فیصلے کی گھڑی آ پہنچی! خورشید ندیم

سیاسی بصیرت کیا ہے؟ متفرق واقعات میں جاری روحِ عصر کی تلاش۔
کوئی واقعہ منفرد نہیں ہوتا۔ تجزیہ یہی ہے کہ ان میں ربط کو واضح کر دیا جائے۔ جو بات اخبار کے تجزیہ نگار کو ایک عام قاری سے ممتاز بناتی ہے، وہ یہی بصیرت ہے جو واقعات میں ربط ڈھونڈتی اور اسے روحِ عصر کی روشنی میں بیان کر دیتی ہے۔ یوں نتائج مرتب ہوتے ہیں اور پڑھنے والے کو ایک صاف راستہ دکھائی دینے لگتا ہے۔ رہی خامہ فرسائی تو اس کا دروازہ ہمیشہ سے کھلا ہے۔ جس کے پاس قلم ہے، چند شعر ازبر ہیں اور تاریخ کے کچھ واقعات، تو اسے یہ حق بھی ہے کہ صفحات پر صفحات سیاہ کرتا جائے۔ ایک واقعے سے ایک نتیجہ اخذ کرے اور دوسرے سے دوسرا۔ اخلاقیات اور اقتدار کی سیاست کا باہمی تعلق کیا ہے، معیشت اور سیاسی معیشت میں کیا فرق ہے؟ اس طرح کے تمام سوالات سے، تجزیہ نگار کی زیادہ دلچسپی ضروری نہیں۔

آج ہی کا اخبار دیکھ لیجیے! چند خبریں نقل کرتا ہوں:
٭ موٹر وے ایم 5، ملتان سکھر سیکشن مکمل۔ معمار پسِ زنداں انصاف کا منتظر ہے۔
٭ عالمی بینک سے متعلق ایک ثالثی ادارے نے ریکو ڈک مقدمے میں پاکستان پر پانچ ارب ستانوے کروڑ ڈالر کا جرمایہ عائد کر دیا۔ یہ اس ادارے کی تاریخ کا سب سے بڑا جرمانہ ہے۔ پاکستان کی سپریم کورٹ نے متعلقہ کمپنی کے ساتھ معاہدہ کالعدم قرار دے دیا تھا جو اس کے بعد ثالثی ٹربیونل میں چلی گئی۔ ثالثی ادارے کا کہنا ہے کہ یہ عدالتی فیصلہ عالمی قوانین سے عدم واقفیت اور پیشہ ورانہ مہارت کی کمی کا نتیجہ ہے۔ سپریم کورٹ کے جس بینچ نے یہ فیصلہ دیا تھا، اس کی سربراہی افتخار محمد چودھری فرما رہے تھے۔ یہ تو آپ کو یاد ہی ہو گا کہ آئی ایم ایف سے، منت سماجت کے بعد ہمیں جو پیسے ملیں گے وہ کل چھ ارب ڈالر ہیں۔ یہ بھی تین سال میں نیک چلنی کے ثبوت فراہم کر نے کے بعد۔

٭ سابق جج احتساب عدالت ارشد ملک کے بیان حلفی کو آسمانی صحیفہ مانتے ہوئے، عمران خان اور ان کے حامی اخلاقی اقدار کے علم بردار لکھاری، شریف خاندان کو مافیا قرار دے رہے ہیں۔ ان تجزیوں میں جج صاحب کے حسنِ کردار کا کوئی ذکر نہیں۔ غالباً ایسے آدمی کی گواہی کے بارے میں اخلاقیات خاموش ہیں۔
٭ برطانیہ کے اخبار 'میل‘ کی ایک کہانی کا بھی چرچا ہے۔ 'میل‘ کس شہرت کا حامل ہے، فی الحال یہ میرا موضوع نہیں۔
٭ حکومتی پالیسیوں کے خلاف تاجروں کی ملک گیر ہڑتال۔ معیشت کو پچیس ارب کا نقصان۔
٭ مریم کی طرف سے وڈیو کا فرانزک آڈٹ قبول نہیں کریں گے: شہزاد اکبر
٭ شبر زیدی کو وزیر اعظم کا معاونِ خصوصی بنانے کا فیصلہ۔ ان کا عہدہ وزیرِ مملکت کا ہو گا۔ کل ہی سابق گورنر سٹیٹ بینک شمشاد اختر صاحبہ کو بھی کابینہ میں شامل کیا گیا ہے۔

