عوام کا الیکٹڈ اللہ کا سلیکٹڈ ہے - ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

سُنا ہے عمران خان کیلئے خاص طور پر خانہ کعبہ کا دروازہ کھولا گیا۔ شاید صوفیانہ مزاج والی اُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی بھی ساتھ تھیں۔ بابِ توبہ کُھلنے کے بعد بارہ منٹ سے زیادہ وقت کیلئے عمران خان خانہ کعبہ کے اندر موجود رہے۔ برادرم اوریا مقبول جان نے ایک کلید برادر کے حوالے سے یہ بات کہیں بیان کی ہے۔ وہاں عمران روتے رہے اپنے لیے اور اپنے پاکستان کیلئے دعا کی۔ آج کل ان کی اپنے لیے دعا بھی پاکستان کیلئے دعا ہے۔

عمران خان جب بھی سعودی سرزمین پر اُترے ہیں تو وہ اپنے جوتے اُتار دیتے ہیں۔ ریاست مدینہ کا تصور اسی کیفیت میں انکے دل کیساتھ ہم آہنگ ہوا ہو گا۔ آج کل کچھ لوگ ریاست مدینہ کا ذکر تنقیدی حوالے سے طنزیہ انداز میں کرتے ہیں تو دل کو تکلیف ہوتی ہے۔ پاکستان اسلام کے نام پر برصغیر کے مسلمانوں نے قائداعظمؒ کی قیادت میں بنایا تھا۔ میں تو پاکستان کوخطۂ عشق محمدؐ کہتا ہوں۔ عمران نے ریاست مدینہ کا لفظ پہلی بار بولا تھا تو مجھے خوشی ہوئی تھی بلکہ اس کیلئے سرخوشی کا لفظ استعمال کرنا چاہئے۔ سرخوشی تو خوشی سے بہت آگے کی کوئی کیفیت ہے۔

عمران خان کا مزاج پہلے ایسا نہ تھا۔ اُن سے بات کرتے ہوئے جھجک آتی تھی۔ اب ان کے اندر کچھ حلیمی آ گئی ہے۔ مگر ان سے گزارش ہے کہ وہ دبنگ لہجے کو نہ چھوڑیں۔ کیونکہ ان کے مخالفین اب کچھ زیادہ ہی شوخے ہو رہے ہیں۔ مریم اورنگ زیب بھی اس انداز بات کرتی ہیں جیسے وہ خود ہی پاکستانی جمہوریت کی اورنگ زیب ہوں۔ مریم نواز انہیں لے کے آئی ہیں۔ کسی نے ان کا نام بھی نہیں سنا تھا۔ اب وہ مریم نواز سے آگے نکلنے کی کوشش کر رہی ہیں؟

مجھے لگتا ہے کہ کوئی اکبر اعظم عمران کے اندر ہے۔ اُسے جگاتے رہنا چاہئے۔ جمہوری پاکستان کے اکبر اعظم کے لیے تاریخ بدلنے کا موقعہ پھر آیا ہے۔ قائداعظم کے پاکستان کے تصور کو ریاست مدینہ کی تصویر بنانے کا وقت آ گیا ہے جو عوام کا الیکٹڈ ہے وہ اللہ کا سلیکٹڈ ہے۔

کوئی بندہ کسی بہت بڑے کام کیلئے کردار ادا کرتا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ اللہ نے اسے منتخب کیا ہے۔ یہ لفظ انتخاب کیساتھ ہی منسلک ہے اسے تماشا بنانا مناسب نہیں ہے۔ نواز شریف بھی اسی طرح الیکٹڈ ہوئے تھے۔ صدر زرداری کو منتخب کرنیوالے ارکان عوام کے منتخب کردہ تھے۔

٭٭٭

ہم اپنے جلنے والوں اور کبھی کبھی بات چیت کرنے والوں کو دوست سمجھ لیتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہی نہیں کہ دوست کیا ہوتا ہے۔ بس ہر شخص کو دوست کہہ دیتے ہیں۔ اب تو رشتہ داروں سے بھی تکلف کا تعلق ہوتا ہے۔ تعلق اور بے تعلقی میں کوئی فرق نہیں رہا۔

مگر یہ کیا کہ کچھ لوگوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رہا تو وہ یاد بہت آتے ہیں۔ شاید یہ انا بھی دوستی سے ہی پھوٹتی ہے۔ آج کل انا اور استغنا کا فرق بھی مٹ گیا ہے۔ بہت چیزیں گڈمڈ ہو رہی ہیں جیسے کچھ لوگ گُڈ مُڈ کہتے ہیں۔

آج کل وارث میر کو یاد کیا جا رہا ہے تو حامد میر بھی یاد آ رہا ہے۔ وارث میر دوست تھا۔ حامد میر دوست نہیں ہے۔ مگر اس کے علاوہ کسی ملنے والے کو اور کس رشتے سے پکارا جا سکتا ہے۔ لفظ دوست کا بہت استحصال ہوا ہے اور ہو رہا ہے۔ بہت معمولی بات ہے۔ ہارون الرشید خفا ہو گیا اور حامد میر بھی۔ دوستوں سے اتنا زیادہ خفا ہونا بھی کسی شدت جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔ صداقت روابط بھی شاید یہی چیز ہے۔ ہارون الرشید تو میرے گھر کا آدمی تھا۔ میرے گھر والے بچے بڑے سب اسے کبھی کبھی یاد کرتے ہیں جبکہ وہ اس کے ساتھ ملے بھی نہ تھے۔ میں انہیں کیا بتائوں کہ مجھے خود بھی کچھ معلوم نہیں۔ میرا خیال ہے اُسے بھی کچھ معلوم نہ ہو گا۔ اُس کے اندر چھپی ہوئی دوستی اور آمرانہ مزاجی اور احساس برتری کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ خیر اللہ اسے خوش رکھے وہ بہترین تخلیقی نثر لکھنے کا ہنر جانتا ہے۔