عرب دُنیا تجدیدِ بہار کے آثار؟ مسعود ابدالی

یہ 17 دسمبر 2010ء کی بات ہے جب تیونس کا ایک 28 سالہ خوانچہ فروش محمد ابوعزیز سڑک کے کنارے ٹھیلہ لگائے پھل بیچ رہا تھا۔ ایک ہی دن پہلے پیٹرول، گیس اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بھاری اضافہ کیا گیا تھا۔ ہفتہ وار تعطیل کی بنا پر جمعہ کو عام طور سے ابوعزیز کی بکری زیادہ ہوتی تھی، لیکن اُس روز بیچارے کا دھندا کچھ زیادہ ہی مندا تھا۔ گاہک آتے، بھائو معلوم کرکے مہنگائی کا رونا روتے اور کچھ خریدے بغیر آگے بڑھ جاتے۔

اسی دوران مقامی پولیس کی ایک 45 سالہ اہلکار فریدہ حامدی وہاں آئی اور ٹھیلہ لگانے کا بھتہ طلب کیا۔ عزیز نے قسم کھا کر کہا کہ صبح سے ایک دانہ نہیں بکا، تم کو پیسے کہاں سے دوں! لیکن رشوت خوروں کے سینے میں دل کہاں ہوتا ہے! فریدہ نے ابوعزیز کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ رسید کرتے ہوئے راہ گیروں کا راستہ روکنے، ٹریفک میں خلل ڈالنے اور کارِ سرکار میں مداخلت کا الزام لگا کر پرچہ کاٹ دیا، اور حکم ہوا کہ کل اصالتاً عدالت میں پیش ہوکر ضمانت کروائو یا جیل کے لیے بوریا بستر باندھ لو۔ فاقے کا مارا ابوعزیز سرِعام طمانچے کی ذلت بھی برداشت کرگیا۔ گال سہلاتے ہوئے وہ یہی سوچ رہا تھا کہ کل اگر دہاڑی چھوڑ کر عدالت جانا ہوا تو گھر کا چولہا کیسے جلے گا؟ اور اگر عدالت سے ضمانت ہو بھی گئی تو وہ رقم کہاں سے لائے گا؟ چنانچہ اس نے فریدہ کی منت سماجت شروع کردی، پیروں میں پڑا۔ لیکن وہ پتھر دل خاتون چالان اُس کے ہاتھ میں تھماکر اگلے ٹھیلے کی طرف بڑھ گئی، اور جاتے وقت محترمہ نے ابوعزیز کے ٹھیلے سے ترازو بھی اٹھا لیا۔ مظلوم پھل فروش نے وہاں موجود لوگوں کو دہائی دی، دوسرے خوانچہ فروشوں کو پکارا۔

لیکن یہ وہ دور تھا جب تیونس ’’مردِ آہن‘‘ زین العابدین بن علی کی گرفت میں تھا، جو گزشتہ 23 سال سے بلاشرکتِ غیرے حکومت بلکہ بادشاہی فرما رہے تھے، اور ایک کروڑ سے زیادہ تیونسی اُن کے ذاتی غلام تھے۔ آمروں کی قوت اُن کے رشوت خور پولیس حکام اور خفیہ ادارے ہوتے ہیں، چنانچہ کسی میں ہمت نہ تھی کہ پولیس کے مقابلے میں اس غریب خوانچہ فروش کا ساتھ دیتا۔ ہر طرف سے مایوس ہوکر ابوعزیز قریب ہی واقع گورنر ہائوس جا پہنچا۔ اس نے بلند آواز میں گورنر سے فریاد کی، اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیاکہ اگر بات نہ سنی گئی تو وہ خود کو نذرِآتش کرلے گا۔ وہ بار بار کہہ رہا تھا کہ مہنگائی کی وجہ سے میرے گھر پر فاقوں کا راج ہے اور پولیس نے میرا ترازو چھین کر مجھے بالکل ہی بے روزگار کردیا ہے، میں اپنا اور بیوی بچوں کا پیٹ کیسے پالوں؟ لیکن گیٹ پر موجود گارڈ نے دھکے دے کر اسے وہاں سے بھگادیا۔ ابوعزیز نے قریب کے ایک پمپ سے پیٹرول کی بوتل خریدی اور دوبارہ گورنر ہائوس کے صدر دروازے پر آگیا۔ پیٹرول کی بوتل اس نے اپنے سر پر انڈیلی اور دیا سلائی کی رگڑ کے ساتھ ہی ابوعزیز کا کڑیل جسم مہیب شعلوں میں تبدیل ہوگیا۔ قریب موجود لوگوں نے آگ بجھائی اور بری طرح سے جھلسے ابو عزیز کواسپتال میں داخل کردیا گیا۔