ان تمام خبروں میں ایک ربط ہے۔ موٹر وے، ریکوڈک، عدالتی فیصلہ، میل، مریم نواز، ارشد ملک، شہزاد اکبر، یہ سب علامتیں ہیں۔ ان کی مدد سے کوئی چاہے تو گزشتہ بارہ سال کی، نہ صرف تاریخ مرتب کر سکتا ہے بلکہ ان کی بنیاد پر اُس عارضے کی بھی نشان دہی کر سکتا ہے جو قومی وجود کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ اس ساری کہانی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کھل کر کوئی بات نہیں کہی جا سکتی۔ ان علامتوں، واقعات اور خبروں کے مابین کیا ربط ہے؟
2007ء میں پاکستان ایک نئے دور میں داخل ہوا۔ یہ مشرف صاحب کی مطلق العنانی کا عروج تھا۔ اسی زعم میں، انہوں نے یہ چاہا کہ عدلیہ اور میڈیا کو بھی اپنا تابع فرمان بنائیں۔ جسٹس افتخار چوہدری اور میڈیا نے مزاحمت کا فیصلہ کا۔ سیاسی جماعتوں نے اپنا وزن ان کے پلڑے میں ڈال دیا۔ یوں ملک آمریت سے جمہوریت کے دور میں داخل ہو گیا۔

یہ جمہوری سفر کا ایک اہم پڑاؤ تھا۔ میڈیا اور سیاسی جماعتیں دونوں بلوغت کی طرف بڑھ رہے تھے۔ بجائے اس کے کہ ریاستی ادارے اس ارتقائی عمل کا حصہ بنتے، انہوں نے اس تبدیلی سے اپنے لیے مزید قوت کشید کرنا چاہی۔ اس کے نتیجے میں ملک 'جیوڈیشیل ایکٹوازم‘ کے دور میں داخل ہو گیا۔ سیاسی جماعتیں اس بات کو پوری طرح نہ سمجھ سکیں کہ یہ عدالتی فعالیت جمہوریت کے لیے ایک ابھرتا خطرہ ہے۔ نون لیگ نے اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی؛ تاہم سیاسی جماعتوں نے اتنی بالغ نظری کا ضرور مظاہرہ کیا کہ تاریخ میں پہلی بار ایک سیاسی جماعت کی حکومت نے اپنی مدت مکمل کی اور دوسرے الیکشن بھی وقت پر ہوئے۔
2013ء کے انتخابات میں پہلی بار جمہوریت ایک محتسب کے طور پر سامنے آئی۔ جمہوری عمل نے پیپلز پارٹی کو اقتدار ہی نہیں، عوام سے بھی دور کر دیا۔ نون لیگ ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ بالغ نظر جماعت کے طور پر ابھری۔ اس کی کارکردگی ماضی کے مقابلے میں کہیں بہتر تھی۔ اس نے سیاسی مخالفین کے وجود کو تسلیم کرتے ہوئے، مفاہمتی اور قومی سیاست کی۔ ملک کے دو سب سے بنیادی مسائل، دہشت گردی اور توانائی کے بحران کو ہدف بنایا اور بہت کامیابی کے ساتھ ان کا خاتمہ کر دیا۔

