ظفر عمران کی افسانہ نگاری - داؤد ظفر ندیم

ظفر عمران نے اپنے افسانوں میں اس دور کے معاشی، سیاسی اور سماجی صورت حال کی خامیوں، مثلاً بیجا رسم و روایات، تعصبات، سخت گیر سماجی نظام اور تیزی سے اُبھرتے ہوئے دولت مند طبقہ کے منفی اثرات وغیرہ جیسے موضوعات کو شامل کیا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ان کے تحریر کئے گئے ان کے زیادہ تر افسانوں میں زندگی کے بارے میں بحث کی گئی ہے۔

غالباً یہی وجہ ہے کہ انہیں پڑھنے اور پسند کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے ہے۔ ان کی کئی افسانے، مثلاً ’گھنٹی والی ڈاچی‘، ایک پاکیزہ سی، گنہ گار لڑکی،اور ’ فرقہ امید پرستوں کا‘ وغیرہ قارئین کے ذہن میں اچھی خاصی جگہ بنا لیتے ہیں اور بار بار پڑھے جانے کے باوجود انہیں دوبارہ پڑھنے کے لئے مجبور کرتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں کہا جائے تو ان کہانیوں میں اتنی جان ہے کہ وہ لازوال شکل اختیار کر لیں ۔ ظفر عمران اپنے ہمعصر افسانہ نگاروں میں کافی مختلف ہیں۔ ظفر عمران کو زبان اردو پر جو عبور حاصل ہے وہ شاید دوسروں کا مقدر نہیں۔ ان کی خوبصورت زبان قاری کو آغاز میں ہی اپنے قبضے میں لے لیتی ہے اور افسانہ کے آخر تک اس سے باہر نکلنے کا موقع نہیں دیتی۔ ظفر عمران کی خوبیوں کے معترف اردو کے سحر انگیز مصنف شکیل عادی زادہ بھی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ– ”ظفر عمران نے جب سے ہوش سنبھالا۔ لکھنے پڑھنے کا شغف رہا ہے۔ لکھنے کے لئے لازم ہے کہ بہت پڑھا جائے۔ کہتے ہیں ہر شخص کہانی سوچنے پر قادر ہے چاہے اس کا تعلق کسی شعبے سے بھی ہو۔ بر اظہار کی قدرت چاہیئے۔ اظہار کسی چھوٹی بات کو بلند درجے پر پہنچا دیتا ہے اور کسی بڑی بات کو بے اثر، بے ثمر کر دیتا ہے۔ ظفر عمران کا مشاہدہ بھی تیز پے اور مطالعے کے بہ غیر تو کچھ بھی ممکن نہیں ہوتا۔

اس نے خاصے ٹی وی ڈرامے تخلیق کیے ہیں۔ یہ اس کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے۔ اور بے شک اردو افسانوی ادب میں ایک اچھے افسانہ نگار کی آمد کی نوید دیتا ہے۔ “۔ ظفر عمران کے افسانوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بلامبالغہ اس بات کا اعتراف کیا جا سکتا ہے کہ وہ نہ صرف محبت کے جذبہ اور احساس کو پورے انہماک اور حساسیت کے ساتھ اپنی کہانیوں میں پیش کرتے ہیں بلکہ فرد کے اندرونی جذبات کو بھی انتہائی کامیابی کے ساتھ قارئین کے سامنے رکھتے ہیں۔ ظفر عمران کا کسی سے نظریاتی تعلق نہیں اور اسی لئے ان کی کہانی میں کہانی نظر آتی ہے کسی قسم کا پروپیگندا نہیں۔ ان کا تعلق قصہ گوئی کی روایت سے ہے ان کو صرف قصہ سنانے کی خواہش ہے۔ ’اس نے سوچا‘ اور ’کرشن چندر سے بڑا ادیب‘ جیسے افسانے نہ صرف تلخ ہیں بلکہ قاری کو سوچنے پر بھی مجبور کرتے ہیں۔ جہاں ایک طرف ’اس نے سوچا‘ افسانہ پنجاب کی شہری زندگی میں کام کرنے والی لڑکیوں کی نامساعد حالت، ان کی آّمدورفت میں عدم تحفظ اور منچلوں کی طرف سے جنسی ہراسگی اور عام لوگوں کی طرف سے چشم پوشی کی شبیہ پیش کرتا ہے، وہیں ’کرشن چندر سے بڑا عجیب‘ موجودہ ادیبوں کی اپنے بارے میں غلط اندازے کو مرکز نگاہ میں رکھ کر لکھی گئی کہانی ہے۔

