ٹیکس تو دینا پڑے گا- انصار عباسی

ہفتہ کے روز پاکستان بھر کے تاجروں اور کاروباری طبقہ کی جانب سے ملک بھر میں ہڑتال کی گئی جسے عمومی طور پر کامیاب گردانا گیا لیکن سچ پوچھیں تو یہ کیسی کامیابی ہے کہ پاکستان کی وہ اکثریت جو پیسہ تو کماتی ہے، لاکھوں کروڑوں کا کاروبار کرتی ہے لیکن ٹیکس نہیں دیتی، اور نہ دینا چاہتی ہے۔ ٹیکس دینے کا پاکستان میں رواج نہیں بلکہ پاکستان دنیا کے اُن چند ممالک میں شامل ہے جہاں سب سے کم تعداد میں لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ بائیس کروڑ کی آبادی میں تقریباً بارہ لاکھ لوگ انکم ٹیکس فائلر ہیں جو کل آبادی کا 1فیصد سے بھی کم ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ 20کروڑ کی آبادی کا سارا بوجھ پہلے سے ٹیکس نیٹ میں موجود دس بارہ لاکھ افراد پر ڈالا جائے اور پیسہ کمانے والوں کی وہ اکثریت جس کا تعلق خواہ کاروباری طبقہ سے ہو، زراعت، وکالت اور ڈاکٹری سمیت ایسے پیشوں سے جن کی آمدن کا کوئی باقاعدہ ریکارڈ نہیں ہوتا، وہ ٹیکس نیٹ میں شامل ہونے سے انکاری ہی رہے؟ پاکستان میں ٹیکس نیٹ میں شامل اکثریت کا تعلق اُس تنخواہ دار طبقہ سے ہے جن کی آمدن کا ریکارڈ پہلے سے ہی انکم ٹیکس محکمہ کے پاس موجود ہے اور جن کے انکم ٹیکس کی کٹوتی اُن کی تنخواہ کی ادائیگی سے پہلے ہی کر دی جاتی ہے۔

گویا بحیثیت قوم ہم پاکستانی نہ انکم ٹیکس دینا چاہتے ہیں اور نہ ہی اپنے اثاثے ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔ اسی بنا پر یہاں ہر حکومت کا اپنی آمدن کے لیے اِن ڈائریکٹ یعنی بالواسطہ ٹیکسوں پر زور رہا جس کا سب سے زیادہ دبائو غریب طبقہ پر پڑتا ہے۔ مختلف حکومتوں نے اپنے ادوار میں کوششیں کیں کہ پاکستان میں انکم ٹیکس دینے والوں یعنی ٹیکس نیٹ میں اضافہ کیا جائے اور ملکی معیشت کو ڈاکیومنٹڈ کیا جائے لیکن بار بار ایمنٹسی اسکیمیں جاری کرنے کے باوجود اس سلسلے میں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ہوئی۔ کاروباری طبقے اور تاجر برادری نے ہمیشہ معیشت کو ڈاکیومنٹڈ کرنے کی کوششوں کی مخالفت کی۔ سیاسی جماعتوں کا بھی اس معاملہ میں کردار منفی اور سیاسی رہا۔ یعنی حکومت میں رہ کر سیاسی جماعتیں کوشش کرتی ہیں کہ ٹیکس نیٹ میں اضافہ ہو، معیشت ڈاکیومنٹڈ ہو، بلیک اکانومی کا خاتمہ ہو لیکن جب یہی سیاسی پارٹیاں اپوزیشن میں ہوتی ہیں تو احتجاج کرنے والے تاجروں اور دوسرے طبقوں کے ساتھ احتجاج میں شامل ہو جاتی ہیں۔ اس معاملہ میں سیاسی جماعتوں کی سیاست نے پاکستان کو بہت نقصان پہنچایا اور ٹیکس چوری ہمیشہ سے بہت بڑا مسئلہ رہا۔