اس واقعے سے لوگ مشتعل ہوئے اور زبردست مظاہرے شروع ہوگئے۔ چند گھنٹوں بعد جمعہ کی نماز تھی جس میں خطیبوں نے سرکاری خطبہ پھاڑ کر پھینک دیا اور ظلمِ عظیم کے خلاف جوشیلے خطاب نے سارے ملک میں آگ لگادی۔ پورا تیونس اللہ، تیونس اور آزادی کے نعروں سے گونج اٹھا۔ دوسرے عرب ممالک کی طرح تیونس میں بھی اظہارِ رائے پر پابندیاں عائد تھیں، لیکن ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ نے آزاد میڈیا کی کمی پوری کردی اور سارے تیونس میں طلبہ سڑکوں پر نکل آئے۔ زین العابدین حکومت نے پہلے تو طاقت کا بھرپور استعمال کیا، اور پھر معافی تلافی کا ڈول ڈالا گیا، حتیٰ کہ خاتونِ اوّل نے اسکارف سے سر بھی ڈھانپنا شروع کردیا۔ جب 18 دن کی اذیت کے بعد ابوعزیزنے 4 جنوری 2011ء کو دم توڑا تو حالات قابو سے باہر ہوگئے، اور اب ارحل یا زین العابدین (صدر زین العابدین ہمای جان چھوڑدو) کا نعرہ زبان زدِ عام ہوگیا۔ 14 جنوری کو گھبرائے ہوئے زین العابدین ٹیلی ویژن پر نمودار ہوئے اور انھوں نے وزیر داخلہ کی برطرفی کا اعلان کیا، اسی کے ساتھ چھ ماہ کے اندر نئے انتخابات کا مژدہ بھی سنایا گیا۔ مگر تیونس کے لوگ کچھ سننے کو تیار نہ تھے، اور اسی شام مردِ آہن اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ ایک خصوصی پرواز کے ذریعے سعودی عرب روانہ ہوگئے۔

یہ دورِ جدید کا واحد انقلاب تھا کہ جس میں فوج کا کوئی کردار نہیں تھا۔ فوج اور قانون نافذ کرانے والے ادارے آخری وقت تک صدر زین العابدین کی پشتیبانی کرتے رہے، لیکن طلبہ کے پُرامن مظاہروں نے انھیں فرار پر مجبور کردیا۔ اسی بنا پر یہ تبدیلی ’’انقلابِ یاسمین‘‘ کہلائی کہ چنبیلی کے معطر پھول کو عرب دنیا میں امن اور پُرجوش محبت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ تیونس کی عوامی تحریک سے متاثر ہوکر 25 جنوری 2011ء کو قاہرہ میں لاکھوں افراد تیونس اور مصر کے پرچم لے کر نکل آئے اور تحریر اسکوائر میں دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔ اسی کے ساتھ یمن ، شام ، مراکش ، اومان ، کویت اور بحرین میں بھی مظاہرے شروع ہوگئے۔ مراکش میں بادشاہ سلامت نے اپنے بہت سے اختیارات پارلیمنٹ کے حوالے کرنے کے ساتھ ہی نئے انتخابات کا حکم دے دیا۔ شام میں طاقت کے بھرپور استعمال سے ابتدائی مظاہرہ کچل دیا گیا۔ الجزائر میں مظاہرے کو پولیس نے ناکام بنادیا اور سامنے آنے والے دو سو افراد کی گرفتاری کے بعد معاملہ تھم گیا۔کویت اور بحرین میں بھی تحریک آگے نہ بڑھ سکی، لیکن مصر میں تشدد کے ساتھ مظاہرے شدت اختیار کرگئے اور 11 فروری کو مصر کے صدر حسنی مبارک نے بھی استعفیٰ دے دیا۔