ظفر عمران کے یہ افسانے دوسرے افسانہ نگاروں کے لکھے گئے افسانوں سے انتہائی مختلف ہیں کیونکہ وہ ان افسانوں میں بھی روز مرہ کے عمل کے اندر انسانی تلخی عنصر کی تلاش کر لیتے ہیں۔ گویا کہ ظفر عمران کے افسانوں کی دنیا وہ دنیا نہیں ہے جیسا کہ ایک معروف تجزیہ نگار نے تحریر کیا ہے کہ– ” ظفر عمران کی کہانی دوسروں سے کافی مختلف ہے۔ وہ کہانی کی تلاش میں ہجرت کر کے کسی دوسرے ملک یا وادی نہیں جاتا بلکہ یہ کوشش کرتا ہے کہ روز مرہ کی زندگی میں کہانی کے امکانات تلاش کرے۔ درحقیقت یہ افسانے محض کہانی نہیں ہیں بلکہ حقیقت کے چہرے سے نقاب اٹھاتے ہیں“۔ ظفر عمران نے برصغیر کی تقسیم کے موقع پر ہونے والے مذہبی فسادات کے اثرات کو بنیاد بنا کر بھی ایک افسانہ لکھا ہے۔ 'کوئی معنی نہیں محبت کے' میں ظفر عمران نے بلاجھجک اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سیاسی برائیوں سے پیدا شدہ ماحول پر ضرب لگاتے ہوئے انسانی رشتوں اور جذبات کو اہمیت دی ہے۔ اگرچہ بعض دوست اس افسانے کا تجزیہ کچھ مختلف طریقے سے کریں مگر میرے نزدیک وہ ان افسانے میں مذہبی تعصب کی اصل ذہنیت اور صورت حال کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اس تعصب کی وجہ سے آج تک محبت بھرے دل مل نہیں پاتے ۔

ان کا یہ افسانہ پاکستانی ادب میں محبت کے حق میں آواز اٹھانے کا کام انجام دیتا ہے اور قارئین کو غور و فکر کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ وہ اپنے ان خیالات کو اس خوبصورتی سے پیش کرتے ہیں کہ بات دل میں اترتی چلی جاتی ہے۔ ظفر عمران کے افسانوں میں ’ایک پاکیزہ سی گنہ گار لڑکی‘ کافی اہمیت رکھتا ہے۔ اس کہانی میں تچار بنیادی کردار ہیں ان کو پڑھنے والا کسی بھی کردار کی کردار کی بنیاد پر افسانے کی اہمیت کا جائزہ لے سکتا ہے میں باقی کرداروں کی اہمیت مانتا ہوں خاص طور پر ریما ایک اہم کردار ہے مگر اس کے باوجود میں محسوس کرتا ہوں کہ انہوں نے ایک امیر زادے کے بوڑھے ڈرائیور کے ذریعہ ہمارے امیر گھروں میں کام کرتے غریب لوگوں کی پریشان حال زندگی اور ان کے مسائل سے روشناس کرانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ اس کہانی میں صرف بشیر ڈرائیور کی پریشانی کو ہی پیش نہیں کیا گیا ہے بلکہ امیر زادوں کی پست ذہنیت کو بھی ظاہر کیا گیا ہے اور ظفر عمران نے یہ سب اتنے بے باک انداز میں کیا ہے کہ بات دل کو چھو جاتی ہے۔ ایسی بات نہیں ہے کہ ظفر عمران صرف افسانہ نگاری کے لئے ہی معروف ہیں بلکہ انہوں نے ڈیڑھ درجن سے بھی زائد ڈرامے لکھے ہیں۔

