طبل جنگ - عنایت خان دیر

پانامہ رچانے والے اس کھیل کومختصر کھیل کر اسے لپیٹنا چاہتے تھے ویکٹیں بھی گرائی گئی ایمپائر ہر اپیل پر انگلی بھی اٹھاتے تھے لیکن دو کھلاڑی کھڑے رھے اور اتنی دیر تک کھڑے رھے کہ اپیلیں کرنے والے اپیلیں کرتے کرتے تھک گئے اور ایمپائر انگلیاں اٹھا اٹھا کر ۔

یہ گیم اتنا دلچسپ تھا کہ اچھے خاصےعقل والے بھی کبھی کبھی کنفیوز ہوا کرتے تھے آخر میں ایمپائر نےحوصلہ ہار کر ایک اپیل پر انگلی اٹھالی اور یہاں سے تماشائیوں نے سوالات اٹھانے شروع کردئیے ۔ جی یہ میچ میاں نواز شریف اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان تھی اور اسٹبلشمنٹ کی سیاست میاں صاحب سے زیادہ کون جانتے ہونگے پانامہ کا ڈرامہ رچا کر اقامہ سے گزرتے ہوئے جیل کے سلاخوں تک پہنچ گیااس دوران شریف فیملی پر کئی مشکلات آگئے وہ اپنے بیوی کے علاج کیلئے لندن چلے گئے تو مخالفین کوموقع مل گیا کہ یہ عدالتوں سے بھاگنے کی بہانے کر رہے ہے ستم تو تب ہوا جب سوشل میڈیا پر اسکی اہلیہ کی جعلی تصاویر اور بھرپور مہم چلائی گئی ۔ میاں صاحب یہ سب سہتے رہے اور ایک دن اپنی بیٹی کی ہاتھ تھام کر وطن واپس پہنچ گئے اور عدالتوں میں ہر روزپیش ہوتے رہے آخرکار انہیں بیٹی سمیت جیل میں ڈال دیا گیا اسی دوران انکی اہلیہ اس جہاں سے رحلت کر گئی میاں صاحب بہت کچھ جانتے ہوئے بھی خاموش ہوگئے اور اپنی اہلیہ کی تدفین کیلئے بھی عدالت کے چکر کاٹتے رہے اہلیہ کی کفن دفن سے فارغ ہوتے ہی جیل چلے گئے اس دفع مخالفین بھی ڈر گئے تھے کیونکہ زخمی شیر ذیادہ خطرناک ہوتا ہے۔

الیکشن سر پر تھے اور میدان خالی کروائے گئے تھے اور اناڑی میدان میں سر پھٹ دوڑ رہے تھے یہاں تک کہ انہیں منزل مقصود تک پہنچایا گیا میاں صاحب یہ کھیل دیکھتے رہے جب انہے یقین ہوگیا کہ راستےمسدود ہوگئے ہیں تو وہ اور اپشنز پر سوچنے لگےہونگے پارٹی کےممبرز پر نظر دوڑایاہوگالیکن مریم جیسا قد کاٹ والے شاید ہی ہو یاد رکھئے یہ وہی مریم ہے جس نے نواز شریف کی غیر موجودگی میں لاہور کی ضمنی الیکش میں اسٹبلشمنٹ کو پوری مشینری کے ساتھ شکست دی تھی اپ مانے یہ نہ ما نے مریم نوازمسلم لیگ میں نواز شریف کے بعد سب سے ذہین رہنما ہے جب بیٹی کو یقین ہوگیا کہ یہ انتقام ختم نہی ہورہی ہے تو اس نے طبل جنگ بجا دیا اور کہتی رہی کہ میں نواز شریف کو مرسی نہیں بننے دونگی پھر ایک قدم آگے بڑکراحتساب عدالت کے جج کی ویڈیو جاری کی گئی اور اللہ کی قدرت دیکھئے جس جج نے جمعہ کے دن نواز شریف کو سزا سنوائی تھی آج اسکو اس ہی دن اپنے عہدے سے سبکدوش ہونا پڑا۔ یہ مرحلہ مریم نوازشریف جیت گئی ظاہر ہےجب جج نہی رہا تو اسکی سزا کیسے برقرار رہی گی۔ کھیل ابھی ختم نہی ہوااگر عدالت نوازشریف کو بری کرتے ہیں تو یہ بھی دیکھنا پڑیگا کہ عین الیکشن کےوقت اسے جیل کیوں بھیجا گیااور وہ کون تھا جو یہ کھیل کھیل رہا تھا اور سب سے بڑ کر ان سب کا بینیفیشری کون ہے۔

ٹیگز