سیاحت کو سنجیدگی سے لیجیے - آصف محمود

ناران پہنچے تو دن ڈھل چکا تھا۔ پہلی نظر ہی اداس کر گئی۔ یہ وہ ناران نہ تھا برسوں پہلے جسے آخری بار دیکھا تھا۔ ناران تو ایک گوشہ عافیت تھا، شام ڈھلے پی ٹی ڈی سی سے نکلتے تو چھوٹا سا بازار سامنے ہوتا۔ چند ہوٹل اور سر شام خاموشی۔ اب سب کچھ بدل چکا تھا۔ بے ہنگم ٹریفک اور ڈربوں جیسے ہوٹل، یوں محسوس ہوا راجہ بازار آ گئے ہوں۔ جیسے تیسے رات گزاری اور صبح دم آگے نکل گئے۔ باٹا کنڈی کے نواح میں طبیعت بحال ہونا شروع ہوئی۔ جل کھڑ کے پرستان سے گزر کر لولوسر جھیل کے پہلو میں رکے تو غروب آفتاب کا وقت ہو چکا تھا، من کا برہما شانت ہو گیا۔ رات وہیں جل کھڑ کے نواح میں بسر کی۔ یخ بستہ رات میں بیٹھا میں یہی سوچتا رہا کہ مری کی عافیت وحشتوں کی نذر ہوئی تو میرے جیسوں نے خانس پور اور ناران کا رخ کیا۔ اب ناران کا سکوت برباد ہو چکا تو جل کھڑ گوشہ عافیت بن گیا لیکن جل کھڑ بھی کب تک اس وحشت سے بچ پائے گا۔ سکون اور سکوت کے متلاشی چند سالوں بعد کہاں جائیں گے؟ ان کی منزل کیا ہوگی؟

ہمارے لوگ منہ اٹھا کر سیاحت کو نکل کھڑے ہوتے ہیں لیکن انہیں کچھ تمیز نہیں کہ سیاحت کے کم از کم آداب کیا ہوتے ہیں۔ جہاں جہاں سیاحوں کی رسائی ہے وہاں گندگی اور غلاظت کے ڈھیر لگے ہیں۔ حکومت بھی سیاحت کے میدان میں صرف ٹوئٹر پر کمالات دکھاتی ہے، زمین پر اس کا کوئی وجود نہیں۔ بڑے فخر سے ہمیں بتایا جاتا ہے کہ عید پر تیس چالیس لاکھ سیاحوں نے سوات اور ناران کا رخ کیا، لیکن یہ کوئی نہیں بتاتا کہ ان تیس چالیس لاکھ لوگوں نے ان علاقوں میں جو گند پھیلایا وہ کدھر گیا۔ ایک آدمی دن میں کم از کم پانی کی دو بوتلیں استعمال کرتا ہے۔ دوران سفر کولڈ ڈرنک کی لعنت تو ویسے ہی عام ہے۔ محتاط ترین اندازہ لگایا جائے تو ان چالیس لاکھ لوگوں نے عید کے دنوں میں پانی اور ڈرنکس کی ایک کروڑ ساٹھ لاکھ بوتلیں استعمال کر کے وہاں پھینکی ہوں گی۔ پورے سیزن کا حساب لگائیں تو یہ لاکھوں ٹن کا فضلہ ہے جو سیاح وہاں پھینک آتے ہیں۔ وزارت سیاحت کا کوئی نابغہ بتا سکتا ہے اس کوڑے کو اٹھانے یا تلف کرنے کا کیا بندوبست ہے؟ یہی کہ اٹھاؤ اور دریائے کنہار میں پھینک دو؟ دریا غلاظت سے بھر چکا، نتیجہ یہ ہے کہ یہ سب کچھ آپ کے ڈیموں میں آ جاتا ہوگا۔ ڈیموں کی صفائی کاکوئی انتظام نہیں۔ ان کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت دن بدن کم ہوتی جا رہی ہے۔ کیا کسی کو احساس ہے؟

جھیل سیف الملوک ایک زمانے میں پرستان ہوتی تھی۔ زمانہ طالب علمی میں ہم نے چودھویں کے چاندکی رات جھیل پر کیمپ لگا کر گزاری تھی۔ اس رات کو یاد کروں تو آج بھی وجود میں جلترنگ بج اٹھتے ہیں۔ اب جھیل کے کنارے ہوٹلوں اور دکانوں کا ایک جمعہ بازار لگ چکا ہے۔ لوگ کھاتے پیتے ہیں اور بوتلیں اور شاپر وہیں جھیل کی ڈاؤن سٹریم میں پھینک دیتے ہیں۔ محسوس یہ ہوتا ہے کہ ہمارے سیاح صرف پیٹ کا جہنم بھرنے گھر سے نکلتے ہیں۔ جہاں موقع ملا منہ میں کچھ ٹھونس لیا اور جگالی شروع کر دی۔ جھیل کی دہلیز پر ہوٹل اور بازار بنانے کی آخر ضرورت ہی کیا تھی۔ سیاح ناران سے نکلتے ہوئے پیٹ کا جہنم بھر کر کیوں نہیں نکلتے؟ یوں محسوس ہوتا ہے جانوروں کی طرح کھانا ہماری واحد تفریح بن چکی ہے۔ تفریحی مقامات پر پہنچے نہیں کہ پیٹ کے دہانے کھل گئے۔ بد ذوقی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔

