میں نے سارے اثاثے ظاہر نہیں کئے - اسداللہ غالب

حامد میر اور عاصمہ شیرازی کی گرجدار دلیری نے مجھ بہتر سالہ اور بینائی سے محروم بوڑھے کے جسم وجاں میں بھی بجلیاں بھر دی ہیں۔ اور میں نے عزم کر لیا ہے کہ میں ایمنسٹی سکیم میں اپنے حقیقی اور اصل اثاثے ظاہر نہیں کروں گا۔ مگر یہ اثاثے کیا ہیں، میں اپنے قارئین کے سامنے سارے ا ثاثے کھول کر بیان کر رہا ہوں۔

میرا پہلا اثاثہ ایٹمی پروگرام ہے جس کے بارے میں میں کسی کو بھنک بھی نہیں پڑنے دوں گا۔ نہ یہ بتائوں گا کہ ایٹم بموں کی تعداد کیا ہے۔ ان کا وزن کیا کیا ہے اور یہ کیسی کیسی تباہی پھیلا سکتے ہیں۔ میں یہ بھی بتانے سے انکاری ہوں کہ یہ ایٹمی اثاثے کہاں کہاں چھپا رکھے ہیں۔ اور اصل اثاثہ ٹیکٹیکل بم کتنے ہیں اور یہ کہاں کہاں استعمال ہو سکتے ہیں۔ میں نے اثاثوں کی فہرست میں اپنے میزائل بھی نہیں لکھے۔ نہ ان کے نام ، نہ ان کی مار کی حد ، نہ ان کے کمپیوٹر میں فیڈ کئے گئے اہداف کی تفصیل۔ ویسے میں نے یہ تو لکھا ہے کہ پاکستان کا کل رقبہ میرا اثاثہ ہے۔ اب یہ پٹواریوں کی مہارت ہے کہ وہ اس رقبے میں سے پانچ سو گز سے زیادہ کے کتنے پلاٹ نکال سکتے ہیں۔ وہ اپنے کیلکو لیٹر نہیں بلکہ سپر کمپیوٹرکی مدد بھی لے لیںمگروہ ان پلاٹوں کی گنتی نہیں کر پائیں گے اور نہ گنتی ہو گی ، نہ مجھے کوئی ٹیکس نوٹس آئے گا۔میںنے اپنے اثاثوںمیں یہ بھی ظاہر نہیں کیا کہ میرے پاس تیل کے کتنے ذخائر ہیں اور کہاں کہاں ہیں۔ گیس کے کتنے ذخائر ہیں اور کہاں کہاں ہیں۔ سونے۔ لوہے، تانبے کے ذخائر کتنے ہیں اور کہاں کہاں ہیں۔ قیمتی پتھروں کے ذخائر کتنے ہیں اور کہاں کہاں ہیں۔

مجھے ڈر یہ ہے کہ اگر میں یہ سب کچھ ظاہر کر دوں تو یہ ساری تفصیلات دشمنوں کے ہاتھ لگ سکتی ہیں اور جس طرح عراق کے تیل کے ذخائرپر امریکہ قابض ہو کر بیٹھ گیا ہے، اسی طرح خدا نخواستہ کوئی اور اجنبی طاقت ان ذخائر پر قابض ہو جائے گی۔ میںنے اپنے جوہر قابل کی نشاندہی سے بھی گریز کیا ہے۔ لوگوں کو ایدھی کا پتہ ہے۔ امجد ثاقب کا پتہ ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر کا پتہ ہے۔ ڈاکٹر آصف جاہ کا پتہ ہے۔ ڈاکٹر عمر سیف کا بھی پتہ ہے مگر میرے پاس اسی پائے کے اور بھی جوہر قابل ہیں۔ سینکڑوں میں نہیں، ہزاروں میں نہیں، لاکھوں میں ہیں۔ ان کی پیشانیوں پر ایک عزم جھلکتا ہے۔

اوہ! میں یہ تو بتانا بھول ہی گیا کہ میں نے کشمیر کو بھی اپنے اثاثوں میں نہیں وکھایا حالانکہ قائداعظم اسے میری شہہ رگ قرار دے چکے ہیں۔ اس کی قدر و قیمت قائداعظم کو تو معلوم تھی مگر میں نے یہ اثاثہ کسی بہتر وقت تک کے لئے چھپانے کا فیصلہ کیا ہے اور ایمنسٹی سکیم میں کشمیر کو اپنا اثاثہ ظاہر نہیں کیا۔ کشمیر ایک وادی ہی نہیں۔ چند لاکھ مسلمانوں کا مسکن ہی نہیں یہ ایک جنت نظیر خطہ ہے۔ اس پر امام خمینی سے علامہ اقبال تک فریفتہ تھے اور حفیظ جالندھری نے تو اس کا شاہنامہ بھی لکھا۔ کشمیر کی صرف ڈل جھیل کو لیا جائے تو اس کے کناروں کی زمین کھربوں ڈالر کی ہے۔ میں کشمیر کو اپنے اثاثوں میں ڈال بیٹھتا تو اس اربوں کھربوں کی زمین پر ٹیکس کیسے ادا کرتا۔ مجھے اس کے لئے پورا پاکستان کسی ساہوکار کے ہاتھ گروی رکھنا پڑتا۔ مگر پاکستان کی قیمت کیا پڑنی تھی۔ اس کی قیمتی شاہراہیں اور ہوائی اڈے اور ریلوے ٹریک تو پہلے ہی گروی پڑے ہیں۔ میںنے اپنے باپ کی قبر کی جگہ کی نشاندہی بھی نہیں کی۔ یہ قبر سن دو ہزار تک محفوظ تھی۔ یہاں ایک فوجی کیمپ تھا جس پر والٹن کی طرح فیروز پور کے مہاجرین نے ٹھکانہ کیا تھا۔ میرے والد اس کیمپ کے نگران تھے ، پاکستان بننے کے تین برس بعد وہ اللہ کو پیارے ہوئے تو انہیں اسی یادگار شہدا میں دفن کیا گیا مگر سن دو ہزار کے بعد یہ زمین کسی ایسے شخص کے ہاتھ چلی گئی جس نے اس قبر پر ہل چلا دیا۔ اچھا ہوا کہ اس قبر کا نام و نشان نہیں ہے ورنہ ان کے ذمے بھی ٹیکس کی کوئی رقم نکال لی جاتی اور عدالت کے ایک حالیہ فیصلے کی رو سے ان کی قبر سے وصولی کی جاتی۔

