ایغور مسلمان، کوئی پرسانِ حال نہیں - مسعود ابدالی

پاکستان، سعودی عرب ، نائیجیریا اور الجزائر نے یغور (ترکستانی) مسلمانوں سے متعلق چینی مؤقف کی حمایت کر دی۔ اس کا پس منظر کچھ اس طرح ہے کہ 8 جولائی کو انسانی حقوق کی کمشنر محترمہ مشل بیشلیٹ Michelle Bachelet نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کو ایک خط لکھا جس میں اقوام متحدہ کی توجہ چین میں انسانی حقوق کی پامالی کی طرف مبذول کرائی گئی تھی۔ اس خط میں مسلمانوں کی حالت زار کا تفصیل سے ذکر کرتے ہوئے چین پر زور دیا گیا کہ وہ سنکیانگ میں رہنے والے لاکھوں ایغور مسلمانوں کی گرفتاریاں بند کرے۔ محترمہ بیشلیٹ کے مطابق بیگار کیمپوں کے انداز میں تشکیل دیے گئے حراستی مراکز میں لاکھوں مسلمان نظر بند ہیں۔ خط میں ایغور مسلمانوں کی کڑی نگرانی پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

محترمہ نے چین سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین پر عمل کرتے ہوئے سنکیانگ سمیت پورے ملک میں بنیادی انسانی حقوق اور مذہبی آزادیوں کا احترام کرے اور ایغور مسلمانوں سمیت سنکیانگ میں موجود تمام اقلیتوں کی بےقاعدہ گرفتاریوں اور آزادانہ نقل وحرکت پر عائد پابندیاں ختم کردے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق بیس لاکھ یغور مسلمانوں کو بیگار کیمپوں میں ٹھونس دیا گیا ہے، جسے چینی حکومت ’’ری ایجوکیشن ‘‘ کیمپ کہتی ہے۔ خط میں انسانی حقوق کے عالمی ادارے HRW کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سنکیانک میں ہزاروں مسلمان بچوں کو ان کے والدین سے علیحدہ رکھا جا رہا ہے۔ HRW نے اس طرز عمل کو سماج کی جبری و مصنوعی تشکیل اور تقافتی نسل کشی قرار دیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ایغور مسلمانوں کی حالت زار کا جائزہ لینے کے لیے اقوام متحدہ کے ایک وفد کو سنکیانگ جانے کی اجازت دی جائے۔

مشل بیشلیٹ کے خط پر آسٹریلیا، برطانیہ، جرمنی، جاپان، کینیڈا، نیوزی لینڈ سمیت 22 ممالک کے سفیروں نے دستخط کیے۔ افسوسناک بات کہ اس پر کسی ایک بھی مسلمان ملک نے دستخط نہیں کیے۔ ترکی نے کچھ عرصہ قبل چین کے حراستی کیمپوں کو تنقید کا نشانہ بنایاتھا لیکن اس نے بھی خط پر دستخط سے گریز کیا۔

یہ بھی پڑھیں:   بھارت نے جو کیا، اسے بھگتے گا - عامر ہزاروی

چین نے اس مکتوب پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انسانی حقوق کے مسئلے کو سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان نےخط کے مندرجات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اقوام متحدہ کا خط ’چین کے خلاف حملہ، بہتان اور غیر ضروری الزامات‘ پر مبنی ہے۔ سنکیانگ کے نائب گورنر نے عالمی برادی کی جانب سے ریاستی حراسی مراکز کی مذمت کے جواب میں کہا کہ یہ دراصل تربیتی مراکز ہیں جو لوگوں کو شدت پسند رجحانات سے محفوظ رکھنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔

اس خط کے جواب میں پاکستان، سعودی عرب، نائیجیریا اور الجزائر سمیت دنیا کے 37 ممالک چین کے دفاع کو سامنے آگئے۔ 12 جولائی کو لکھے گئے اس مشترکہ مکتوب میں انسانی حقوق کے حوالے سے بیجنگ کی تعریف کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ چین کو ایک عرصے سے دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی کا سامنا ہے، اور انسداد دہشت گردی اقدامات اور ووکیشنل ٹریننگ کے نتیجے میں وہاں امن بحال ہوا ہے۔ اس خط پر ان چار مسلم ممالک کے علاوہ روس، شمالی کوریا، فلپائن، زمبابوے اور برما نے بھی دستخط کیے ہیں ۔
یہ 72 سالہ تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ جب پاکستان نے مسلمان اقلیت سے بدسلوکی کی حمایت کی ہے۔