فروری کے وسط میں لیبیا مظاہروں کی لپیٹ میں آگیا ، لیکن بہت جلد بیداری کی یہ لہر بدترین خانہ جنگی میں تبدیل ہوگئی۔ 15 مارچ کو اردن سے ملحقہ شامی شہر درعا کے ہائی اسکول کی دیوار پر اللہ، السوریہ (شام) اور آزادی کا نعرہ لکھا پایا گیا، اور اس کے بعد شہر کے سارے اسکولوں میں یہ نعرہ نوشتۂ دیوار بن گیا۔ یہ ایک ناقابلِ معافی جسارت تھی، چنانچہ خفیہ پولیس حرکت میں آئی اور دو سو بچیوں سمیت پانچ سو طلبہ کو گرفتار کرلیا گیا۔ ان طلبہ کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا، معصوم بچیوں کی بے حرمتی کی گئی، اور پچاس بچوں کی اُن انگلیوں کو کاٹ دیا گیا جن سے انھوں نے نعرے لکھے تھے۔ تشدد کے باوجود تحریک جاری رہی، لیکن یہاں بھی اس مبارک تحریک کو فرقہ وارانہ جنگ میں تبدیل کردیا گیا۔کچھ ایسا ہی حال یمن کا ہوا، جہاں سارا ملک ایک مہیب کھنڈر میں تبدیل ہوگیا۔

عرب دنیا میں بیداری کی اس مہم کو سیاسیات و عمرانیات کے علماء نے عرب اسپرنگ (Arab Spring) یا ربیع العربی کا نام دیا ہے۔ ربیع یا اسپرنگ ان معنوں میں کہ تحریک نے موسم بہار میں زور پکڑا جو جبر کی خزاں میں عوامی امنگوں کی بہار تھی۔ اسی قسم کی تحریک 1848ء میں یورپ میں برپا ہوئی تھی جو تاریخ میں Springs of Nations کے نام سے یاد کی جاتی ہے۔ پاپائیت (پادریوں کے جبر)، بادشاہت اور شخصی اقتدار کے خلاف فرانس سے شروع ہونے والی اس تحریک نے بھی آناً فاناً سارے مغربی یورپ کو اپنی لپیٹ میں لیا تھا، اور اس تحریک کے نتیجے میں مغربی جمہوریت نے جنم لیا۔ عرب اسپرنگ ایک حقیقی عوامی تحریک تھی جہاں لوگ صرف اپنے قومی جھنڈے لے کر باہر آئے۔ اور یہ جدوجہد دائیں بائیں، سیکولر اور مذہبی تقسیم سے پاک تھی۔ کسی بھی جگہ نہ تو سیاسی جماعتوں کے پرچم لہرائے گئے اور نہ لیڈروں کی عظمت کا ڈھول پیٹا گیا۔ نعروں میں بھی شائستگی تھی۔ مُردہ باد، نکل جائو، نامنظور، کتا جیسے الفاط کے بجائے ہرجگہ اللہ پر ایمان، آزادی اور مملکت کے لیے خوشی و خوشحالی کی دعائیں کی گئیں۔ آمروں کو بھی بہت ہی متانت کے ساتھ ارحل یا تشریف لے جایئے کا مشورہ دیا گیا۔ دھرنوں پر ہلڑ بازی اور ہڑبونگ کے بجائے باوقار ’’شب بیداری‘‘ کا گمان ہوتا تھا، جہاں ہزاروں افراد شمعیں اور مشعلیں لے کر ساری رات نعرہ زن رہتے تھے۔

