ویڈیو اور بیان حلفی آنے کے بعد کئی سوال سامنے آگئے

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کو جج ارشد ملک کے وضاحتی حلف نامے نے جوابات سے زیادہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ جج نے اعتراف کیا کہ انہیں عرصہ تک ذاتی ’’ملتان ویڈیو‘‘ کے ذریعے بلیک میل کیا جاتا رہا۔ وہ ملنے والے مختلف افراد کے مطالبات کے آگے ڈھیر ہوتے رہے۔ دستاویز مبینہ آڈیو ویڈیو پر جوابی حملہ ہے جس نے مذکورہ جج کی شہرت کو مجروح کیا لیکن سوال یہ ہے کہ کسی دستاویزی شہادت کے بغیر حلف نامہ ٹیپ شدہ گفتگو کی نفی کرسکتا ہے؟

نواز شریف کی زیر التوا اپیل کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ میں حلف نامے کی تحقیقات یا سماعت کی صورت جج ارشد ملک کو گواہ پیش کرنے کی ضرورت ہوسکتی ہے۔ ایسی انکوائری میں دیے گئے ناموں کو طلب کیا جا سکتا ہے۔ حلف نامہ مریم نواز کی جانب سے مبینہ ویڈیو جاری ہونے کے ایک ہفتے بعد دائر کیا گیا۔ اس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ارشد ملک کو دو واقف کاروں مہر جیلانی اور ناصر جنجوعہ نے بتایا کہ ان کی سفارش پر انہیں احتساب عدالت کا جج بنایا جا رہا ہے۔

جاری کردہ آڈیو وڈیو کےمطابق ارشد ملک کو بلیک میل اور نواز شریف کے خلاف فیصلہ دینے پر مجبور کیا گیا۔ اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا جج نے دھمکیوں، رشوت کی پیشکش اور بلیک میلنگ سے اسلام آباد ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ کے مانیٹرنگ جج یا دونوں کو آگاہ کیا؟ حلف نامہ یہ نہیں بتاتا۔ جج دستاویزات میں درج افراد سے دھمکیوں کے باوجود کیوں ملتے رہے۔ دستاویز کے مطابق جج نے مختلف اوقات میں 8 افراد سے ملاقاتیں کیں، جن میں نواز شریف، حسین نواز، ناصر بٹ، مہر جیلانی، ناصر جنجوعہ، خرم یوسف، میاں طارق اور ان کا بیٹا شامل ہیں۔ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے آیا انہوں نے مذکورہ افراد سے کبھی ملنے سے انکار کیا؟

یہ بھی پڑھیں:   پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ: میٹر رِیڈر سے رکن پارلیمان تک

حلف نامہ یہ نہیں بتاتا کہ انہوں نے انکار کیا ہو۔ کیا جج نے اس ضابطہ اخلاق پر عمل کیا جس کے تحت جج صاحبان ملزمان یا جن کے مقدمات زیر سماعت ہوں ان سے نجی طور پر یا اعلانیہ ملاقاتیں نہیں کرتے۔ ارشد ملک کا دعویٰ ہے کہ انہیں چار بار رشوت کی پیشکش کی گئی۔ وہ اس پر کیوں خاموش رہے؟ عام طور پر نواز شریف کی ملکی سیاست میں اہمیت کو دیکھتے ہوئے رواں سال 6 اپریل کو جاتی امراء میں جج کی ان سے ملاقات جیسا کہ جج کا دعویٰ ہے کیسے پوشیدہ رہ سکتی ہے؟ ناصر بٹ کے ساتھ جا کر معزول وزیراعظم سے ملنے کا کیا جواز بنتا ہے؟