یہ سب ہمارے بچے ہیں! خورشید ندیم

معصوم بچوں کے لاشے، فلسطین میں گریں یا افغانستان میں، ان کا لہو ایک جیسی حرمت رکھتا ہے۔ یہ کسی ڈرون حملے میں مارے جائیں یا کسی بم دھماکے میں، ان کا قتل ایک جیسا جرم ہے اور قاتل ایک جیسے مجرم۔ یہی اللہ کا قانون کہتا ہے اور یہی انسانی بصیرت کا حاصل ہے۔ افسوس انسانی تعصبات پر جو قاتل اور مقتول کو اپنے اور بیگانے کے خانوں میں تقسیم کرتے ہیں۔

میں نے ان معصوم بچوں کی تصویریں دیکھیں ہیں جو افغانستان میں ہونے والے بم دھماکوں میں مار ڈالے گئے یا زخمی ہوئے۔ یہ مسلمان تھے اور افغان تھے۔ میں برسوں سے اُن معصوموں کی تصاویر بھی دیکھ رہا ہوں جو فلسطین میں آئے دن مار دیے جاتے ہیں۔ صابرہ اور شتیلہ کی داستان ہر روز دہرائی جاتی ہے۔ جب مقتول ایک جیسے ہیں تو قاتل ایک جیسے کیوں نہیں؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک حزب اللہ کا نمائندہ ہو اور دوسرا حزب الشیطان کا؟

معروف معنوں میں فلسطین میدانِ جنگ ہے نہ افغانستان۔ میدانِ جنگ وہ ہوتا ہے جہاں دو متحارب افواج ایک دوسرے کے مدِ مقابل ہوں۔ دونوں ایک دوسرے سے برسرِ پیکار ہوں۔ فلسطین میں نہتے شہری ہیں جو قابض افواج کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہیں اور جواباً انسانی بستیوں پر بم برسا دیے جاتے ہیں۔ اسرائیل نے اقوامِ متحدہ کی بے شمار قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، فلسطین کی سرزمین پر ناجائز بستیاں آباد کی ہیں۔ ان کے خلاف احتجاج ہوتا ہے۔ جواب میں گولیاں برستی ہیں۔ کوئی شبہ نہیں کہ یہ ظلم ہے۔

افغانستان میں افغان گروہوں کے مابین اقتدار کی جنگ ہے۔ کئی گروہوں پر مشتمل ایک حکومت قائم ہے جسے گل بدین حکمت یار سمیت اکثر افغان نمائندہ گروہ قبول کیے ہوئے ہیں۔ ایک گروہ اس کو نہیں مانتا اور وہ اس کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیے ہوئے ہے۔ یہ گروہ کابل اور دوسری انسانی بستیوں پر حملے کرتا ہے جس میں افغان شہری مرتے ہیں۔ حکومت بھی ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتی ہے۔ اب شہری آبادیوں میں ہونے والے بم دھماکوں میں عام شہری مرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان کا خون کس کی گردن پر ہو گا؟
اللہ کا قانون یہ ہے کہ اس زمین پر انسان کی جان، مال اور آبرو سے زیادہ کوئی شے قیمتی نہیں۔ اللہ کی آخری کتاب میں اعلان ہوا کہ ایک بے گناہ کی جان لینے کا مطلب پوری انسانیت کا قتل ہے اور قتل کی سزا دائمی جہنم ہے۔ قرآن مجید نظمِ اجتماعی کو جان لینے کی اجازت دیتا ہے مگر صرف دو صورتوں میں: ایک قتل اور دوسرا فساد فی الارض۔ انسان نے اپنے تجربات سے انسانی حقوق کا جو چارٹر ترتیب دیا ہے، اس میں بھی انسانی جان کی حرمت کو اولیت حاصل ہے۔ بلا خوفِ تردید کہا جا سکتا ہے کہ انسانی جان کی حرمت پر ابنِ آدم کا اجماع ہے۔

ایک انصاف پسند، جس انسانی قتل کو فلسطین اور کشمیر میں قبول نہیں کر سکتا، اسے افغانستان میں کیسے قبول کر سکتا ہے؟ اگر کوئی فلسطین میں، اسرائیلی حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے، مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاست کو قاتل سمجھتا ہے، عراق میں امریکہ کو مجرم کہتا ہوں تو وہ افغان بچوں اور بے گناہ شہریوںکے قاتل کو کیوں قاتل نہیں سمجھتا؟ کیا اس کے پاس اس کی کوئی اخلاقی یا مذہبی دلیل ہے؟

مسلمان دنیا میں شہادتِ حق کے لیے کھڑے کیے گئے ہیں۔ رسالت مآبﷺ کے بعد پہلی ذمہ داری بنی اسماعیل کی تھی کہ دنیا پر حق کی شہادت دیتے اور ان کے ساتھ ہماری جو اللہ کے آخری رسولﷺ پر ایمان لائے اور امت میں شامل ہیں۔ شہادتِ حق یہ ہے کہ آپ دنیا میں حق کا معیار بن کر کھڑے ہو جائیں۔ آپ اپنے عقائد، نظریات اور عمل سے دنیا کو یہ بتائیں کہ حق کیا ہے؟ آپ اس نظامِ اقدار کے علم بردار ہوں جو انبیاء کا ورثہ ہے۔ لوگ آپ کے خیالات اور طرزِ عمل سے یہ جانیں کہ حق کیا ہے اور کیا نہیں۔

