’جج ارشد ملک کو کام سے روک دیا گیا‘

وزارت قانون نے اسلام آباد ہائیکورٹ کی سفارش پر احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کےحوالے سے ایکشن لے لیا۔ فاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا ہے کہ احتساب عدالت جج کے ارشد ملک کو کام سے روک دیا گیا ہے اور انہیں وزارت قانون کو رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کے ہمراہ فروغ نسیم نے پریس کانفرنس کی۔ وزیر قانون نے مزید کہا کہ نواز شریف آج منی ٹریل دے دیں،وہ آج ہی آزاد ہوجائیں گے، حکومت قانون و انصاف کے ساتھ کھڑی ہے، نہ یہ کیس اس حکومت نے بنایا اور نہ ہی انکوائری یا تفتیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی کو اس چیز کی اجازت نہیں دی جائے گی کہ عدالتوں کو دباؤ میں لایا جائے، دیکھنا یہ ہے کہ فیصلہ کسی دباؤ پر دیا گیا، جج صاحب کی بات مانی جائے تو کوئی دباؤ نہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر بیان حلفی درست ہے تو فیصلہ میرٹ پر ہوا، بیان حلفی ایک ہی بات کی نشاندہی کرتا ہے، وہی نشاندہی پاناما فیصلے میں بھی کی گئی۔ فروغ نسیم نے یہ بھی کہا کہ جج کو رشوت یا دھمکی دینے کی سزا الگ ہے،ہم قانون کے ساتھ کھڑے ہیں نہ کسی کی حمایت اور نہ ہی کسی کی مخالفت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک اس شاخسانے کا کوئی فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ نہیں کرتی، اس میں مزید سزا جزا کی کارروائی نہیں ہوسکتی۔

وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ نواز شریف کو ایک کیس میں سزا ہوئی ایک میں بری کیا گیا، منطق تو یہ ہے کہ دباؤ میں فیصلہ ہوتا تو دونوں کیس میں سزا ہوتی۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت سے جو سزا ہوتی ہے وہ آٹو میٹک ختم نہیں ہو جاتی،فیصلے سے متعلق معاملات میں اعلیٰ عدالت سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ فروغ نسیم نے مزید کہا کہ ارشد ملک کو اسلام آباد کی عدالت نمبر 2 سے ہٹادیا گیا ہے اور انہیں کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اصل ادارے لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ کریں۔