کیا آپ نے ابھی تک کوئی کام شروع نہیں کیا ؟ محمد سلیم

ٹانگ کھینچنا، روڑے اٹکانا، حوصلہ شکنی کرنا، بیزار کر دینا یا بند گلی میں دھکیلنا اکثر پاکستانیوں کے ایسے مشغلے ہیں جن پر وہ نادم بھی نہیں ہوتے ۔ غلط راہ پر ڈال کر ان کی ڈھٹائی دیدنی ہوتی ہے، کسی کا نقصان کرا کر ان کے قہقہے سننے والے ہوتے ہیں ۔

سارے ایسے نہیں ہیں ۔ بہت سارے ایسے بھی ہیں جو کسی کو غلط راہ پر چلتا دیکھتے ہیں تو اسے صحیح سمت دکھاتے ہیں، کھائی میں گرتے کا ہاتھ تھامتے ہیں، باہر آنے کی سبیل کرتے ہیں، کسی کو مچھلی پکڑنا سکھا دیتے ہیں، کسی کو مچھلی پکڑنے کیلیئے کانٹاخرید کر دے دیتے ہیں، کسی کے پاس وسائل نہ ہوں تو مدد کرتے ہیں ، کسی کو اپنے وسائل سے بہتر انداز میں مستفید ہوتا نہ دیکھ کر رنجیدہ ہو جاتے ہیں، کسی کو اس کے اپنے لیئے، کسی کو اس کے بچوں کے بہتر کل کیلیئے وسائل کا بہتر استعمال کرنا سکھاتے ہیں۔ اسی فیس بک پر ہی جہاں آپ اس وقت موجود ہیں ، کو دیکھ لیجیئے : یہاں پر بھی ہر شخص کی اپنی اپنی ترجیحات ہیں۔ دینی ، سماجی، معاشرتی، اصلاحی معلومات میں کچھ نیا نہیں ہے، یا تو یہ پہلو آپ کی آنکھوں سے اوجھل تھا یا پھر آپ نے اس زاویئے سے پہلے کبھی دیکھا ، یا اس انداز میں پہلے کبھی سنا نہیں تھا۔ اگر آپ بھی یہی کام کرتے ہیں تو اللہ آپ کو جزاء دے کہ اچھے لوگ دوسروں کیلیئے آسانیاں پیدا کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو اچھائی کی یاد دہانی کراتے رہتے ہیں ۔ اسی طرح یہاں پر ٹیکنالوجی، کمپیوٹر ، موبائل فونز، زراعت، سیاحت، تجارت، کاروبار، فوٹوگرافی، حکمت یا باغبانی سے متعلق پورے اخلاص کے ساتھ اور اپنے تجربات کی روشنی میں مشورے دینے والوں کی بھی کمی نہیں ہے ۔ اگر آپ ایسا کچھ کر رہے ہیں تو آپ بھی روشنی پھیلانے والے ہیں – اللہ آ پ کو جزاء دے۔

تاہم بہت سارے ایسے بھی ہیں جو فیس بک پر سنی پلاس گجر، زبیر مُسلی، پھلو مستری یا چھوٹے ڈان کو فالو کرنے آتے ہیں ، بے پر کی اڑانے آتے ہیں ، کسی کو ڈی مورالائز کرنے آتے ہیں، حوصلہ شکنی، مایوسی، قنوطیت اور پریشانیوں کی ترویج کیلیئے ، یا ایسا کرنے والوں کے آلہ کار بننے کیلیئے آتے ہیں ۔ کسی کا ایجنڈہ لیکر آتے ہیں یا کسی کے ایجنڈے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے آتے ہیں ۔ اگر آپ پڑھے لکھے ہیں ، بے روزگار ہیں اور اس امید پر ہیں کہ حکومت آپ کی روزی روٹی نوکری کا انتظام کرے تو آپ ابھی آرام سے رہیئے ۔ نالی اور سولنگ کے نام پر بننے والی دو چار حکومتیں اور گزر لینے دیں، تب تک آپ حیات رہے تو پھر آپ کو نوکری دینے کی باری بھی آ جائے گی۔ اگر آپ اپنے اندر عزم حوصلہ اور کچھ کرنے کی لگن رکھتے ہیں تو مبارک ہوزندگی کے بہت سارے ایسے میدان اور شعبے ہیں جو آپ کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ مگر ایک شرط پر: ماضی کے رویوں کو دفن کر کے ان میدانوں میں آئیے، جو کچھ کیجیئے دوسروں کو بھی کرنے کا طریقہ بتائیے، جو کچھ سیکھیئے دوسروں کو بھی سکھائیے۔ بند کیجیئے ایسی حکمت کو جو اپنے نسخے سینے میں دفن کر کے قبروں میں جا لیٹے، بند کیجیئے دوسرے کی دہی کو کٹھا کہنا، بند کیجیئے دوسرے کی فصل، دوسرے کی جنس، دوسرے کی حرفت اور صنعت کو چھوٹا ثابت کر کے اپنے آگے بڑھنے کی کوشش کرنا۔ اس دنیا میں آلو بخارے (Plums) کی بيسيوں اقسام پائی جاتی ہیں۔ اگر پاکستان میں صرف ایک ہی قسم کھا کر اسے اصلی کہا جاتا ہے تو باقی کی مارکیٹ باہر دیکھ لیجیئے،۔ اگر پاکستان میں ایک ہی خوبانی کو شوق سے کھایا جاتا ہے تو باقی کی خوبانیوں کو کھوتوں کے کھانے والی تو نہ کہیئے۔

