی نسواں کے نام پر عورتوں کو اسلام سے دور کیا جارہا ہے. آپ خود بتائیں کہ جب اسلام عورتوں کے تمام حقوق کی پاسداری کر رہا ہے تو پھر دوسرے کسی بھی قسم کے ازم کی کیا ضرورت ہے؟ چلو یہ بھی مان لیا کہ اسلام جن حقوق کی بات کرتا ہے دوسرے ازم بھی تقریباً وہی بات کرتے ہیں۔ لیکن پھر بھی ان کا ہی پرچار کیوں؟ اسلام کا کیوں نہیں؟ اور کیا کبھی کسی عورت نے یہ سوچا ہے کہ اس کو کون کون سے حقوق چاہیے؟ کبھی ان کا شمار کیا ہے؟ کبھی ان کو ذہن نشین کیا ھے؟ آزادی نسواں کا پرچارکرنے والی خاتون سے اگر پوچھا جائے کہ کون سی آزادی چاہیے تو اس کا جواب یقیناً غیر مطمئن ہوگا۔ میں عورتوں کو ان کے حقوق دینے کے خلاف نہیں ہوں۔ لیکن سب سے پہلے عورتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے حقوق متعین کریں ان کو ذہن نشین کریں پھر دیکھے کہ کیا اسلام ان کو یہ حقوق دیتا ہے کیا اسلام میں ان کے لیے طے کردہ احکامات انصاف پر مبنی ہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   کیا ماڈرن ہونا دنیا میں آگے بڑھنے کی علامت ہے؟ سید مستقیم معین

یقیناً اسلام ان تمام حقوق کی مکمل پاسداری کرتا ہے جن کی بدولت ایک احسن، مستحکم اور انصاف پر مبنی معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ یہاں میں اسلام کی بات کر رہا ہوں کسی نام نہاد مسلمان مرد کی بات نہیں کر رہا کیونکہ کچھ نام نہاد مسلمانوں کی تصویر دکھائی جاتی ہے کہ عورتوں کے حقوق غصب کرتے ہیں اور ان کا استیصال کرتے ہیں۔ تو کیا ان کی تربیت کی ضرورت ہے یا اسلام سے دور جاکے لبرلزم کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے؟ یقیناً ہمیں صرف تعلیمات کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنی بھی اصلاح کرسکیں اور دوسروں کی بھی۔ دوسرے کسی بھی ازم کی کیوں کر ضرورت ہوگی جبکہ ہمارے پاس ایک مکمل انصاف پر مبنی رہنمائی والا لاثانی دین اسلام موجود ہے اور حضورِ اکرمﷺ کی زندگی ایک مکمل نمونہ کے طور پر پیش کی گئی ہے۔ ہمیں بس ضرورت ہے کہ اپنے دین کو پڑھے اور مکمل شعور حاصل کریں ہر معاملے میں اس سے ہی رہنمائی تلاش کریں۔ مغربی تہذیب و ثقافت کے پیچھے پڑ کے ہمیں اسلام سے دور نہیں جانا چاہیے۔ بلکہ اس کا پرچار کرنا چاہیے اور اس کی حفاظت کرنی چاہیے۔ ایک مسلم معاشرے کی بنیاد اس عورت پر انحصار کرتی ہے جس کی بقا حیا اور حجاب میں چھپی ہے۔ دین اسلام میں ایسی بہت سی خواتین ہیں جن کو خیرالنساء کے لقب سے جانا جاتا ہے۔ جن میں آپﷺ کی بیٹی حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کی سیرت پاک میں عورتوں کے لۓ ایک ہمہ گیر کردار موجود ہے۔

