سیاسی طورپر زندہ المیے- ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

مرشدو محبوب مجید نظامی کی طرف سے محترمہ فاطمہ جناح کو مادر ملت کا خطاب دیا گیا۔ اس کا کریڈٹ مادر ملت‘ مجید نظامی اور سب لوگوں کو جاتا ہے۔ قائداعظم کو ہم بابائے قوم کہتے ہیں۔ ان کی بہن کو مادر ملت ہی کہنا چاہئے۔

صدر جنرل ایوب کو مادر ملت کے حق میں انتخابات سے دستبردار ہو جانا چاہتے تھا۔ اگر مادر ملت صدر پاکستان بن گئی ہوتیںتو پاکستان کی تاریخ مختلف اور ممتاز ہوتی۔ قائداعظم کی بہن بھی بھارت سے مسئلہ کشمیر کا حل کروا سکتی تھی۔ پھر مشرقی پاکستان کبھی بنگلہ دیش نہ بنتا اور پاکستان نہ ٹوٹتا۔ اس عالمی سازش میں بھٹو صاحب اور جنرل یحییٰ دونوں شامل تھے۔ پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت۔ دونوں اس سانحے اور المیے کی ذمہ دار ہیں۔

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان بیمار ہو گئیں۔ ان کے گلے اور دانت میں درد ہوا تو انہوں نے اینٹی بائیٹک دوائی اپنے آپ لے لی۔ میں بھی ایسے ہی کرتا ہوں۔ اینٹی بائیٹک کے استعمال میں احتیاط کرنا چاہئے اور ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہئے مگر ہم سیلف میڈیکیشن کے بہت عادی ہیں جبکہ یورپ میں نسخے کے بغیر کوئی دوا میڈیکل سٹورسے نہیں ملتی۔ صرف پینا ڈول اور اس طرح کی معمولی دوائیں مل جاتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم تھوک کے حساب سے (پینا ڈول) کھانا شروع کر دیں۔

فردوس عاشق اعوان تو خود ڈاکٹر ہیں ۔ ایک ڈاکٹر کو تو خاص طورپر اپنے لئے کسی اچھے ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہئے۔ ہر ڈاکٹر خود اپنے آپ کو بہت بڑا ڈاکٹر سمجھتا ہے۔ اب ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان احتیاط کریں۔ سیاست میں سیلف پریکٹس کیلئے احتیاط کرنا چاہئے۔ وزیراعظم عمران خان نے خاص طورپر ان کی عیادت کا پیغام بھجوایا ہے اور نہیں گلدستہ بھی بھجوایا ہے۔ وہ ایک اہم سیاسیدان ہیں اور وفاقی کابینہ میں معاون خصوصی کے منصب پر فائز ہیں۔ ان کے متحرک ہونے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ منصب وفاقی وزیر کے برابر ہے مگر شرط یہ ہے کہ معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان ہوں۔

٭٭٭٭

مسلم لیگ (ن) والے عمران خان کو عمران نیازی کہتے ہیں جبکہ انہوں نے اپنے نام کے ساتھ کبھی نیازی نہ کہا نہ لکھا۔ اس طرح (ن) لیگی شاید جنرل نیازی کی یاد کسی دل میں آباد کرنا چاہتے ہیں۔ نیازی اور بھی ہیں اور انہوں نے قومی اور عالمی ادبی اور سیاسی سطح پر کوئی کردار بھی ادا کیا ہے۔ بہرحال عمران خان تو نیازی قبیلے کے ایک قابل فخر اور قابل ذکر سپوت ہیں۔

یہ بات بہادر اور سچے سیاستدان ڈاکٹر بابر اعوان نے عمران خان سے کی ہے کہ چار پانچ نیازی یاد رکھے جانے والے آدمی ہیں۔ مجاہد ملت مولانا عبدالستار خان نیازی بہت بڑے شاعر‘ شاعری کے خان اعظم منیر نیازی‘ معروف عالم دین ماہر خطیب سابق وفاقی وزیر کوثر نیازی اور ستارۂ امتیازحاصل کرنے والے دانشور کالم نگار اور شاعر ڈاکٹر محمد اجمل نیازی اور پانچویں ایک بڑے نیازی آپ خود ہیں۔ عمران خان پوری نیازی قوم کے لئے وجۂ افتخار ہیں۔ ڈاکٹر بابر اعوان نے باقاعدہ تحریک انصاف جائن کر لی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان قوم کے لیے ایک نجات دہندہ کا کردار ادا کریں گے۔