حکومت اس سارے معاملے سے لاتعلق ہے۔ وہ ہمیں بس ٹوئٹر پر رہنمائی فرماتی ہے کہ ملک میں سیاحت فروغ پا رہی ہے۔ سماج ویسے ہی تہذیب اور ذوق لطیف کے بحران سے دوچار ہے۔ اسے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ صاف پانی کے بہتے جھرنے یا کسی آبشار کے پاس بچوں کا پیمپر پڑا ہو تو کتنا بے ہودہ منظر ہوتا ہے۔ یہ ہمارا عمومی رویہ ہے کہ گھروں کو صاف رکھو اور کوڑا گلی میں پھینک دو۔ اس رویے کی حوصلہ شکنی لازم ہے۔ لیکن حکومتوں نے کبھی اس طرف توجہ نہیں۔ کہیں کوئی ڈسٹ بن نظر نہیں آیا۔ حالانکہ یہ جا بجا ہونے چاہییں اور راستوں پر کوڑا پھینکنے والے سیاحوں کو بھاری جرمانے ہونے چاہییں۔ نہ ڈسٹ بن ہیں نہ کوڑا تلف کرنے کا کوئی انتظام۔ پلاسٹک کے شاپر پہاڑوں پر پڑے رہیں یا دریا میں جا گریں دونوں صورتوں میں موت ہیں۔ یہ جنگلی اور آبی حیات کا قتل ہے۔ افسوس کسی کو پرواہ نہیں۔ ملک بھر میں نہیں تو کم از کم اتنا تو ہو سکتا ہے کہ سیاحتی مقامات پر پلاسٹک کے شاپروں کی لعنت پر پابندی لگا دی جائے۔

سیاحت ایک پوری انڈسٹری ہے لیکن ہم ادھر توجہ دینے کو تیار نہیں۔ ناران جاتے ہوئے ایبٹ آباد اور مانسہرہ کے رستے میں سیاحوں کو ٹریفک جام کی جس اذیت سے گزرنا پڑتا ہے خدا کی پناہ۔ سیاحت ترجیح ہوتی تو ایک بائی پاس ہی بنا دیا جاتا کہ ایبٹ آباد کی ٹریفک کے آزار سے نجات مل جائے۔ نواز شریف نے ہزارہ موٹر وے بنائی۔ جہاں تک یہ موٹر وے ہے، وہاں تک سفر آسان ہے۔ اس سے اتریں تو عذاب سے دوچار ہوجاتے ہیں۔ نئے پاکستان میں چونکہ سڑکیں بنانا ایک فضول کام ہے، اس لیے ہزارہ موٹر وے ادھوری پڑی ہے۔ یہی معاملہ مری کا ہے۔ آج تک کسی کو توفیق نہیں ہوئی کہ بارہ کہو سے ایک بائی پاس ہی بنا دیا جائے۔ سیاح بھی مصیبت میں، مقامی لوگ بھی ایک عذاب مسلسل میں۔

پبلک ٹائلٹس کا ہمارے ہاں کوئی تصور نہیں۔ مرد حضرات تو پھر اس کا کوئی مضحکہ خیز حل تلاش کر لیتے ہیں لیکن خواتین کے لیے یہ ایک انتہائی تکلیف دہ صورت حال ہے۔ معاشرتی اور حکومتی سطح پر اس کا کسی کو احساس تک نہیں۔ موٹر وے کے معیار کے پبلک ٹائلٹس قائم کیے جانے چاہییں۔ معمولی سے پیسے وصول کر کے یہ منصوبہ کامیابی سے چل سکتا ہے۔ پورے ناران میں صرف ایک بنک ہے جس کے اے ٹی ایم کے باہر میلہ لگا ہوتا ہے۔ گلی گلی ان کی برانچز قائم ہو سکتی ہیں تو سیاحتی مراکز پر نصف درجن بنک کیوں نہیں بن سکتے۔ کم از کم نیشنل بنک کی برانچ تو ہونی چاہیے۔

حکومت اگر سیاحت کا فروغ چاہتی ہے اسے اس شعبے کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ یہ آپ کی معیشت کو کھڑا کر سکتا ہے۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.