ناکام بغاوت اور ترک قوم کا جذبہ - عالم خان

آج سے تین سال پہلے جب پندرہ جولائی شام کے سات بجے مقدونیہ میں ایک بین الاقوامی کانفرنس سے واپس استنبول پہنچا تو ائر پورٹ پر غیر معمولی رش اور نقل و حرکت محسوس کرتے ہوئے سوچا کہ شاید سفر کی تھکاوٹ کی وجہ سے مجھے یوں لگ رہا ہے اور اگلے ایک آدھا گھنٹہ بعد مقامی پرواز میں بیٹھ کر طرابزون کے لیے روانہ ہوا رن وے مصروف تھا یا اور کوئی وجہ تھی کہ جہاز تقریبا چالیس[٤٠] منٹ لیٹ ہوا اور جوں ہی جہاز نے رن وے پر حرکت شروع کی تو میں نے وینڈو سیٹ سے استنبول کی خوبصورتی کو کیمرے کی آنکھ سے قید کرنا شروع کیا اسی دوران ایسا محسوس ہوا کہ ائر پورٹ کے اندر بھگدڑ جاری ہے لیکن جہاز نے فضا کا سینہ چھیرتے ہوئے سارا منظر آنکھوں سے غائب کردیا۔

ہم طرابزوں کی طرف محو پرواز تھے اور میں مطالعہ کے لیے لیپ ٹاپ میں ایک مناسب کتاب کی تلاش میں مصروف تھا کہ کپتان نے جزوی بغاوت کی خبر دی اور ساتھ طرابزوں ائرپورٹ پہ اترنے کی اجازت اگر نہ دی گئی تو کہیں اور قریبی ائرپورٹ پر اترنے کی پیشگی اطلاع دی اعلان سنتے ہی بغاوت کی تفصیلات اگرچہ مجہول تھیں لیکن جہاز میں ہر مسافر کو ملک وملت کے لیے فکر مند پایا اس لیے ہر ایک کے لب پر ایک ہی دعا جاری تھی یا اللہ ہمارے ملک وملت کی حفاظت فرما یہی وہ لمحات تھے جس میں ترک قوم کی حب الوطنی کا قریب سے مشاہدہ کیا اور اگلے چند لمحوں بعد طرابزون ائرپورٹ پہ اترنے کی نوید بھی سنائی گئی۔ طرابزون ائر پورٹ پہ اترنے کے بعد میں نے وترک قوم کا وہ جذبہ اپنے آنکھوں سے دیکھا جسکی مثال عہد موجود میں نہیں ملتی جو میرے لیے خواب کی مانند تھا مسجدوں کے میناروں سے اللہ اکبر اور الصلاۃ والسلام کے نعرے بلند ہورہے تھے بچے، بوڑھے، جوان اور مرد وخواتین کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر جذبہ حب الوطنی سے سرشار میدانوں اور اہم سرکاری عمارتوں کی طرف بلا خوف رواں دواں تھا جن کے ہاتھوں میں ایک ہی پرچم اور زبان پہ ایک ہی نعرہ تھا [یا الله_ بسم الله _ الله اكبر] یقین کریں یہ نعرہ صرف داڑھی والے مرد اور حجاب پوش خواتین نہں لگا رہی تھیں بلکہ وہ خواتین بھی لگا رہی تھیں جو ٹائٹس اور شارٹس میں گھروں سے نکلی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں:   رجب طیب ایردوان کے ساتھی پارٹی کیوں چھوڑنے لگے؟ ڈاکٹر فرقان احمد

یہ روح پرور مناظر اور پرجوش نعرے اگلی صبح تک جاری رہے حتی کہ بغاوت کی ناکامی کا اعلان ہوا اور نماز فجر کے ساتھ ساتھ نماز شکر مرد وخواتین نے سڑکوں پر باجماعت ادا کی اور گھروں کو روانہ ہوئے۔ عزم و استقامت کا یہ سفر وہیں ختم نہیں ہوا بلکہ اس غیرت مند قوم کے مرد وخواتین اس سے زیادہ تعداد میں ہر رات قریبی میدانوں میں نکلتے تھے اور صبح تک پہرہ دیتے تھے اس عزم وارادے کے ساتھ کہ جو بھی سر اٹھائے گا اس کا سر کچل دیا جائے گا ایک اجنبی ہونے کے ناطے میرے لیے جو بات حیران کن تھی وہ ہفتوں جاری اس اجتماعی پہرہ داری میں شریک مردوخواتین، بچے بوڑھوں اور جوانوں کا نظم ونسق، صفائی، عزت اور آپس میں محبت واحترام تھا ترکی کے ہر شہر میں لوگ فجر تک میدانوں میں شیر خوار بچوں کے ساتھ پہرہ دیتے تھے لیکن کہیں بھی خواتین کو چھیڑنے یا لڑائی چوری کے واقعات رپورٹس نہیں ہوئے تھے جو اس قوم کی عظمت اور مہذب ہونے کی واضح دلیل ہے۔
اس تاریک دن کے بعد ہر سال پندرہ جولائی سرکاری سطح پر منایا جاتا ہے جس میں اسی طرح مسجدوں سے صلاۃ وسلام کی صدائیں بلند ہوتی ہیں اور اس ملک کی سالمیت کی خاطر ٹینکوں کے آگے لیٹے گئے بہادروں، شہداء اور زخمیوں کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے کیونکہ اس گلشن کی سیرابی ان کے مقدس خون سے ہوئی ہے، جنہوں نے سابقہ تاریخ سے سبق سیکھ کر ایک نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے زندہ قوم ہونے کا ثبوت دیا اور اپنے منتخب صدر رجب طیب اردوغان کا تختہ الٹنے سے بچایا تھا۔ الحمد للّٰہ

Comments

عالم خان

عالم خان

عالم خان گوموشان یونیورسٹی ترکی، میں فیکلٹی ممبر اور پی ایچ ڈی کے طالب علم ہیں۔ اسلام اور استشراقیت ان کی دلچسپی کا موضوع ہے۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.