شاباش شاہ محمود قریشی - مسعود ابدالی

گزشتہ چند گھنٹوں سے لندن میں میڈیا کی ایک تقریب کی خالی کرسیاں دکھا کر حکومت کو شرمندہ کیا جا رہا ہے۔ ہم خود آزادی صحافت کے حامی اور موجودہ حکومت نے صحافت کا گلا گھوٹنے کے لیے جو اقدامات کیے ہیں، اس کے شدید مخالف ہیں لیکن لندن میں شاہ محمود قریشی سے بدتمیزی کے واقعے کا تعلق آزادی صحافت سے نہیں بلکہ توہینِ رسالت ﷺ سے ہے۔

کینیڈا کے متعصب اور مسلم دشمن صحافی ایزرا لیوینٹ Ezra Levant اپنے توہین آمیز مضامین کے لیے مشہور ہیں۔وہ خود کو فخر سے سفید نسل پرست کہتے ہیں۔ انھیں پاکستانی آئین میں ختم نبوت ترمیم پر سخت اعتراض ہے اور یہودی گھرانے کا یہ چشم و چراغ ناموس رسالت ﷺ سے متعلق قوانین کو بھی آزادی اظہار رائے کے خلاف سمجھتا ہے۔

گزشتہ دنوں پاکستانی حکومت نے ٹوئٹر کی انتظامیہ سے شکایت کی تھی کہ ایزا کی توہین آمیز تحریروں سے مسلمانوں کے جذبات متاثر ہو رہے ہیں۔ یہ شکایات اتنی جائز و مناسب تھیں کہ ٹوئٹرنے ان کا اکاؤنٹ معطل کردیاگیا۔ اس بات پر موصوف سخت غصے میں ہیں، چنانچہ وہ احتجاج کے لیے لندن آئے۔ میڈیا سے شاہ محمود قریشی صاحب کے خطاب کے دوران انھوں نے انتہائی بدتمیزی سے پاکستانی وزیرخارجہ کو 'سنسر ٹھگ' کہتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت پاکستان دنیا بھر میں سنسر کو فروغ دے رہی ہے۔ ربوہ ٹائمز نے کافی عرصہ پہلے سے اس سلسلے میں فضا بنائی ہوئی ہے۔ لندن میں ایسی ہی صورتحال کچھ عرصہ پہلے وزیراعظم کے مشیر جناب زلفی بخاری کو بھی پیش آ چکی ہے۔ ربوہ ٹائمز نے الزام لگایا کہ بخاری صاحب قادیانیوں کو مسلمان نہیں سمجھتے، جو احمدیہ برادری کےانسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

اگر ایزرا کا اکاؤنٹ حکومت پاکستان کی درخواست پر معطل ہوا ہے تو شاباش قریشی صاحب۔ وزیراعظم کے دورہ امریکہ میں بھی ایسی صورتحال پیش آسکتی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ وزیراعظم معذرت کے بجائے جرات مندانہ طرزعمل اختیار کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   ختم نبوت کیاہے؟ ڈاکٹر ساجدخاکوانی

مسلم لیگی اور حکومت مخالف احباب جو لندن کی ویڈیو کو بڑے پیمانے پر پھیلا کر خوش ہو رہے ہیں کہ میڈیا کے بڑے حلقے نے وزیرخارجہ کی تقریر کا بائیکاٹ کیاتو ان کے لیے عرض ہے کہ 'ہوں لائق تعزیز پر الزام غلط ہے'۔ ایزرا اور ربوہ ٹائمز کو آزادی صحافت سے دلچسپی نہیں بلکہ ہمارے آقا ﷺ سے نفرت ہے۔ اور جب معاملہ سرکار ﷺ کی ناموس کا ہو تو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر شاتمینِ رسالت کا مقابلہ ضروری ہے۔