مجھے دادا، پڑدادا کی قبروں کے مقامات کا کچھ علم نہیں، اس لیے ان کی نشاندہی بھی اپنے اثاثوں کی لسٹ میں نہیں کر سکا، ہو سکتا ہے انہوں نے انگریز سرکار کے دوران کسی جرم کا ارتکاب کیا ہو اور کبھی انگریز سرکار واپس آ جائے خدا نہ کرے تو وہ ان کی قبروں کو سزا دینے کی کوشش کرے۔ میرے گائوں سے کچھ فاصلے پر بھگت سنگھ کی یادگار ہے مگر یہ سرحد کے پار ہے، میں اسے اپنے اثاثے میں شامل کرنا چاہتا تھا مگر عالمی قوانین کی مجبوریوں کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہو سکا۔ میرے کچھ اثاثے ایسے ہیں جو مجھ سے چھن گئے ہیں۔ اجمیر شریف کی درگاہ۔ دلی کی جامعہ مسجد، لال قلعہ اور قطب مینار، آگرہ کا تاج محل، ڈھاکہ کی مسجد بیت المکرم، فلسطین میں قبلہ اول مسجد اقصی، غرناطہ کے جادو نگر محلات۔ قرطبہ کی مسجد جہاں اقبال نے دو نفل ادا کئے اور وہ پکار اٹھے کہ اے حرم قرطبہ عشق سے تیرا وجود۔ اور وہ میرا بغداد جہاں چنگیز خاںنے انسانی سروں کا مینار تو بنایا ہی تھا، یہ قتل و غارت ہر جنگ میں ہوتی ہے مگر اس ظالم نے بغداد کے سارے کتب خانے دریائے دجلہ میں پھینکوا دیئے جس سے دریا کا مٹیالے رنگ کا پانی مہنیوں تک سیاہی مائل ہو گیا۔ سپین کے کتب خانے صلیبیوں نے لوٹ لئے، شاعر نے کہا مگر وہ علم کے موتی، کتابیں اپنے آبا کی۔ جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سی پارہ۔

میں کس اثاثے کا ذکر کروں اور کس کو بھول جائوں۔ میرا ایف بی آر اثاثوں میں روپے۔ سونے اور پلاٹوں کو شمار کرتا ہے۔ میںکہتا ہوں کہ ملک کے سارے بنکوں کے اکائونٹ منجمد کر کے انہیں اپنے تصرف میں لے لو مگر مجھے بغداد کا ایک کتب خانہ ہی واپس لے دو۔ مسجد اقصی میں ایک سجدے کی اجازت لے دو۔ مشرقی پنجاب میں اپنے آبائو اجداد کی قبریں واپس دلا دو۔ میرے ساتھ تو میرے ملک میں تازہ واردات یہ ہو گئی ہے کہ لاہور کا شاہی قلعہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کو واپس دے دیا گیا ہے۔ بھارتی کرکٹر سدھو کو دیا ہوتا تو مجھے کوئی غم نہ ہوتا مگر یہ تو رنجیت سنگھ کے ایک مجسمے کی نذر کر دیا گیا ہے۔ اس مجسمے میں رنجیت سنگھ کو ایک عالی شان عربی گھوڑے پر سوار دکھایا گیا ہے۔ وہ گھوڑے کہ دشت تو دشت ہیں، صحرا بھی نہ چھوڑے ہم نے، بحر ظلمات میں دوڑا دیئے گھوڑے ہم نے۔ اس گھوڑے کے شہسوار نے آسمان کی طرف منہ کر کے بڑی بے چارگی میں کہا تھا کہ خدایا! اگر اس سے آگے مجھے زمین کا کوئی ٹکڑا نظر آتا تو کبھی واپسی کی راہ نہ لیتا۔ آج اس گھوڑے کے سموں تلے میری بادشاہی مسجد کا صحن ہے۔ اس صحن کو اسی مہاراجہ نے اپنے گھوڑوں کے اصطبل کے طور پر استعمال کیا تھا۔ آئو۔ کہ اپنے اپنے اثاثوں کا حساب کر لیتے ہیں۔ مجھ سے اپنے اثاثے لے لو اور میرے اثاثے مجھے لوٹا دو۔

اثاثوں کے بارے میں میںنے بہت گپ ہانک لی۔ اصل میں میرا اثاثہ تو وہ چند خواب تھے جو مجھے قائداعظم نے دکھائے تھے اور جنہیں پوٹلی میں باندھ کر میں سرحد پار سے سرزمین پاک کی طرف چلا تھا۔ وہ پوٹلی راستے ہی میں کسی بلوے میں گواچ گئی اور میرے سارے خواب بھی بکھر گئے، اگر ایف بی آر کے بس میں ہو تو میرے ان ٹوٹے بکھرے خوابوں کے اثاثے کو کہیں سے تلاش کر دے۔