خوش الحان نوجوان، مشہور تیونسی شاعر ابوالقاسم الشابی کی رجزیہ نظمیں پڑھ کر دلوں کو گرماتے رہے۔ الشابی صرف پچیس سال کی عمر میں فوت ہوگئے تھے، لیکن اس مختصر سے عرصے میں انھوں نے بہت ہی انقلابی کلام تخلیق کیا جسے ساری عرب دنیا میں پذیرائی حاصل ہوئی۔ اس نوجوان شاعر کو تیونس کا قومی ترانہ لکھنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ ان کی نظم ’’الیٰ طغاۃ العالم‘‘ (دنیاکے جباروں کے نام) نے تیونس کے انقلابِ یاسمین میں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے، اور اب عرب دنیا کے سارے بچوں کو یہ نظم یاد ہوگئی ہے، کہ ہر شہر اور دیہات میں یہ نظم انتہائی جوش و جذبے سے بار بار پڑھی گئی۔

عرب اسپرنگ سے شیوخ و ملوک اور مطلق العنان مسلم حکمرانوں میں شدید بے چینی پیدا ہوئی۔ کئی حکمرانوں نے جہاں عوام کے دل جیتنے کے لیے وقتی اقدامات کیے، وہیں اس ’’فتنے‘‘ کو روکنے کے لیے طویل المیعاد حکمت عملی تشکیل دی گئی۔ سعودی عرب نے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں دگنی اور پیٹرول و بجلی کے نرخ آدھے کردیے۔ کچھ اسی قسم کے اقدامات کویت، اومان، متحدہ عرب امارات اور بحرین میں بھی اٹھائے گئے۔

عرب عوام کی بیداری پر امریکہ اور اسرائیل کو بھی شدید تشویش تھی کہ مصر میں منتخب حکومت نے بحر روم سے نکلنے والی گیس کی فروخت کے لیے اسرائیل سے معاہدے پر نظرثانی کا حکم دے دیا، اسی کے ساتھ غزہ سے ملنے والی سرحد بھی کھول دی گئی۔ دلچسپ بات کہ امریکہ کی سابق وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن جب 2012ء کے اختتام پر مصر اور تیونس گئیں تو انھوں نے خوشگوار حیرت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ صدر محمد مرسی اور تیونس کے وزیراعظم حمادی الجبالی سے مل کر بے حد متاثر ہوئی ہیں۔ تاہم اس منافقانہ خیر سگالی کے ساتھ مغرب نے خلیجی ریاستوں کو عرب اسپرنگ کے استیصال کے لیے عملی اقدامات سُجھانے شروع کردیے۔ تیونس کے حوالے سے زیادہ پریشانی نہ تھی کہ یہ شمالی افریقہ کا ایک چھوٹا سا ملک ہے جہاں کے آئین میں سیکولرازم کو ناقابلِ ترمیم تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ تاہم مصر، شام اور لیبیا کا معاملہ بے حد اہم تھا۔ مصر عرب دنیا کا سب سے بڑا اور تعلیم یافتہ ملک ہے جس کے عرب دنیا اور اس سے باہر بھی گہرے اثرات ہیں۔ مصر اسرائیل کا پڑوسی ہے اور نہر سوئز بحرروم سے بحراحمر کے ذریعے عرب دنیا اور ایشیا سے رابطے کا تیز ترین راستہ ہے۔