جو کہ ایک بیٹی کے روپ میں، ایک ماں کی شکل میں اور ایک بیوی کے کردار میں قیامت تک آنے والی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے لئے نمونہ حیات ہے۔ جس کو آج کے دورِ جدید میں آئیڈیل بنانے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی معاشرے کا یہ المیہ ہے کہ یہاں مغربی تہذیب و ثقافت کو اہمیت دی جاتی ہے۔ جو کہ میڈیا کے ذریعے انجام پاتی ہے۔ سب سے پہلے تو پاکستانی خواتین سے کہا جاتا ہے کہ آزادی حاصل کرو، لبرلزم کا انتخاب کرو اور پھر تمغہ امتیاز کا لالچ دیا جاتا ہے کہ آپ گھنگرو وغیرہ پہن کر حوس کے پجاریوں کو مطمئن کرو اور تمغہ امتیاز کا شرف حاصل کرو۔ افسوس یہ دنیا کا واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر بنا تھا اور آج اسی ملک میں اسلام کی اخلاقی اقدار کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ یہاں عورت کو لیمن میکس کی مشہوری کے لیے سڑکوں پر لگی سکرین پر ٹائٹس پہنے ناچتا ہوا دکھایا جاتا ہے۔ اسلام حجاب کو فوقیت دیتا ہے لیکن ہمارے ملک میں ایسی تہذیب و ثقافت نے اپنی جڑیں مضبوط کرنا شروع کر دی ہیں جو کہ اسلام کی اخلاقی اقدار کا مذاق اڑاتی نظر آتی ہیں۔ ایسی تہذیب پروان چڑھ رہی ہے جہاں عورت کا پردہ کرنا اس کی تذلیل کا باعث بنتا ہے۔ مرد برابری اور آزادی نسواں کا جو پرچار عورت مارچ پر کیا جاتا ہے. وہ آپ سب نے دیکھا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:   جب خلافِ شریعت قانون بننے لگے - محمد رضی الاسلام ندوی

مجھے جو سمجھ میں آیا وہ یہ کہ حیا بھی مرد کرے ، نگاہ بھی مرد نیچی رکھے، شرم بھی مرد کرے، دوپٹہ بھی مرد کرے، پردہ بھی مرد ہی کرے اور بچے بھی مرد ہی جنے۔ یہ روشن خیالی ہے۔ لبرل اور میرا جسم میری مرضی کرنے والی عورتوں کی۔ خوف خدا، شرم نبی ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں .... جن جن ممالک نے ایسی روش کو اختیار کیا جو کہ قدرت کے منافی ہے۔ وہاں اقوام متحدہ کی شماریات کے مطابق غیر شادی شدہ ماؤں، حرامی بچوں، عصمت دری کے واقعات، جنسی زیادتی، عورتوں اور جوان لڑکیوں کے اغوا اور قتل اور ایڈز میں مبتلا افراد کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ مطلب کہ لبرلزم کے اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ عورتوں کو مکمل تعلیمات کی ضرورت ہے۔ تب ہی وہ اپنے بنیادی حقوق کا تعاقب کر سکیں گی۔ اس لئے ہمیں اپنے دین کا علم حاصل کرنا چاہیے۔ قرآن کی تعلیمات پر عمل کرنا چاہیے نہ کہ مغربی روایات کے پیچھے بھاگنا چاہیے۔ اگر ہمیں دین کے مکمل فہم والا عالم نہیں ملتا تو اس کے بھی ہم خود ذمہ دار ہیں۔ ہم نے کبھی کسی اچھے ذہین بچے کو دین کی تعلیم کی تاکید ہی نہیں کی جو کمزور ذہنیت والا بچہ ہوگا اس کو دینی تعلیم دلوانا چاہتے ہیں۔ تو پھر کیسے ہمیں ایک با شعور عالم مل سکتا ہے؟ جو کہ ہماری قوم کی رہنمائی کر سکے۔ ہمیں اپنے دین کو مضبوطی سے تھامنا ہے۔ اور قرآن و سنت کی تعلیمات کو فروغ دینا ہے اور اس پر عمل کرنا ہے۔ جو کہ عورت کی عصمت کی حفاظت کا ضامن ہے۔