انسانی جان کی حرمت، اس نظامِ اقدار کے مبادیات میں شامل ہے‘ جو اللہ کے تمام انبیاء پیش کرتے آئے ہیں۔ یہ وہ قدر ہے جسے ہابیل و قابیل کے واقعے میں بیان کیا گیا اور اسی اہتمام کے ساتھ اللہ کے آخری رسول سیدنا محمدﷺ نے مستحکم کیا۔ خطبہ حجۃ الوداع میں نبیﷺ نے اسے جس شان کے ساتھ اور جس اسلوب میں بیان کیا، واقعہ یہ ہے کہ تنہا یہی ارشاد، اسلام کے عالم گیر پیغام کو سمجھنے کے لیے کفایت کرتا ہے۔ غیر پیغمبرانہ روایت میں اس کی کوئی نظیر موجود نہیں۔

یہ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ جہاں انسانی جان کی حرمت پامال ہو، وہ اس کی حفاظت کے لیے کھڑے ہو جائیں۔ اگر کہیں ان کے پاس اقتدار ہے تو قصاص کا نظام قائم کریں۔ جہاں اقتدار نہیں ہے وہاں اپنی زبان اور قلم سے اس کی حرمت کی گواہی دیں۔ وہ بتائیں کہ یہ امریکہ جیسی ریاست ہو یا جہاد کے نام پر کھڑا ہونے والا کوئی گروہ، کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ انسانی جان کی اُس حرمت کو پامال کرے جو خود اللہ تعالیٰ نے اسے بخشی ہے۔

دنیا میں آج لوگ زمین پر قبضے اور اپنا اقتدار قائم کرنے کے لیے برسرِ پیکار ہیں۔ کوئی ایک معرکہ ایسا نہیں جس کے بارے میں یہ کہا جائے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لیے لڑا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنی آزادی کی جدوجہد کر سکتے ہیں؛ تاہم وہ اس کو ایک قانون اور اس نظامِ اقدار کے تابع کرتا ہے جو انبیا کی معرفت انسانوں تک پہنچا۔ یہ محض قیاس ہے کہ ایسی معرکہ آرائی کو مذہبی کتابوں کی پیش گوئیوں کا مصداق قرار دیا جائے۔ اس کے لیے کسی کے پاس کوئی برہان نہیں۔ اسی طرح کسی گروہ کو حزب اللہ قرار دینا بھی بڑی جسارت ہے۔

انسانوں کے مابین حزب اللہ اور حزب الشیطان کی فیصلہ کن تقسیم پیغمبر کی موجودگی ہی میں ہو سکتی ہے۔ یہ بھی اُس وقت جب خود عالم کا پروردگار انسانوں کو تقسیم کرتا اور اس کا اعلان کرتا ہے۔ ختمِ نبوت کے بعد تو یہ حق کسی کے پاس نہیں کہ وہ انسانی گروہوں پر اس طرح کا حکم لگائے۔ لوگ ختم نبوت کو محض ایک عقیدہ سمجھتے ہیں۔ کاش وہ حکمت سے بھی واقف ہوتے جو اس عقیدے کے پس منظر میں کارفرما ہے۔

اسی طرح لوگ اسلام کو عصبیت سمجھتے ہیں۔ اسلام عصبیت نہیں، یہ عالم کے پروردگار کی ہدایت ہے جو ساری دنیا کے لیے ہے۔ یہ اس لیے ہے کہ انسانی بستیوں میں عدل کی قدر قائم ہو اور ظلم کا خاتمہ ہو۔ اگر مسلمانوں کو کہیں اقتدار ملتا ہے تو ان کے لیے پہلا اور بنیادی حکم یہی ہے کہ وہ انسانوں کے مابین عدل قائم کریں (النساء‘ 4:58)۔ عدل کا مطلب ظلم کا خاتمہ ہے۔ قتل قتل ہے، قاتل کوئی بھی ہو۔ مقتول، مقتول ہے، اپنا ہو یا بیگانہ۔ ہمارا کوئی بھائی انفرادی یا گروہی حیثیت میں اس سے انحراف کرتا ہے تو ہماری ذمہ داری یہ نہیں کہ اس کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔ ہماری دینی ذمہ داری یہ ہے کہ اسے ظلم سے روکیں۔ اللہ کے آخری رسولﷺ کے الفاظ میں ظالم مسلمان بھائی کی مدد یہی ہے کہ اسے ظلم سے روکا جائے۔

میں اپنے دین سے یہی سمجھا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ میں ان فلسطینی اور افغان بچوں میں فرق نہیں کر سکتا جنہیں کسی جرم کے بغیر مار ڈالا گیا یا عمر بھر کے لیے مفلوج کر دیا گیا۔ قتل قتل ہے، وہ افغانستان میں ہو یا فلسطین میں۔ میری ذمہ داری ہے کہ میں امن کی بات کروں تا کہ کسی کے ساتھ ظلم نہ ہو۔ کوئی کسی کے ملک پر قبضہ کرے اور نہ کوئی کسی بے گناہ کی جان لے۔ افغانستان کے لیے امن مذاکرات جاری ہیں۔ اللہ سے دعا کرنی چاہیے کہ وہ سب فریقوں کو بصیرت عطا کرے اور وہ جانیں کہ انسانی جان کی حرمت کیا ہے۔ جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں، انہیں انسانی جان کی حرمت کے بارے میں، اس کے احکام یاد رہیں۔