مصری اخوان المسلمون عرب دنیا کی مادر تحریکِ اسلامی ہے، اور اس کی فکر و حکمت کی چھاپ ساری عرب دنیا پر نظر آتی ہے۔ مصر میں سب سے پہلے آئینی ہتھکنڈے استعمال ہوئے۔ سینیٹ کو افتتاحی اجلاس سے پہلے ہی کالعدم قرار دے دیا گیا۔ ممتاز سائنس دان ڈاکٹر محمد البرادعی نے مسیحیوں کے ساتھ مل کر آئینی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور استدعا کی کہ مذہب کی بنیاد پرقائم سیاسی جماعتوں پر پابندی لگائی جائے۔ اسی دوران ملک کی سیکولر جماعتوں نے ’تمرد‘ یا بغاوت کے عنوان سے تحریک شروع کی، جس کا ہراول دستہ سلفی خیالات کی حامل النور پارٹی تھی۔ گویا درہم و ریال نے ملائوں کے ضمیر بھی خرید لیے۔ دلچسپ بات یا ستم ظریفی کہ شب خون سے دوماہ پہلے جب حزبِ اختلاف کے وفد نے فوج کے سربراہ عبدالفتاح السیسی سے مداخلت کی درخواست کی تو جنرل صاحب نے فرمایا ’’فوج ایک آگ ہے، اس سے مت کھیلو، اگر ایک بار یہ اپنی بیرکوں سے باہر آگئی تو پھر (جمہوری) مصر کو کم از کم 30 سال کے لیے بھول جائو‘‘۔ لیکن النور اور جمہوریت کے چیمپین ڈاکٹر البرادعی مارشل لا پر اصرار کرتے رہے، اور آخرکار مصر سے جمہوریت کی بساط لپیٹ دی گئی۔

مصرسے نمٹنے کے بعد شام میں خلیجیوں کو بہت زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی، کہ مسلم امت کو تقسیم کرنے کے کارِ خیر میں ایران بھی دامے، درمے، قدمے، سخنے شریک تھا، اور کچھ اسی قسم کا فارمولا یمن میں بھی کامیابی کے ساتھ استعمال ہوا۔ برسوں کی خانہ جنگی کے بعد لیبیا میں امن کی امید پیدا ہوئی اور گزشتہ سال کے آغاز پر تیل کی پیداوار میں استحکام کے ساتھ ہی معاملات میں بہتری ظاہر ہوئی۔ انتخابات کی تیاری بھی شروع ہوئی کہ متحدہ عرب امارات اور جنرل السیسی نے جنرل خلیفہ بالقاسم حفتر کی شکل میں ایک نیا بت تراش دیا۔ جنرل حفتر کرنل قذافی کے حامی تھے اور ان کے اقتدار کو بچانے کے لیے عام لوگوں پر ٹینک چڑھاتے رہے۔ قذافی کی موت کے بعد وہ فرار ہوکر امریکہ چلے گئے، اور وہاں کئی برس رہ کر امریکی شہریت حاصل کرلی۔ 2016ء میں لیبیا واپس آکر حفتر ملیشیا کے نام سے کارروائی شروع کی۔ حفتر ملیشیا کا نشانہ اخوان المسلمون سے وابستہ افراد، تیل کی پائپ لائن اور دوسری تنصیبات ہیں۔ حنرل حفتر کے سپاہیوں کو اسلحہ متحدہ عرب امارات اور تربیت مصر دے رہا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جنرل صاحب کو امریکہ بہادر کی آشیرواد بھی حاصل ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران حفتر ملیشیا کی کارروائیوں سے لیبیا میں تیل کی پیداوار بری طرح متاثر ہوئی اور استحکام کی ساری امیدیں دم توڑ گئیں۔

