آگ اورخون کا آلاؤ-عبدالخالق بٹ

خدائے سخن کہہ گئے ہیں:

سرسری تم جہان سے گزرے

ورنہ ہرجا جہانِ دیگر تھا

ہم اس بات کے قائل ہی نہیں، قتیل بھی ہیں کہ ہرذرہ اپنی ذات میں جہانِ دیگر ہے۔ اسے بیگانہ وار نہیں، فرزانہ وار دیکھنا چاہیے۔ رہی بات ’سرسری‘ کی تو اسے فقط اخبارپڑھتے ہوئے بروکار لاتے ہیں کہ’لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ‘۔
ایک مؤقراخبار نے سرخی جمائی ہے: ’امریکا میں ژالہ باری،لوگ برف کے اولوں سے حیران‘… اُدھر لوگ حیران ہوئے اِدھر ہم پریشان کہ ’ژالہ باری‘ سے کلیجہ ٹھنڈانہیں ہوا جو ’برف کے اولے‘بھی جڑ دیئے۔ بھائی! سیدھے سبھاؤ ’امریکا میں ژالہ باری سے لوگ حیران‘ کیوں ناں لکھ دیا کہ اس میں ’برف کے اولے‘ بنا کہے موجود ہیں۔

یہ بھی خوب ہے کہ امریکی اولے پڑنے پر حیران ہیں اور دنیا امریکی گولے پڑنے پر حیران وپریشان کہ ’یاالٰہی یہ ماجرا کیا ہے‘۔

بات اولوں سے گولوں تک پہنچی ہی تھی کہ ’آلاؤ‘ دَہک اٹھا۔ 11شہروں سے شائع ہونے والے اخبار میں ایک ’موجدِ باب فصاحت‘ لکھتے ہیں:
’مسجد،امام بارگاہ، چرچ، گرجا، بازار، گلیاں،اسکول غرض ہر جگہ آگ و خون کا آلاؤ روشن ہے‘۔

شکر ہے ظالم نے ’چرچ اور گرجا‘ کے ساتھ ’کلیسا‘ نہیں لکھ دیا۔ پھر ’آگ و خون کا آلاؤ‘! سچ پوچھیں تولَوٹنےکی جا ہے۔ یارلوگوں کو تسکین نہیں ہوتی جب تک ’آگ کا آلاؤ‘ نہ لکھ دیں۔ آلاؤ روشن ہو یا دہک رہا ہو۔ بھڑکایا جائے بجھایا دیا جائے۔ اس کے ساتھ کسی طور بھی آگ’لگانے‘کی ضرورت نہیں۔ رہا ’آگ و خون کا آلاؤ‘، تواس بارے اس سے زیادہ کچھ نہیں کہاجاسکتاکہ:

بک رہا ’ہے‘ جنوں میں کیا کیا کچھ

کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی

جلاؤ گھیراؤ کے ذکر میں ہڑتال سے گریز، ایسے ہے جیسے گڑکھائیں اور گلگلوں سے پرہیز۔ اہل کراچی ’ہڑتال‘ کے لفظی معنی سے زیادہ اس کے نتائج سے واقف ہیں۔ انگریزی strikeکا مترادف ’ہڑتال‘ اصلاً ہندی ترکیب ’ہٹ تال‘ کی اردو صورت ہے۔ یہ دو لفظوں ’ہٹ‘… یعنی دکان اور ’تال‘… یعنی تالا سے مرکب ہے۔ یوں ’ہٹ تال‘ کے معنی ہوئے ’دکان یا بازارکی تالا بندی‘۔ چوں کہ حرف ’ٹ‘ حسب موقع ’ت۔ ڈ۔ ڑ‘ سے بدل جاتا ہے، اس لیے ’ہٹ تال‘ اردومیں ’ہڑتال‘ ہوگیا ہے۔

لفظ ’ہڑتال‘ لغوی معنی سے اصطلاحی معنی تک پہنچا تو رنگا رنگ ہڑتالوں کابازار سج گیا۔ مخصوص حالات اور مزاج کی رعایت سے بننے والی فضا کو حسب موقع ’قلم چھوڑ ہڑتال‘، پہیہ جام ہڑتال اور ’شٹرڈاؤن ہڑتال‘ کہا جانے لگا۔ ایک’بھوک ہڑتال‘بھی ہوتی ہے، جو سیاسی لوگ جھوٹ موٹ کرتے ہیں اور غریبوں کوسچ مچ کرنا پڑتی ہے۔

ہندی کی رعایت سے اردو اور بعض علاقائی زبانوں میں دکان اوربازار کے لیے ’ہٹ۔ ہاٹ۔ ہٹّا۔ ہارٹ۔ اورہٹی‘ کے الفاظ رائج ہیں۔کراچی میں ایک اسٹاپ کا نام ’تین ہٹی‘ ہے۔یہ نام اس بھلے وقت کی یادگارہے جب ابھی یہاں غدر نہیں مچا تھا اور فقط تین دکانیں تھیں۔ اسی رعایت سے اسے ’تین ہٹی‘ پکارا جانے لگا۔