سب کو معلوم ہے کہ عمران خان کے گزشتہ سال نون لیگی حکومت کی ایمنسٹی اسکیم سے متعلق کیا خیالات تھے اور اُنہوں نے اس اسکیم میں حصہ لینے والوں کو کیا دھمکی دی تھی لیکن اس کے باوجود تحریک انصاف حکومت کی ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کی کوشش اور معیشت کو ڈاکیومنٹڈ کرنے کی پالیسی پاکستان کے مفاد میں ہے اور اس کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہو گی۔

تحریک انصاف حکومت اور وزیراعظم عمران خان سے ہزار اختلاف کے باوجود تاجر برادری کی ہڑتال کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔ چاہے یہ ہڑتالیں کتنی ہی کامیاب کیوں نہ ہوں، ان ہڑتالوں کا کوئی اخلاقی جواز نہیں۔ تاجر برادری کو سمجھنا ہوگا کہ ٹیکس دیئے بغیر پاکستان مزید آگے نہیں چل سکتا، بلیک اکانومی، بے نامی جائیداد اور کاروبار، جعلی اکائونٹس، حوالہ اور ہنڈی کا سلسلہ مزید نہیں چلایا جا سکتا۔ اگر لوگ ٹیکس نہیں دیں گے تو ہمارا کوئی مستقبل نہیں، اس سے پاکستان کو دیوالیہ ہونے کا شدید خطرہ لاحق ہوگا یعنی نقصان پاکستان اور پاکستانیوں کا ہی ہوگا۔ اس لیے ٹیکس نیٹ کو بڑھانے اور معیشت کو ڈاکیومنٹڈ کرنے کی ہر کوشش کی کامیابی کے لیے ہر پاکستانی کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔

اس وقت ’’ٹیکس تو دینا پڑے گا‘‘ کے نعرہ کو رواج دینے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے سب کو سیاست سے بالاتر ہونا پڑے گا۔ یہاں حکومت پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایف بی آر میں اصلاحات لائے اور ایسا سسٹم بنائے کہ ٹیکس دینے والوں کو انکم ٹیکس محکمہ کی طرف سے ہراساں اور بلیک میل ہونے سے بچایا جا سکے۔ انکم ٹیکس محکمے کے جو حالات ہیں، اُس کو دیکھتے ہوئے بہت سے ایسے افراد جو ٹیکس نیٹ میں آنا چاہتے ہیں، ڈر جاتے ہیں کیونکہ عمومی طور پر یہ تاثر ہے کہ محکمہ والے ٹیکس دینے والوں کو ہی بلیک میل کرتے ہیں اور جو ٹیکس نیٹ سے باہر ہے، اُسے کچھ نہیں کہا جاتا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ایف بی آر ٹیکس نیٹ میں شامل ٹیکس دہندگان کو بلیک میل کرنے اور پریشان کرنے کے بجائے ٹیکس نادہندگان کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرے۔ انکم ٹیکس محکمہ کو ٹھیک کرنے کے ساتھ ساتھ وزیراعظم عمران خان اور اُن کی حکومت کو یہ بھی سوچنا چاہئے کہ اُن کے دورِ حکومت کے دوران آخر ایسا کیا ہوا کہ کاروباری حالات نہایت ابتر ہو گئے، بیروزگاری کی شرح میں اضافہ ہوا، بہت سے صنعتیں بند ہو چکیں، یہاں تک کہ گاڑیاں بنانے والی اہم ترین کمپنیوں نے اپنی پروڈکشن میں نصف کمی کر دی۔ عمومی طور پر کاروباری طبقہ رو رہا ہے کہ کاروباری حالات بہت خراب ہیں۔ خان صاحب اور حکومت کو یہ بنیادی نکتہ سمجھنا چاہئے کہ اگر کاروبار نہیں ہوگا تو ٹیکس کہاں سے جمع ہوگا۔