اب تک کی صورتِ حال کا تجزیہ کیا جائے تو عرب اسپرنگ ایک ناکام بغاوت اور خوفناک خواب محسوس ہوتی ہے، کہ اس نے مشرق وسطیٰ کے بڑے حصے کو خانہ جنگی کی آگ میں دھکیل دیا۔ شام، لیبیا اور یمن کھنڈر بن گئے۔ لبنان بھی اس جنگ سے جزوی طور پر متاثر ہوا۔ خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان کشیدگی خطرناک شکل اختیار کرگئی۔ شام، لیبیا اور مصر میں اخوان المسلمون کو شدید نقصان پہنچا اور اس کی صفِ اوّل کی قیادت میدان سے ہٹادی گئی۔ سب سے بڑا ظلم یہ ہوا کہ سماجی خدمات کے نیٹ ورک کو بھی ظالموں نے تہس نہس کردیا۔یہ تو تھا تصویر کا ایک پہلو۔ تاہم گزشتہ کچھ عرصے سے الجزائر اور سوڈان میں بے چینی کی لہر کو مغرب کے سیاسی تجزیہ نگار عرب اسپرنگ کا دوسرا ایڈیشن قرار دے رہے ہیں۔ مشہور تجزیہ نگار David Hearts نے لندن میں ایک نجی مرکزِ دانش میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2010ء کے اختتام پر طلوع ہونے والی عرب اسپرنگ بظاہر ناکام نظر آرہی ہے، لیکن عرب ملکوں کی سیاست پر اس کے اثرات اب بھی بہت گہرے ہیں۔ انھوں نے الجزائر کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ 2011ء میں الجزائر کے جمہوریت پسند طاقت کا مظاہرہ کرنے میں بری طرح ناکام رہے، لیکن گزشتہ برس کے اختتام سے وہاں ایک منظم تحریک کے آثار بہت نمایاں ہیں اور نعروں سمیت تحریک کے خدوخال سے ایسا لگتا ہے کہ یہ عرب اسپرنگ کا نہ صرف تسلسل ہے بلکہ اِس بار جوش پر ہوش غالب لگ رہا ہے۔ پُرامن احتجاج کے نتیجے میں صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کے 28 سالہ اقتدار کا خاتمہ ایک مثبت پیش قدمی ہے۔

کچھ ایسی ہی صورتِ حال سوڈان میں ہے، جہاں کی صورتِ حال میں تیونس سے بڑی مماثلت پائی جاتی ہے۔ تیونس میں 28 سالہ چھابڑی فروش کی خودسوزی نے عظیم الشان تحریک کو جنم دیا، جبکہ سوڈانی دارالحکومت خرطوم میں 28 سالہ بے روزگار انجینئر عباس فرح کے سر پر لگنے والی گولی نے تحریک کے لیے مہمیز کا کام دیا۔ تیونس کا ابوعزیز ناخواندہ تھا جبکہ سوڈانی عباس سوشل میڈیا پر بے حد سرگرم۔ اس کی فیس بک پوسٹ سوڈانی نوجوانوں میں بہت مشہور تھیں۔ شہادت سے چند لمحے پہلے اس نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ’’اللہ کے عطا کردہ حقوق کے حصول کی جدوجہد میں بہنے والا لہو انمول ہوتا ہے‘‘۔ یہ جملہ سوڈانی نوجوانوں کا نعرہ بن چکا ہے۔ ڈیوڈ ہرٹس کا خیال ہے کہ سوڈان میں ہونے والی جدوجہد بھی عرب اسپرنگ کی تجدید نظر آ رہی ہے۔

اسی کے ساتھ صدر مرسی کے بہیمانہ قتل پر الجزائر، تیونس، کویت، اردن، حتیٰ کہ بحرین میں جو مظاہرے ہوئے اُن سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ عرب اسپرنگ کی راکھ میں اب بھی کچھ ایسی چنگاریاں موجود ہیں جن کے شعلۂ جوالہ بن جانے کے امکانات کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ ڈیوڈ ہرٹس کا کہنا ہے کہ الجزائر اور سوڈان دونوں جگہ فوج کا رویہ دوسرے عرب ملکوں کی فوج سے بہت مختلف ہے، اور خرطوم کے ایک خونریز واقعے کے بعد سے قتلِ عام کاکوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان ممالک میں مظاہرین کی قیادت کرنے والے بہت احتیاط سے کام لے رہے ہیں، یعنی ’’ڈرو مت، لیکن لڑو مت‘‘ کے نتیجے میں فوج کے طالع آزمائوں کو طاقت کے استعمال کا موقع نہیں دیا جارہا۔ اسی صبر وحکمت کا نتیجہ ہے کہ گزشتہ ہفتے سوڈانی فوج اور مظاہرین میں شرکتِ اقتدار کا فارمولا طے پاچکا ہے۔

