امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ - حامد کمال الدین

شاہ سلمان کے شروع دنوں میں یمن تا ترکی تا غزہ تا شام، فاعلیت سے لبریز اور کافر کو دُکھنے والے مسلم طبقوں کے ساتھ ایک یکجہتی نظر آنے لگی تھی اور امیدوں کا گراف بھی ایک بڑے تعطل کے بعد کسی قدر اوپر جانے لگا تھا۔ (ہم سے بھی اُس دور میں سعودی فیصلہ سازوں کےلیے جس قدر کلماتِ خیر کہے جا سکے، ہم نے کہے)۔

لیکن جلد ہی صاحبزادے کے ہاتھ معاملات آ جانے سے جو ایک ’موقع‘ آیا، اسے خطے میں امریکہ و اسرائیل کے خاص اعتماد یافتہ ٹولے (بن زاید و سیسی وغیرہ) نے بھرپور استعمال کیا اور سعودیہ کو اُن فاعلیت سے لبریز، کافر کو چُبھتے، مسلم طبقوں سے دُور بلکہ اُن کے ساتھ محاذ آرا کروانے میں حیرت انگیز حد تک کامیاب ہو گئے، سعودیہ کے بیرونی تعلقات کے اندر بھی اور اندرونی سطح پر بھی۔ پھر جب برخوردار کی انگلی پکڑ کر سعودیہ کو ایک ایک کر کے ان تمام دوستوں سے محروم اور دور کروا دیا گیا جنھیں باباجی اپنے شروع دنوں میں قریب کرنے، یا اُن سے قریب ہونے، میں خاصی حد تک کامیاب ہوئے تھے... خصوصاً یمن میں تو سعودیہ کو بےحد و حساب خوار کروا دیا گیا، یہاں تک کہ حوثی سعودی شہروں اور ہوائی اڈوں پر اب دھڑلے سے میزائل داغتے پھر رہے ہیں۔ (بعض رپورٹوں میں، یہ میزائل عرب کے ’اشرف غنی‘ بغداد حکومت کے زیرانتظام اڈوں کو استعمال کرتے ہوئے دراصل ایرانی فوجی سعودی شہروں پر داغ رہے ہیں، البتہ نام ’حوثیوں‘ کا، کیونکہ حوثیوں پر بظاہر ’غیر ملکی جارحیت‘ ہوتی رہنے کے باعث، عالمی برادری کی نظر میں انھیں ایک درجے میں جواب دینے کا حق حاصل ہو گیا ہے؛ کہ بھئی جنگ تو جنگ ہے جب تک تھم نہیں جاتی!)، اور پھر جب سعودیہ کی جیلیں اس کے حقیقی ہمدردوں سے کھچا کھچ بھر گئیں اور آزاد آوازوں سے ملک سائیں سائیں کرنے لگا، ’’هيئة الأمر بالمعروف ونهي عن المنكر‘‘ (امر بالمعروف و نہی عن المنکر کےلیے دولتِ وہابیہ کا ایک نہایت مضبوط قابل رشک آرگن، جس کے دم سے سعودی معاشرہ آج تک اسلامی روایات کی فی زمانہ بلند ترین سطح پر کھڑا ہے، اللہ اس کی حفاظت فرمائے) اس هيئة الأمر بالمعروف کا تیاپانچہ کروا لیا گیا اور ملک میں فواحش کا ایک سیلاب جاری کروا دیا گیا... غرض سعودی عرب کو بیرونی و اندرونی حوالے سے اس نقطے تک پہنچا لینے کے بعد، یوں ہوتا ہے کہ امارات کا ایک وفد ایرانی دارالحکومت طہران جاتا ہے (بیمار ہوئے جس کے سبب!) اور خود اماراتی شہزادہ روس پہنچتا ہے اور یمن کے مسئلہ پر ایک ڈیل کر آنے کی کوشش کرتا ہے! (ڈیل ہو سکی یا نہیں) البتہ بظاہر یکطرفہ طور پر یمن سے اپنی فوجیں نکال لینے کا فیصلہ کر لیا جاتا ہے! نكص على عقبيه وقال إني بريء منكم إني أرى ما لا ترون!

ہمدردوں نے اس دوران بہت سمجھایا تھا کہ یہ امارات اور سیسی وغیرہ ٹولہ (جنہیں صهاينة العرب کہا جاتا ہے یعنی عرب زائنسٹ) صرف تمھیں خراب کرے گا، اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ خصوصا اماراتیوں کا تو سب سے بڑا کینہ و بغض رہا ہی سعودیہ کے ساتھ ہے، وہ کب تمھارا خیرخواہ ہو سکتا ہے۔ لیکن اس وقت تو نجانے بن زاید ایسے ’ہمدرد‘ کے ساتھ جا چڑھنے میں کیا کیا اہداف پورے ہوتے دکھائے گئے تھے کہ برخوردار نے ایک نہ سنی۔

