مسائل کی جڑ و بنیاد - انس اسلام

اِس آرٹسٹ سسٹم کے پیدا و مسلط کردہ ،۔۔۔ غیر ضروری و غیر فطری و غیر اہم ،۔۔۔۔۔ آرٹیفیشل و جعلی و نقلی ،۔۔۔۔۔۔۔
بے جا ''خوابوں'' میں ہے ! آزادی بنیادی طور پر کوئی شے نہیں ہوتی ! دراصل انسان نے ایک غلامی سے نکل کر دوسری غلامی میں جانا ہوتا ہے !
یعنی اصل سوال ؛ غلامی کے انتخاب کا ہے ۔۔۔! کہ آپ کس غلامی کو اختیار کرتے ہیں ؟

لیکن جس غلامی کو آپ ہر صورت ، ہر حال میں ،۔۔۔۔ اور ہر وقت حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔ آپ اُسے آزادی کا نام دے دیتے ہیں !
مثال کے طور پر امورِ خانہ داری و فرائضِ خاندانی سے فرار جدید خاتون ،۔۔۔۔۔ اداروں و مارکیٹ و ملٹائی نیشنل کمپنیوں ،۔۔۔۔ اور باہر موجود ہر ہر فرد کی غلامی میں چلے جانے کو آزادی خیال کرنے لگے ۔۔۔۔!! چند انسانوں کی مسلط و قائم و نافذ و تشکیل و تعمیر کردہ Perception پر ایمان لے آنے والا انسان خالق کے اصول و ضوابط و احکامات و ہدایت و رہنمائ و تعلیمات کو غلامی خیال کرنے لگے گا ،۔۔۔۔! عصرِ حاضر میں آزادی ؛ مارکیٹ و ملٹائ نیشنل کمپنیوں کی غلامی کا نام ہے !
یعنی آپ جتنی پراڈکٹس اپنی باڈی میں اتارتے جائیں گے ،۔۔۔۔ اور جس قدر زیادہ مصنوعات و ایجادات اپنے گھر میں آپ اپنے آس پاس جمع کرتے جائیں گے ۔۔۔! آپ اُتنا ہی آزاد کہلائیں گے ۔۔۔! جو خواب آج آپ دیکھ رہے ہیں ! وہ آپ کے اپنے خواب نہیں ہوتے ۔۔۔۔ اور وہ دراصل حقیقی اور بامقصد ۔۔۔۔ کوئی عظیم خواب نہیں ہوتے ،۔۔۔۔۔ بلکہ وہ آرٹسٹوں (جدید مارکیٹ اسٹرکچر ،۔۔۔ میڈیائی و ایجوکیشن سسٹم) کے دکھائے گئے خواب ہوتے ہیں ! جو خواب ماضی کا انسان ، خود سے چاہ کر بھی کبھی نہ دیکھ سکتا تھا ۔۔۔۔۔ ! بلکہ آج اگر وہ زندہ ہوکر ۔۔۔۔۔ ہمارے معاشرے میں قدم رکھ لے ،۔۔۔۔ تو دوبارہ مر جانے کو ہی ترجیح دے ۔۔!
کمپنیوں کی زیادہ سے زیادہ چیزوں کا حصول ہی اب آپ کا واحد و یکتا خواب ہے ! اس کے علاوہ آزادی و ترقی کسی شے کا نام نہیں ۔۔۔۔! کہ آپ خریدتے خریدتے وفات پاجائیں ۔۔! اور انہیں حاصل کرنے واسطے ،۔۔۔ آپ خالق و خدا و رسول و صحابہ و والدین و بہن بھائ ، رشتے تعلقات و ہمسائے و دوست ،۔۔

یہ بھی پڑھیں:   جنون اور عشق سے ملتی ہے آزادی - رمشاجاوید

پیار محبت و الفت و اتحاد و اتفاق و یگانگت و صلہ رحمی و شفقت و مہربانی و عزت و تکریم و احترام و عفت و عصمت و پاکیزگی و طہارت و نفاست و زکاوت و شرافت و بزرگی و سادگی و سکون و امن و سلامتی و راحتیں و شفائیں و تندرستی و صحت و مضبوطی و طاقت و بشاشت و چُستی و حیا و شرم و خیال و ہمدردی و فکر و توجہ و اخلاقیات و اقدار و صبر و شکر و تحمل و برداشت و آرام و اطمینان ،۔۔۔۔۔ سب کچھ کھو دیں ۔۔۔۔!! جب ہر کوئی بے تحاشہ خواب لئے اڑنے لگے ،۔۔۔۔تو وہ ہر انسان کے ہاتھ سے نکل جاتا ہے ۔۔۔۔! چیزوں میں جیتا ہے ، چیزیں چاہتا ہے ، چیزوں کا حصول مقصدِ حیات ہوتا ہے ،۔۔۔! تب ریاست کیلئے سب لوگ کے سب خوابوں کو عملی جامہ پہنانا مشکل ہی نہیں ،۔۔۔ ناممکن ہوجاتا ہے !
جس کا لازمی اور آخری نتیجہ جرائم و برائیوں و بیماریوں و آلودگیوں کی صورت میں سامنے آتا ہے ! کیونکہ ہر کسی کو ہر دوسرے کی آزادی اور اُس کے خوابوں سے ہر وقت خطرہ رہتا ہے ! چنانچہ ریاست ڈھیر سارے قوانین بنا کر کہتی ہے ؛ اس دائرے میں رہ کر اپنی آزادی ایکسر سائز کرو ! یہ وجہ ہے کہ... سب سے زیادہ قوانین ''آزاد'' معاشروں میں پائے جاتے ہیں ! بات پھر وہی ؛ کہ ایک دائرے کے اندر ہی رہنا ہے آپ نے ،۔۔۔۔ سوال بس یہ ہے کہ.. آپ خالق کے کھینچے ہوئے دائرے میں رہنا چاہیں گے ،۔۔۔۔ یا مخلوق کے ۔۔۔۔۔؟؟؟ غلام اور بندے تو آپ ہیں ہی ۔۔۔۔!

ٹیگز