یہ بھی پڑھیں:   وقت وقت کی بات - فرح رضوان

اگر آپ کے سیب غیر معیاری ہیں تو اس کی متبادل مصنوعات میں کھپت دیکھیئے نہ کہ انہیں کاٹ کر جانوروں کو چارے کے طور پر کھلائیے۔ اگر آپ کے پاس بھنڈی زیادہ کاشت ہوئی ہے تو آپ کو یہ جاننا چاہیئے کہ دنیا میں اس کی مانگ بھی پوری نہیں ہوتی، ٹماٹر کی فصلیں تھوڑی پڑ جاتی ہیں، بڑے لوبیا کی فصل آنے سے پہلے اس کو خرید لیا جاتا ہے، مشروم کی کاشت کیلیئے پورے کے پورے صوبے میدان میں اترے ہوئے ہیں، مرچوں کی متبادل اقسام اب ٹانواں ٹانواں نہیں ڈھیروں ڈھیروں پیداوار دینے والی دریافت ہو چکی ہیں اور ان کا پیسٹ کھپت کے مقابلے میں پورا نہیں ہوپاتا، فاصولیا کی پھلیاں سونے کی پھلیاں ہوتی ہیں، سویابین جنس جو لوگوں کی ہر ضرورت پر پورا اتر رہی ہے ہمارے ہاں پنپ نہیں پائی، . کتا اور کھوتا کھا جانے والوں کو خرگوش میں شریعت مانع آ گئی ہے، مٹر کو پروسیس کر کے ایک ہزار چیزیں بنتی ہیں، چائے کے نشئیوں نے دودھ کا ایک ہی استعمال بنایا ہوا ہے پنیر بنانے تک نوبت بھی نہیں جانے دی، مٹھائی والوں نے پورے ملک کو بیمار کیا ہے صحتمند غذاؤں کا عادی بھی نہیں ہونے دیا۔م کیمیکل کی بھرمار اور جگر کو گلا کر رکھ دینے والے مواد سے بننے والی ٹافی، گولیاں، بسکٹ، پیزے، برگراور فضولیات نے لوگوں کو یہ تک نہیں دیکھنے نہیں دیا کہ آڑو سے کیسے اور کون کون سی چیزیں بن کر بچوں تک پہنچتی ہیں، چپس کیلوں کے اور سیب کے بھی ہو سکتے ہیں، سنیکس خشک پھلوں کے بھی ہو سکتے ہیں، جگراتے اور وقت گزاری میں سورج مکھی کے بیج بھی کھائے جاتے ہیں، ڈرنکس صحت افزاء بھی ہو سکتے ہیں۔ میں ایک ایسے نوجوان کو جانتا ہوں جس کا باپ ریٹائرڈ ہو کر گھر کیلیئے متبادل اور سخت نوکریاں کر کے ضعیف تر ہو چکا ہے مگر اس نوجوان کو بڑا کام ملتا نہیں اور چھوٹے کام کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔ لڑکے کی بہن جو دوسرے محلے میں کسی بیوٹی پارلر پر نوکری کرنے جا رہی ہے کا کہنا ہے کہ جس دن بھائی جان نوکرے شروع کرے گا اس دن وہ گھر بیٹھ جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:   وقت وقت کی بات - فرح رضوان

میں بہت سارے ایسے نوجوانوں کو جانتا ہوں جو بغیر استری کیئے کپڑے پہن کر گھر سے باہر نہیں نکلتے اور اس انتظار میں ہیں کہ ان کا باپ ان کو کوئی کاروبار سیٹ کر کے دے تو وہ کچھ کریں۔ تاہم میں ایسے بھی بہت سارے نوجوانوں کو جانتا ہوں تو بنک کے کام کے ساتھ ساتھ گھر پر دھنیاں، مرچیں اور مسالحے پیس کر شام کو سپلائی کرتے ہیں۔ موسم میں سبزیاں پھل لیکر ان کے اچار بنا کر بیچتے ہیں، گھر میں سیکنڈ پیکنگ کا کام کرتے ہیں، کچھ بنا کر بیچتے ہیں وغیرہ۔ اگر آپ کا وژن بڑا ہے اور کچھ ہٹ کر اور بڑا کرنا چاہتے ہیں تو اسی فیس بک پر ایک ایسے "ابن فاضل" کو فالو کیجیئے، اس کی شاگردی اختیار کیجیئے، اسے اپنا مرشد اور استاد بنایئے اور اس سے ایسی چیزوں کو جدت کے ساتھ کرنے کا ہنر سیکھیئے جو وہ دنیا بھر کو گھوم کر اپنے دردمند دل سے نکلی آواز کو لبیک کہتے ہوئے آپ کو بتاتے ہیں ، آپ کو "خوشحالی کی دستک" سنواتے ہیں، آپ کو چھپے ہوئے "انمول خزانے" دکھاتے ہیں، آپ کو اپنے وسائل میں رہ کر آگے بڑھنے کی راہ سمجھاتے ہیں۔ زیر نظر چند تصاویر میں نے ایک مقامی سوپر مارکیٹ میں بنائی ہیں جن میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ زرعی اجناس اور پھل کس طرح محفوظ بنا کر مارکیٹ کیئے جا سکتے ہیں۔
اللہ کرے آپ ان باتوں سے اور ان چیزوں سے متاثر ہو کر کچھ ایسا کام شروع کریں جسے دیکھ کر "کریمے" کو بھی کچھ شہہ ملے تو اور کچھ کرنے پر آمادہ ہو جائے۔ کیونکہ ہمارے ملک میں ہر کام بھیڑ چال میں ، حسد میں یا مثبت/منفی مقابلے کیلیئے کیا جاتا ہے۔ میری دعا ہے کہ "رحیمے" کا کچھ کرنا "کریمے" کیلیئے کچھ کر پانے کا سبب بن جائے۔ آمین