منہ کی بو ختم کریں - بشارت حمید

میں اپنی جاب کے سلسلے میں ملتان میں تھا ۔ ہاسٹل سے دفتر جاتے ہوئے گاڑی میں ریڈیو آن کیا تو ایک ایف ایم چینل پر میزبان خاتون دانتوں کی صفائی کے حوالے سے گفتگو کر رہی تھی کہ دانت کھانے سے پہلے نہیں بلکہ بعد میں صاف کرنے چاہیئں۔ مجھے اسکی بات بہت عجیب لگی کہ یہ کون سا نیا طریقہ ہے۔ میری اپنی روٹین یہ تھی کہ بس ایک بار صبح ناشتے سے قبل ہی برش کیا کرتا تھا۔

اس خاتون نے جب تھوڑا تفصیل سے بات کی کہ اصل صفائی تو ہے ہی کھانے کے بعد۔۔ جب ذرات دانتوں میں ہھنس جاتے ہیں تو انہیں برش یا مسواک کرکے صاف کرنا چاہیئے۔ تب یہ بات سمجھ میں آ گئی اور پھر اس کے بعد سے اب تک یہی روٹین ہے کہ جب بھی کچھ کھایا ہے اس کے بعد جتنا جلد ممکن ہوا دانت برش ضرور کئے ہیں اور جب تک برش کر نہیں کیا تب تک اپنے آپ سے ہی گھن آتی رہتی ہے۔ خاص طور پر رات سونے سے قبل دانت ضرور صاف کئے جائیں۔ بچپن میں پی ٹی وی پر طارق عزیز صاحب کا نیلام گھر آتا تھا بچے بڑے سب شوق سے دیکھا کرتے تھے۔ ایک بار طارق عزیز صاحب نے آڈئینز سے کہا کہ جس کے پاس جیب یا پرس میں ٹوتھ برش ہے وہ سٹیج پر آئے اس کے لئے ایک سرپرائز گفٹ ہے تو ایک خاتون نے اپنے پرس سے برش نکال کر دکھایا اور انعام کی حقدار ٹھہری۔ تب سے دانتوں کی صفائی کی اہمیت غیر محسوس طریقے سے ذہن میں بیٹھ گئی تھی۔ اکثر ہم کسی سے ملتے ہیں اور دوران گفتگو ایک انتہائی ناخوشگوار بو کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو مخاطب کے برش باقاعدگی سے نہ کرنے کی وجہ سے اس کے منہ سے آ رہی ہوتی ہے۔ اب جو حساس طبعیت بندہ ہوتا ہے اس کے لئے یہ بو ناقابل برداشت ہوتی ہے لیکن مروت کی وجہ سے مخاطب سے کہہ بھی نہیں سکتا کہ منہ ذرا پیچھے رکھ کر بات کرو۔۔ تو وہ بہت مشکل میں پھنس جاتا ہے۔۔

اس لئے یہ بات پلے باندھ لیں کہ جب بھی کوئی کھانا یا چھوٹی سی چیز یہاں تک کہ ایک بسکٹ بھی کھائیں اور اس کے بعد برش نہ کریں تو منہ کی بو دوسروں کو پریشان کرتی ہے۔۔ اگر کسی وجہ سے برش کرنے میں تاخیر ہو رہی ہو تو تب تک اپنی سانس کو باہر نکالتے وقت اور دوسروں سے بات چیت کرتے وقت زیادہ قریب ہو کر نہ بیٹھیں اور منہ کی بجائے ناک سے سانس لیں۔
کچھ لوگوں کی سانس سے کسی بیماری کی وجہ سے مستقل بو آتی ہے اور انہیں برش کرنے سے بھی افاقہ نہیں ہوتا۔۔ وہ کسی اچھے ڈاکٹر سے اپنا علاج کروائیں کیونکہ اس بو کی وجہ سے لوگ آپکے قریب ہونا پسند نہیں کریں گے۔ جب تک صحت یابی نہ ہو تب تک سانس باہر نکالنے کی رینج کم سے کم رکھیں اور دوسروں کی طرف منہ کرکے سانس نہ لیں۔ بعض لوگوں کو بلاوجہ وقفے وقفے سے لمبے سانس لینے اور پھر منہ سے لمبی پھووووووو کرنے کی عادت ہوتی ہے۔۔ یہ بھی آداب محفل کے خلاف حرکت ہے اس سے بھی اجتناب کرنا چاہیئے . ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دانتوں کی صفائی کی بے حد تلقین فرمائی ہے۔ یہاں تک فرمایا کہ اگر یہ امت پر بوجھ نہ لگتا تو ہر نماز سے قبل مسواک کرنا فرض قرار دے دیتا۔۔ اللہ اکبر۔۔ اور ادھر امت کی کیا حالت ہے۔۔ صفائی جو نصف ایمان ہے ہم اس سے کوسوں دور رہتے ہیں۔ اس لئے دانت صاف کرنے کو ہرگز ہلکا نہ لیں کہ کر لئے تو بھی ٹھیک اور نہ کئے تو بھی ٹھیک ۔۔ یہ ہماری جسمانی اور روحانی پاکیزگی کیلئے بہت ضروری عمل ہے اور اس پر باقاعدگی اختیار کی جانی چاہیئے

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.