ریاستی نظام میں، مگر 'اداراتی فعالیت‘ خرابی کے ایک عنصر کے طور پر موجود تھی جو بد قسمتی سے اب دو آتشہ ہو چکی تھی۔ عمران خان اس کے 'عوامی‘ نمائندے بن کر ابھرے۔ انہوں نے ایک پوسٹ ٹروتھ کی بنیاد پر ایک ہیجان آور تحریک اٹھا دی۔ سیاسی اعتبار سے نیم خواندہ نوجوان اس کا ایندھن بن گئے۔ ووٹر کی عمر اٹھارہ سال ہو جانے سے، اس ہیجان کو وہ کمک مل گئی جو ایک جمہوری چہرے کے لیے ضروری تھی۔ یوں یہ خرابی سہ آتشہ ہو گئی۔ میڈیا کو شامل کرکے اسے چہار آتشہ بنا دیا گیا۔2018ء کے انتخابات کے نتائج دراصل ان چار قوتوں کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ تھے۔ یہ اتحاد انتخابات کے بعد جاری رہا۔ اس دوران میں ایک نئے سیاسی نظام کی بنا رکھ دی گئی۔ یہ جمہوریت کے نام پر غیر جمہوری قوتوں کا اقتدار ہے۔ ریاستی اداروں کی پشت پناہی سے، ٹیکنوکریٹس کی حکومت کے تصور کو عملی شکل دیدی گئی‘ ساتھ ہی روایتی سیاستدانوں کے سیاسی کردار کو ختم کر نے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ اس کیلئے احتساب اور کرپشن کے مقبول نعرے سے فائدہ اٹھایا گیا۔

اس وقت کابینہ میں غیر منتخب افراد کا اثر و رسوخ منتخب افراد سے زیادہ ہو چکا ہے۔ اکثر اہم وزارتیں غیر منتخب افراد کے پاس ہیں‘ جن کا انتخاب بھی کوئی اور کر رہا ہے۔ شریف خاندان اور بھٹو خاندان کی سیاست ختم کرنے کی کوششیں بھی عروج پر ہیں۔ ہر روز نیا سکینڈل۔ احتساب کے اس عمل میں تحریک انصاف کے غیر ملکی فنڈز کا مقدمہ برسوں سے نظر انداز ہو رہا ہے۔ امید ہے مزید چار سال اسی طرح طاقِ نسیاں پر دھرا رہے گا۔
اگر جمہوریت کو محتسب مان لیا جاتا تو کسی اضطراب سے گزرے بغیر، 2018ء میں ہم سیاسی استحکام کی کئی منازل طے کر چکے ہوتے۔ اس سیدھے راستے کو مسترد کرتے ہوئے، ہم ٹیکنوکریٹس کی حکومت جیسی پگڈنڈیوں پر چل نکلے۔ اس بات کو نظر انداز کر دیا گیا کہ عوامی مینڈیٹ کی نفی ایک خطرناک راستہ ہے۔ یہ خطرہ اب ایک واقعہ بن چکا۔ مریم نواز کی مزاحمت اور ایک جج کی ویڈیو نے منظر بدل ڈالا ہے۔

اگر اخلاقیات کو سامنے رکھا جائے اور اس کی کوئی موضوعی تعریف نہ کی جائے تو سیاسی لوگوں میں زیادہ فرق نہیں ہے۔ اس سے بڑی غلط فہمی بلکہ بد گمانی کوئی اور نہیں ہو سکتی کہ سادھوئوں کا مقابلہ شیاطین سے ہے۔ یہاں کوئی دولت کی آزمائش میں مبتلا ہے اور کوئی شہوت کی۔ سیاست میں جمہوریت اور عوامی مینڈیٹ کی توہین سے بڑی بد اخلاقی کوئی نہیں ہو سکتی۔ افسوس کہ تجزیہ نگار مچھر چھانتے اور اونٹ نگلتے ہیں۔
علاج اب بھی یہی ہے کہ جمہوریت کو محتسب مان لیا جائے۔ اس سے انحراف نے ملک کو عدم استحکام کے خطرناک راستے پر ڈال دیا ہے۔ اگر آپ کو اس نتیجہ فکر سے اختلاف ہے تو ان خبروں پر ایک نظر پھر ڈال لیجیے، جن کا میں نے ذکر کیا ہے۔