علمائے عمرانیات کے نام - مسعود ابدالی

آج علمائے عمرانیات کے ایک دلچسپ تجربے کا ذکر جو ہمارے اجتماعی روئیے سے گہری مماثلت رکھتا ہے۔ یہ Boiling Frog Theory تجربات گزشتہ صدی میں مینڈکوں پر کئے گئے اور وہ اسطرح کہ ایک بڑی سی کڑاہی میں پانی ابالا گیا اور کھولتے پانی میں مینڈک پھینکےگئے۔ ایک کے بعد مختلف عمر، جنس اور نسل کے 500 مینڈک کھولتے پانی میں ڈالے گئے لیکن یہ تمام مینڈک پانی میں گرتے ہی پھدک کر باہر نکل گئے اور سوائے ان بدنصیبوں کے کہ جو ذرا گہرائی میں گرے اکثر مینڈک جلنے سے محفوظ رہے۔

بعد میں اس تجربے کو ایک دوسرے انداز میں دہرایا گیا یعنی ایک بڑی سے دیگچی کو اسکے کناروں تک نیم گرم پانی سے بھر دیا گیا اور ایک درجن کے قریب صحت مند مینڈکیاں اور مینڈک اس برتن میں ڈال دئے گئے۔ ساتھ ہی انکی خوراک بھی دیگچی میں انڈیل دی گئی۔ نیم گرم گداز پانی مینڈکوں کو بہت آرام دہ محسوس ہوا اور سب مست ہوکر اس میں تیرنے لگے۔ وافر خوراک نے محفل کو اور بھی پر لطف بنادیا۔ نوجوان مینڈک مینڈکیوں کی شوخیوں سے لطف اور انکے ناز اٹھارہے تھے تو کچھ مغرور مینڈکیاں چھچھورے مینڈکوں سے دور باہمی خوش گپیوں اور اٹھکھیلیوں میں مصروف تھیں۔ جبکہ معمر مینڈکوں کیلئے لذت کام و دہن کا وافر انتظام تھا۔ بس یوں سمجھئے کہ ہم تم ہونگے بادل ہوگا رقص میں سارا عالم ہوگا والا معاملہ تھا۔
اب ماہرین نے اس دیگچی کو چولہے پر رکھ کر ہلکی آنچ دینی شروع کردی۔ بہت ہی غیر محسوس انداز میں بڑھتا درجہ حرارت مینڈکوں کو فرحت بخش محسوس ہوا۔ انکی خوشی اور سرمستی کا اندازہ مترنم ٹراہٹ سے ہورہا تھا۔ دیگچی کا پانی آہستہ آہستہ گرم ہوتا گیا حتٰی کہ درجہ حرارت 100 ڈگری سینٹی گریڈ ہوگیا اور پانی کھولنے لگا۔ نتیجے کے طور پر سارے مینڈک ابل کر مر گئے لیکن کسی نے بھی دیگچی سے باہر نکلنے کی کوشش نہیں کی۔

تحقیق کاروں کا خیال ہے کہ دیگچی کا درجہ حرارت اسقدر آہستگی سے بڑھ رہاتھاکہ مینڈک اسکے عادی ہوتے چلے گئے اور کسی بھی مرحلے پر گرمی ناقابل برداشت محسوس نہ ہوئی اور پھر وہاں چونکہ میلے کا سماں تھا تو بہت ممکن ہے کہ ہنگامہ نشاط میں وہ قدموں تلے سلگتی آگ کو اپنے ہی جذبات کی حدت سمجھ بیٹھے ہوں۔کچھ سیانوں نے یقیناً اس طرف توجہ دلائی ہوگی لیکن رائے شماری کے دوران ان مخلصوں کی ضمانتیں ضبط ہوگئی ہونگی۔ گویا بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست کی گردان جاری رہی اور جب نشہ اترا تو بہت دیر ہوچکی تھ۔ ابلتے پانی نے انکے اعصاب کو مفلوج کردیا اور وہ سب کے سب دیگچی میں ابل کر ہلاک ہوگئے۔
کہیں ہمارا اجتماعی رویہ بھی ایسا ہی تو نہیں کہ خطرات کا ادراک کرکے انکے سدباب کی فکر کے بجائے ہم خیر ہے خیر ہے کہہ کر سر جھٹک دیتے ہیں۔