ان ڈراموں میں سے ہی ان کی ایک شاہکار ڈرامہ ’‘۔ شہریار شہزادی' ہے۔ یہ ڈرامہ پاکستانی ڈرامہ ادب میں انہیں ایک علیحدہ شناخت فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے ’شہریار شہزادی‘ میں ملک کی سیاست، حکومت اور سماج کے کرداروں سے ہمیں انتہائی دلچسپ انداز میں متعارف کرایا ہے۔ اس ڈرامے کا اہم کردار ایک لڑکی ہے جسے ظفر عمران نے پاکستان کی باغی لڑکی کے طور پر پیش کیا ہے۔ اس باغی لڑکی کے ذریعہ موجودہ صورت حال کو عیاں کرتے ہوئے ملک کے نظام میں پوشیدہ خامیوں کو انتہائی چالاکی اور بے باکی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ ظفر عمران نے ایک باغی لڑکی کا سہارا لے کر اس وقت کے مختلف طبقوں کی منافقوں کو کچھ اس انداز میں نشانہ بنایا ہے کہ وہ زخمی تو ہوتے ہیں لیکن مصنف پر کسی طرح کا الزام عائد نہیں کر پاتے۔ ان کا یہ ڈرامہ ایک نجی ٹی وی چینل میں قسط وار نشرہوا تھا اور لوگوں نے اسے کافی پسند کیا تھا۔ یہی سبب ہے کہ جب ’شہریار شہزادی‘ ختم ہو گیا تو لوگوں کا اصرار ہوا کہ اس کا سیزن ٹو پیش کیا جائے۔ امید ہے کہ لوگوں کی گزارش کو دھیان میں رکھتے ہوئے ظفر عمران نے شہریار شہزادی کی واپسی‘ کے عنوان سے ایک نیا ڈرامہ تحریر کریں گے۔

ظفر عمران ایک بڑی ادبی شخصیت بن چکے ہیں جنہوں نے اردو ڈرامہ کی پاکستانی روایت کو آگے بڑھایا ہے۔ گویا کہ صرف اردو افسانہ ظفر عمران کی پہچان نہیں ہیں بلکہ ان کے اصل پہچان ان کی ڈرامہ نگاری ہے جس نے ان کو ایک منفرد مقام دیا ہے اردو کے بہت سے بڑے افسانہ نگاروں کی روایت پر عمل کرتے ہوئے انہوں نے کہانی کے دونوں بڑے طریقوں، افسانہ اور ڈرامہ پر اپنے آپ کو منوانے کی کوشش کی ہے۔ بہت سے لوگوں کو علم نہیں ہو گا ظفر عمران فلمی دنیا میں بھی ایک مصنف کے طور پر اپنا مقام بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہاں بھی ان کو وہی مقبولیت حاصل ہوگی جو انہوں نے ڈرامہ اور افسانے میں حاصل کی ہے۔ انھوں نے فلموں کی کہانیاں، منظرنامے اور مکالمے تحریر کرنا شروع کردیئے ہیں۔ یہ فلمیں بھی ظفر عمران کی کہانی نگاری کی صلاحیتوں کو فلم ناظرین کے سامنے پیش کریں گی۔ ظفر عمران نے اپنی تحریری صلاحیتوں کو مختلف طریقوں سے لوگوں کے سامنے رکھا ہے اور داد و تحسین حاصل کر رہے ہیں۔ اگرچہ ابھی وہ شروعاتی مراحل میں ہیں مگر ابھی سے ہی اپنی ایک الگ شناخت اور اپنا منفرد مقام بنا چکے ہیں۔

Comments

دائود ظفر ندیم

دائود ظفر ندیم

دائود ظفر ندیم تاریخ، عالمی اور مقامی سیاست، صوفی فکر اور دیسی حکمت میں دلچسپی رکھتے ہیں، سیاسیات اور اسلامیات میں ماسٹر کیا ہے۔ دلیل کے لیے باقاعدہ لکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.