پنجابی میں ’ہٹی‘کی جمع ’ہٹاں‘ ہے، یہ بات ہمیں میڈم نورِجہاں سے پتا چلی، اور یہ بھی پتا چلا کہ ان ’ہٹاں‘پرکس چیزکی فروخت ممنوع ہے۔ ان دوباتوں کا ابلاغ میڈم نے ایک جملے ہی میں کردیا ہے: ’اے پتر ہٹاں تے نئیں وکدے‘۔ پھر کہاں بِکتے ہیں؟ پروڈکشن بند ہے یا سپلائی؟ کیا آن لائن ڈیلیوری ممکن ہے؟ یہ اورایسے کئی سوالات تھے جن کا جواب میڈم نے دیا نہیں، ہم نے پوچھا نہیں کہ : ’عزیز جاں ہے بہت ہم کو اے جان عزیز‘۔

جلاؤ گھیراؤ اور ہنگامہ و ہڑتال کے درمیان احتجاج کی ایک قدرے شائستہ صورت بائیکاٹ (boycott) ہے۔ جوکھانے کی میز سے مذاکرات کی میز تک ہر جگہ روا ہے۔ خود ہم نے ویزہ ملنے تک امریکا کا بائیکاٹ کررکھا ہے۔

یہ بات دلچسپ ہے کہ سب سے پہلے جس کا بائیکاٹ کیا گیا وہ خود ’بائیکاٹ‘ تھا۔ آئرلینڈ کی کاؤنٹی مایوکا زمیندار چارلس۔ سی۔ بائیکاٹ(Charles C. Boycott)۔ جن لوگوں نے’بائیکاٹ‘کیا وہ ’آئرش لینڈ لیگ‘نامی کرایہ داروں کی انجمن تھی۔ جناب بائیکاٹ بے قصور تھے یا نہیں مگر ان کانام ’لاتعلقی‘کامترادف بن چکا ہے۔

ویسے جناب بائیکاٹ اس چینی غدار کے مقابلے میں خوش نصیب ہیں،جس کے نام پر’تھوک دان‘کا نام رکھ دیا گیا تھا۔ صدیاں گزرگئیں اور لوگ آج تک اس کے نام پر تھوتھوکرتے ہیں۔

’بائیکاٹ‘ کا اردو مترادف اتنا ہی اجنبی ہوگیا ہے جتنا ایش ٹرے(ashtray) کا’راکھ دان‘ اورڈسٹ بن(dustbin) کا ’خاک دان‘۔ کسی ’پڑھے لکھے‘ کے سامنے ایسا کوئی لفظ بول دو تو ادبدا کر موبائل دیکھنے لگتا ہے۔ پھر اچانک پوچھتا ہے ’تمہارے سگنل پورے آرہے ہیں؟‘

عربی میں بائیکاٹ کو ’مقاطعۃ‘کہتے ہیں۔اس کا مادہ ’قطع‘ہے۔جس کے مفہوم میں کٹنا اورکاٹنا شامل ہیں۔ظاہر ہے کہ جب کسی کا ’مقاطعۃ‘ کیا جاتا ہے تو اس سے سب رشتے ناتے کاٹ دیے جاتے ہیں۔

’منقطع،انقطاع اور قطعہ‘وغیرہ بھی اسی’قطع‘ سے متعلق ہیں۔ ’رابطہ منقطع ہوگیا‘ اردوکی روسے درست جملہ ہے۔ تاہم عربی میں ’ہوگیا‘ کا مفہوم ’منقطع‘ میں شامل ہے۔

عربی کا’قطع‘،اردوکا ’کٹ‘ اورانگریزی کا’cut‘،تینوں ہم آواز ہی نہیں ہم معنی بھی ہیں۔ ایساکیوں ہے؟ لکڑی پر کلہاڑی کے وار سے پیداہونے والی آوازپر غور کریں وجہ خود سمجھ آجائے گی۔

فارسی میں بائیکاٹ کو ’تحریم‘ کہتے ہیں۔ یہ لفظ ’حرام‘ کا ہم قبیلہ ہے۔ تحریم کے معنی میں ’حرام کرنا، حرام ہونا، ناجائز ٹھہرانا، منع کرنااور ممنوع قراردینا‘ شامل ہیں۔جب کسی جنس، فرد، گروہ یا ادارے کا بائیکاٹ کیا جاتا ہے تو اس سے کوئی تعلق واسطہ رکھنا ’تحریم‘ میں داخل ہو جاتا ہے۔ تحریم سے متعلق گفتگو دلچسپی سے خالی نہیں، جسے کسی آیندہ نشست کے لیے اٹھا رکھتے ہیں کہ :’سفینہ چاہیے اس بحر بے کراں کے لیے‘۔

Comments

عبدالخالق بٹ

عبدالخالق بٹ

عبدالخالق بٹ گزشتہ دودہائیوں سے قلم و قرطاس کووسیلہ اظہار بنائے ہوئے ہیں۔ وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی سے اسلامی تاریخ میں ایم۔اے کیا ہے۔اردو ادب سے بھی شغف رکھتے ہیں، لہٰذا تاریخ، اقبالیات اور لسانیات ان کے خاص میدان ہیں۔ ملک کے مؤقر اخبارات اور جرائد میں ان کے مضامین و مقالات جات شائع ہوتے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • الفاظ کی تشریح اتنے دلچسپ انداز میں کی گئی ہے کہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ مضمون کب ختم ہوا۔ تحریر میں مزاح کی چاشنی بھی ہے اور مشکل الفاظ کے معنی بھی۔ عبدالخالق بٹ صاحب نے حسب روایت ایک خوبصورت مضمون لکھا ہے۔