دوسری طرف ملوک و شیوخ بھی غافل نہیں۔ او آئی سی کی حال ہی میں ہونے والی سربراہ کانفرنس میں بھی الجزائر اور سوڈان کی صورتِ حال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ان کے اماراتی ہم منصب شہزادہ محمد بن زید، اور مصر کے جنرل السیسی تینوں کا خیال تھا کہ اگر الجزائر اور سوڈان کی صورتِ حال پر جلد قابو نہ پایا گیا تو عرب اسپرنگ کی طرح بدامنی کی ایک نئی لہر جنم لے سکتی ہے، جس سے سارا مشرق وسطیٰ عدم استحکام کا شکار ہوجائے گا۔ خلیجیوں کو یہ ڈر بھی ہے کہ کہیں ایران ان ملکوں میں بھی مداخلت نہ شروع کردے۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے ’’بغاوت‘‘ کچلنے کے لیے سوڈان کو 3 ارب ڈالر دینے کا وعدہ بھی کیا ہے، جو مبینہ طور پر سوڈانی فوج کی کارکردگی سے مشروط ہے۔ جنرل السیسی کو ایک اور پریشانی صدر مرسی کی وفات پر خاموش ردعمل سے ہے۔ کرفیو جیسے پہرے کی بنا پر مصری حکومت محمد مرسی کے جنازے کو حکومت مخالف عوامی اجتماع بننے سے روکنے میں یقیناً کامیاب رہی، لیکن اب جناب مرسی کی رہائش پر تعزیت کے لیے آنے والوں کا سلسلہ ختم ہونے کو نہیں آرہا، اور ایک اندازے کے مطابق ہر روز 10 ہزار کے قریب سوگوار اُن کے گھر حاضری دے رہے ہیں۔ فوج نے ڈاکٹر صاحب کی قبر پر کوئی نشانی یا کتبہ نہیں لگانے دیا، لیکن لوگ قیاس و اندازے سے اُن کی قبر پرجاکر فاتحہ پڑھ رہے ہیں۔ اب خبرگرم ہے کہ حکومت سڑک بنانے کے بہانے قبرستان پر بلڈوزر پھیرنے کا منصوبہ بنارہی ہے۔ مغربی تجزیہ نگاروں کے خیال میں مرسی کی شہادت کے بعد پیش آنے والے واقعات سے اخوان المسلمون کے ختم ہوجانے کا مفروضہ غلط ثابت ہوچکا ہے۔ بلاشبہ قتلِ عام اور پکڑ دھکڑ نے جماعت کے نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

اس کے کتب خانے، اسکول اور سماجی خدمات کے ادارے ملیامیٹ ہوچکے، لیکن گلی کوچوں میں اخوان کا کام اب بھی نظر آرہا ہے۔ السیسی کے لیے مزید پریشانی کی بات یہ ہے کہ اب اخوان کے ساتھ مصر کے سیکولر طبقے میں بھی بے چینی کے آثار ہیں۔ مرسی کے انتقال پر ڈاکٹر البرادعی اور جنرل احمد شفیق جیسے اخوان کے بدترین مخالفین نے بھی تعزیت کے ٹویٹ جاری کیے جن میں ڈاکٹر مرسی کی موت کو قتل قرار دیا گیا۔

فی الحال یہ کہنا قبل ازوقت ہے کہ الجزائر وسوڈان میں عوامی بیداری اور مصر میں ’تعزیت مہم‘ مستقبل قریب میں کیا شکل اختیار کرے گی، لیکن مشرق وسطیٰ کی سیاست پر نظر رکھنے والے امریکی مراکزِ دانش کا خیال ہے کہ عرب اسپرنگ اب تک پوری طرح کچلی نہیں جاسکی، اور یہ عناصر دوبارہ منظم ہوتے نظر آرہے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے بحرین میں ہونے والی فلسطین امن کانفرنس کی سعودی عرب اور خلیجی ممالک کی جانب سے مکمل و غیر مشروط حمایت کے علی الرغم حماس اور پی ایل او کے مشترکہ بائیکاٹ سے بھی بدلتے عوامی تیور کا پتا چلتا ہے۔