حکومت سے چند سوال - عالم خان

وقت کا تقاضا ہے اور مجبوری حالات بھی کہ اس پر لکھا اور نہ بولا جائے کہ؛ * پاناما کے باقی ماندہ چوروں کا کیا بنا؟ * سوئس بنکوں سے حلف کے بعد دو سو [۲۰۰] ارب ڈالر پاکستان لانے کا وعدہ کیوں پورا نہیں کیا گیا؟ * سابقہ حکومتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اربوں ڈالر کی جو کرپشن اور منی لانڈرنگ کی جارہی تھی اب تو وہ رک گئی ہے تو پھر یہ حالات کیوں ہیں؟

* وزیر اعظم ہاؤس کی یونیورسٹی اور گورنر ہاوسز کی لائبریریوں کی کیا صورتحال ہے؟ * بیرون ممالک سے قرضے لینے اور آئی ایم ایف کے پاس جانے کے لیے خودکشی کو ترجیح دینے تک نعروں اور وعدوں کی کتنی حد تک پاسداری کی گئی؟ * نئے پاکستان میں کم کابینہ، وئ آئی پی کلچر کا خاتمہ اور انصاف کے نظام کا نفاذ ایک سال کے دوران کیوں نظر نہیں آیا؟* اقرباء پروری، مورثی سیاست اور انتقامی سیاست سے پاکستان کو پاک کیا گیا یا اور بھی گندہ کیا گیا؟ * انتخابات سے پہلے ڈالر اور بجلی کے مہنگا ہونے سے حکومت وقت کی چوری پر استدلال اور سول نافرمانی کے اعلانات پر آج اتنی خاموشی کیوں؟

ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ آنکھوں سے جہالت اور منافقت کی پٹی اتار کر غریب عوام اور ریاست کی غربت خاتمہ پروگرام پر بات کی جائے کیونکہ نئے پاکستان کا خواب غریبوں، بے روزگاروں اور پسے ہوئے پاکستانی عوام کو دکھایا گیا تھا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ غریب کے منہ سے ائے روز بے تحاشہ مہنگائی اور ناجائز ٹیکسوں کی صورت میں نوالہ چھیننے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں نوجوانوں سے روزگار اور ہاتھوں سے علم وقلم لیا جارہا ہے۔

سوشل میڈیا پہ بعض لاعلم لوگ سوال اٹھاتے ہیں کہ ٹیکس لگانے میں غریب کا نقصان کیا ہے کیونکہ غریب کونسا ٹیکس دیتا ہے؟؟ اور ٹیکس لگانے میں قباحت کیا ہے؟؟ حالانکہ ان کو علم نہیں کہ اس ملک میں سب سے زیادہ ٹیکس غریب سے وصول کیاجاتا ہے جی ہاں سیلز ٹیکس!!! جو بچوں کے بسکٹ سے لے کر گھی، دال، چینی، چاول اور دوائی تک ہر پاکستانی ہر روز ادا کرتا ہے ۔

یہ بات درست ہے کہ ٹیکس لگانے میں کیا قباحت ہے دنیا کے ہر ترقی یافتہ ممالک میں ٹیکس کا نظام موجود ہے لیکن اگر جان کی آمان ہو تو عرض کروں کہ ترقی یافتہ ممالک کی تقلید صرف ٹیکس لگانے میں نہیں روزگار، قانون کی بالادستی اور شفاف احتساب سمیت ہر فلاحی چیز میں کرنی چاہیے اور ساتھ ان کے ٹیکس کا پورا نظام بھی متعارف کرنا چاہیے، کیونکہ وہ پہلے روزگار دیتے ہیں پھر ٹیکس لگاتے ہیں اور ساتھ بلا تفریق سکول، کالج اور یونیورسٹی سے لے کر ہسپتال اور مفت علاج تک سہولیات دیتے ہیں اشیائے خورد نوش پر سبسڈی دیتے ہیں تاکہ مہنگائی کا اثر عام شہری پہ نہ پڑے اس لیے وہاں لوگ ٹیکس خوشی سے ادا کرتے ہیں۔ اور وطن عزیز [پاکستان] میں ہسپتال، مفت علاج، سکول، کالج اور یونیورسٹی تعلیم تو دور کی بات ہے سکالرشپس اور دیگر گرانٹس کا خاتمہ کرکے سیلف پر بھی تقریبا ایجوکیشن غریب والدین کے ہاتھوں سے نکل گئی ہے۔ چھ [٦] اور سات [٧] روپے کی روٹی اب غریب کے بچوں کو پندرہ [١٥] روپے کی ملتی ہے جن پیسوں سے ایک مزدور پانچ[٥] روٹیاں گھر لا سکتا تھا آج وہ ان پیسوں سے صرف دو روٹیاں لا سکتا ہے جس سے ان کے بچوں کو پیٹ بھر کر کھانا بھی نصیب نہیں ہوتا اس لیے یہ غریب عوام کا مسئلہ ہے اور غریب عوام ہی کو اواز اٹھانا چاہیے جس کا تعلق سیاسی اور نظریاتی طور پر خواہ حکمران جماعت سے ہی کیوں نہ ہو ورنہ وہ دن دور نہیں کہ ان کے لیے اجتماعی خودکشیوں اور پیٹ پالنے کے لیے عزت کا سودا نہ کرنا پڑ جائے کیونکہ مہنگائی جب بڑھ جاتی ہے تو مرد کی غیرت اور عورت کی عزت سستی ہوجاتی ہے۔

Comments

عالم خان

عالم خان

عالم خان گوموشان یونیورسٹی ترکی، میں فیکلٹی ممبر اور پی ایچ ڈی کے طالب علم ہیں۔ اسلام اور استشراقیت ان کی دلچسپی کا موضوع ہے۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.