٭٭٭٭

مولانا فضل الرحمن نے نیب کا محکمہ ختم کرنے کا مشورہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں کو دیا تھا۔ اب یہ سیاستدان اور حکمران نیب کو ختم نہ کرنے کے نتائج بھگت رہے ہیں۔ نیب کا محکمہ سیاستدانوں کی کرپشن کے مقدمات کے حوالے سے بنایا گیا تھا۔ جنرل مشرف کو سیاستدانوں کو نکیل ڈالنے کے لیے نیب کا محکمہ بنانے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ تقریباً ہر سیاستدان کے خلاف نیب کا کوئی نہ کوئی مقدمہ ہے۔ کچھ تو سزا بھی پا چکے ہیں۔

حضرت مولانا چاہتے ہیں کہ بے شک سیاستدان کرپشن کے انبار لگا دیں۔ وہ جو چاہیں کرتے رہیں۔ کوئی انہیں پوچھنے والا نہ ہو۔ انہیں کوئی روک ٹوک نہ ہو۔ انہیں کچھ نہ کہا جائے۔ کیا حضرت مولانا چاہتے ہیں کہ لوٹی ہوئی ان کی دولت کا وہ حال نہ ہو جو انہوں نے قومی سرمائے سے کیا ہے اور کر رہے ہیں۔

آجکل چیئرمین نیب کو ہٹانے کے لیے اپوزیشن بڑا زور لگا رہی ہے۔ ا پوزیشن کو اپنی پوزیشن بنانے کے لیے کوئی کام نظر نہیں آ رہا ہے۔ بڑی مدت سے وہ سینٹ کو اس کام کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ اسی زور شور میں صادق سنجرانی کو چیئرمین سینٹ کی حیثیت سے لایا گیا۔ اب اسی زور شور سے انہیں ہٹایا جا رہا ہے۔ اپوزیشن اس کام کو اپنا کوئی کارنامہ سمجھتی ہے۔ میں پوچھتا ہوں کہ اگر سنجرانی صاحب کو ہٹا دیا گیا تو کیا ہو جائے گا نئے چیئرمین سے اپوزیشن والے کیا حاصل کر لیں گے جس سے صادق سنجرانی نے انہیں روک رکھا ہے۔

میں نے شہباز شریف کو اتنا مجبور بے بس کبھی نہیں دیکھا جو مریم نواز کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھے تھے۔ وہ پریس کانفرنس کر رہی تھیں اور پوری محفل میں دو چار آدمی مریم کی باتیں ایسے سُن رہے تھے جیسے نہیں سُن رہے تھے ۔

اب ثابت ہو گیا ہے کہ وزیر اعظم مریم نواز ہونگی بلکہ وہ ابھی سے اپنے آپ کو وزیر اعظم سمجھنے لگی ہیں۔ نواز شریف بھی یہی چاہتے ہیں مگر میرے خیال میں اصل مقابلہ تو حمزہ شہباز اور مریم نواز کا ہو گا۔ شہباز شریف نے تو حمزہ کو پنجاب میں قائد حزب اختلاف بنایا اور خود کو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بنا لیا۔ یعنی وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز اور وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف، انہوں نے پلاننگ تو یہ کی تھی کہ نواز شریف فیملی کی سیاست ختم ؟ وہ مریم نواز کو کیوں بھول گئے تھے۔ اب مریم خود کو خودبخود یاد کرانے کے لیے میدان میں آ گئی ہیں۔
ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ مادر ملت اور بے نظیر بھٹو کے بعد تیسری خاتون سیاست میں مریم نواز ہیں مگر ان کا موازنہ کسی سے نہیں ہو سکتا۔ وہ وزیر اعظم بن سکتی ہیں مگر…؟