تاجروں کی ہڑتال اور ٹیکس، حقیقت کیا ہے؟ ابن فاضل

تاجروں کے نمائندوں اور حکومتی وفد کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کے بعد ملک بھر کی مختلف مارکیٹوں میں تاجروں کی ہڑتال جاری ہے . تاجر حق پر ہیں یا سرکار. جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ منڈیوں میں دو طرح کا مال فرخت ہوتا ہے۔ 1: پاکستانی ساختہ ، 2: درآمد شدہ

جو مال پاکستانی صنعتیں تیار کرتی ہیں۔ ان صنعتوں کو میں ہم ٹیکس کے اعتبار سے تین حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں: 1: بڑی صنعتیں جو انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ ہیں۔ 2: درمیانی اور چھوٹی صنعتیں جو صرف انکم ٹیکس میں مندرج ہیں۔ 3:چھوٹی صنعتیں جو کسی ٹیکس میں بھی رجسٹر نہیں۔ سب طرح کی صنعتیں ظاہر ہے بجلی سے چلتی ہیں، اور ننانوے فیصد بجلی سرکاری سے خرید کرتی ہیں۔ سو پر ماہ بل آتا ہے۔ بجلی کا بل ایک ایسا ڈاکومنٹ ہے جس سے فرار ممکم نہیں۔ ایک کلک سے سارا ریکارڈ دیکھا جا سکتا ہے کہ کوئی صنعت کب سے چل رہی ہے اور اس کی پیداوار میں بتدریج کتنا اضافہ ہورہا ہے۔ سو صنعتکاروں کےلیے ٹیکس سے بچنے کا کوئی بہانہ نہیں رہتا۔ اس پر ٹیکس ڈیپارٹمنٹ نے ایک سادہ سا فارمولا بنا رکھا ہے کہ کسی بھی فیکٹری کا جس قدر بل ہوگا وہ کم از کم اس سے چار گنا مالیت کا سامان تو بناتی ہوگی۔

مثال کے طور پر اگر کسی فیکٹری کا بل اوسطاً پچاس ہزار ماہانہ ہے تو وہ کم از کم دو لاکھ روپے کا ماہانہ مال تیار کرتا ہے، گویا چوبیس ہزار سالانہ. ایسی صنعتیں جو پچیس لاکھ سالانہ سے کم مال تیار کرتی ہیں ان کو صرف انکم ٹیکس رجسٹریشن درکار ہوتی ہے۔ پچیس لاکھ سے زیادہ سالانہ پیداوار دینے والے کارخانوں کو سیلز ٹیکس میں رجسٹریشن لازمی ہے۔ اور انہیں اپنے سارے مال پر سترہ فیصد کے حساب سے سیلز ٹیکس جمع کروانا پڑتا ہے۔ یہ سیلز ٹیکس سرکاری خزانے میں جمع ہونے کے ساتھ ہی اس کمپنی کے سرکاری اکاؤنٹ میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے جس کی رسائی سب تک ہوتی ہے۔ اب بجلی کے بل کی وجی سے ایسی صنعتیں بہت کم ہوتی ہیں جو مطلوبہ حد تک پیداوار کرنے کے باوجود بھی سیلز ٹیکس میں رجسٹر نہ ہوں۔ یوں کم از کم اسی نوے فیصد صنعتیں سیلز دامے درمے ٹیکس اور انکم ٹیکس ادا کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   نئے پاکستان میں عوام کو لوٹنا ممکن نہیں - معصوم رضوی

اب ان صنعتوں کا مال مارکیٹ میں تھوک فروشوں کے پاس آتا ہے۔ حکومت کے پاس ان تھوک فروشوں کی فروخت جانچنے کا ایسا کوئی طریقہ نہیں۔ لہذا ایک ایک تھوک فروش جو روزانہ لاکھوں کا مال بیچتا ہے اور ماہانہ لاکھوں روپے کماتا ہے۔ سال بھر میں محض چند ہزار روپے ٹیکس اور چند ہزار روپے رشوت ادا کرکے اپنی خلاصی کروالیتا ہے۔ جس کی تازہ مثال یہ ہے کہ گذشتہ سال صنعتکاروں کے دیے گئے سیلز ٹیکس کے مطابق اسی لاکھ ٹن چینی پیدا ہوئی، جبکہ دکانداروں کے جمع شدہ گوشواروں کے مطابق انھوں نے صرف دس ہزار ٹن چینی بیچی۔ باقی کی چینی کہاں گئی؟ یہی حال سٹیل ملز اور سریے کے تاجروں کا ہے۔ علی ھذالقیاس۔ اب سرکار چاہتی ہے کہ کوئی بھی مل اس وقت تک تاجروں کو مال نہ بیچے جب تک کہ وہ اس کا اندراج اپنے سرکاری کھاتے میں نہیں کرتے۔ ایسا کرنے سے ناصرف یہ کہ ان تاجروں کا پورا ریکارڈ سرکار پاس آجائے گا بلکہ یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ انہوں نے اب تک کتنی ٹیکس چوری کی۔

اس وجہ سے تاجر ہڑتال پر ہیں۔ اور یہ پہلا موقع نہیں اس سے پہلے بھی جب کبھی حکومتوں نے ان کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوشش کی، ان کا یہی رویہ رہا۔ بلکہ صرف یہی نہیں، مقامی صنعت کار کو مایوس کرکے سستے داموں اشیاء خریدنے، ان سے ادھار مال خرید کر کئی ماہ معاوضہ ادا نہ کرنے اور پاکستانی مال کو دونمبر مہریں لگا کر گاہکوں کو لوٹنے جیسے بہت سے جرائم ان تھوک فروشوں کے نامہ اعمال پر ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ملکی صنعت کی زبوں حالی میں سب سے زیادہ حصہ تھوک فروشوں کا ہے۔ کسی صنعتکار کو ڈاکومنٹڈ اکانومی سے کوئی مسئلہ نہیں کہ پہلے سے ٹیکس دے رہے ہیں۔ صرف اور صرف تاجران اور وہ تھوک فروش تاجران ہیں جن کو ٹیکس چوری اور من مانی کی لت پڑ چکی ہے۔ یہ اس عمل میں رکاوٹ ہیں۔ حکومت اگر سنجیدہ ہے اور وہ اس بار ان کو ڈاکومنٹڈ اکانومی میں لانے میں کامیاب ہوگئی تو فی الحقیقت یہ ملک کی بہت بڑی خدمت ہوگی۔