یہ بھی پڑھیں:   یروشلم اسرائیل کا دارالحکومت کیوں نہیں ہوسکتا؟ ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ادھر خاشقجی نامی ایک شخص کے قتل کو بنیاد بنا کر اور میڈیا میں اسے مرنے نہ دے کر، امریکہ اور یورپ کے سیانے "keep carrot and stick together" (گاجر اور چھڑی ایک ساتھ دکھاؤ) کی جو ایک نہایت مؤثر پالیسی چلا رہے ہیں، (ان میں سے ایک ڈراتا ہے، دوسرا ’احسان‘ کر کے اور ’امریکی میڈیا کی مخالفت اور غصہ کی پروا نہ کرتے ہوئے‘ اسے قریب کرتا اور حوصلہ دلاتا ہے!) وہ کمال پالیسی، علاوہ دیگر عوامل، برخوردار سے اسرائیل کےلیے ایک غیرمعمولی چھوٹ لینے میں حیرت انگیز حد تک کامیاب جا رہی ہے۔

امارات کے یمن سے نکل آنے کے اِس واقعہ پر، کئی ایک تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ سعودیہ کا یمن سے نکل آنا اب اگر ٹھہر بھی گیا ہے، تو امارات کے اس اقدام سے ہوگا یہ کہ خطے میں فیصلہ سازی کا مرکز ابوظبی نظر آئے نہ کہ ریاض! یعنی امارات آگے اور سعودیہ پیچھے! اور خواری جو سعودیہ کو لاحق ہوئی وہ الگ! اماراتی ولی عہد کے بارے میں تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ یہ شخص صرف اس مار پر ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے نام نہاد ’’پس فلسطین‘‘ post-Palestine عہد میں خطے کی تھانیداری یا نمبرداری کے لیے عالمی چودھریوں کی نظرِ انتخاب اسی پر رہے اور اِس میں کوئی اُس کا شریک نہ ہو۔ یعنی سعودیوں کےلیے کوئلوں کے اس پورے کاروبار میں ’جان بخشی‘ سے بڑھ کر کچھ نہیں (وہ بھی اگر ہو)۔ ہاتھ ماریں گے تو بھی دوسرے! خواہ بیت المقدس کا سودا ہو یا ملت فروشی کی کوئی اور ڈیل، وصولی کرنے والے کوئی اور ہی ہوں گے؛ وصالِ صنم بھی یہاں اپنی پہنچ میں نہیں!

امارات کے اس فیصلے کی ساتھ ہی، مبصرین کی نگاہ میں، یہ امکان پیدا ہو گیا ہے کہ سعودی عرب حوثیوں کے ساتھ مذاکرات کی میز پہ جا بیٹھنے پر مجبور ہو جائے، جوکہ خطے میں ایک نئے عمل کا آغاز ہوگا، یعنی ایرانی پراکسیز کا کردار عراق تا یمن نرا ’جارحانہ‘ و ’عسکری‘ و ’غیرقانونی‘ سے ہوتا ہوا اب کسی قدر ’’آفیشل‘‘ ہو جائے اور یہ گھیرا اب ایک تسلیم شدہ recognized چیز بن جائے، ’اگلا فیز‘ پھر تھوڑی دیر بعد!

یہ بھی پڑھیں:   وہ رات جب امریکہ نے چینی سفارت خانے پر بمباری کی

تجزیہ کاروں کا خیال ہے سعودیہ اگر امارات کو اپنے فیصلے پر نظرثانی پر آمادہ کرتا ہے، جس کا بظاہر کوئی امکان نہیں، تو وہ ’’عرب زائنسٹوں‘‘ کے بہت سے مزید نخرے پورے کروانے کی قیمت پر ہوگا، نیز امارات کی ’عافیت‘ کےلیے ایران کی بھی بہت سی فرمائشوں کو غیر ضروری اعتناء بخش کر۔ ویسے بن زاید و سیسی ٹولہ سعودیہ کو جس نقطے تک لے آیا ہے، اغلب یہ ہے کہ سعودیہ اسرائیل اور ایرانی پراکسیز ہر دو کو چھوٹ دینے کے کئی اقدام اب بغیر ’’شرط‘‘ کے کرے!

خاصی دور کا ایک امکان یہ بھی ہے کہ سعودی فیصلہ سازوں کو اپنی ’’وہابی‘‘ بنیادوں پر پھر سے جا کھڑا ہونے کی سوچ آ جائے، جو کہ اندریں حالات اس کےلیے واحد باعزت آپشن ہے۔ محض ایمانی و اخروی اعتبار سے نہیں، بلکہ سیاسی اعتبار سے بھی!

Comments

حامد کمال الدین

حامد کمال الدین

حامد کمال الدین ایقاظ (ماہنامہ، ویب سائٹ) کے ایڈیٹر، اور 20 سے زائد کتب کے مصنف ہیں۔ دین سے وابستہ تحریک اور معاشرہ، اصولِ سنت، تجدید اور تجدد کے مابین خط فاصل کا بیان ان کا دلچسپی کے موضوعات ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.