عمران خان کا نیا احسان- خورشید ندیم

نئی نسل پر عمران خان کے احسانات ختم ہونے کو نہیں آ رہے۔ یہ احسان بھی کچھ کم نہیں تھا کہ انہوں نے نوخیز ذہنوں کو ایک نئے سیاسی کلچر سے متعارف کرایا۔ وہ کلچر جس کے مظاہر اسلام آباد کے ڈی چوک سے سوشل میڈیا تک، ہمارے چاروں طرف بکھرے ہوئے ہیں۔ لوگوں کی زبانوں اور قلم سے جس طرح کے پھول جھڑ رہے ہیں، ان کی مہک سے، اب تو سارا سماج معطر ہے۔ اس قوم کے نوجوان بیٹے اور بیٹیاں جس لب و لہجے میں کلام کرتے ہیں، وہ عمران خان صاحب کے لیے صدقہ جاریہ ہے۔
صرف یہی احسان ایسا ہے کہ قوم برسوں تشکر کے احساس تلے دبی رہے گی۔ جو سیاسی فضا اس کلچر نے بنا دی ہے، ہم کئی سال اس کا ثمر سمیٹیں گے۔ فصل اترنا شروع ہو چکی۔ 'ابھی تو تلخیٔ کام و دہن کی آزمائش ہے‘۔ خان صاحب نے لیکن اس احسان پر اکتفا نہیں کیا۔

ان کے لطف و کرم کا سلسلہ جاری ہے۔ وہ اب ایک قدم مزید آگے بڑھے ہیں۔ انہوں نے نئی نسل کو ان سیاسی تصورات اور الفاظ سے متعارف کرانے کا بھی فیصلہ کیا ہے جو کبھی یہاں کا روزمرہ تھے مگر اب متروک ہو چکے۔ وہ ہماری عظمتِ رفتہ کو آواز دے رہے ہیں۔
مثال کے طور پر ایک اصطلاح ہے 'سیاسی قیدی‘۔ ایک دور میں یہ الفاظ ہماری سیاسی لغت کا حصہ تھے۔ ہر کوئی ان سے واقف تھا۔ آئے دن حکومتیںسیاسی مخالفین پر مقدمات قائم کرتیں اور عوام کو معلوم ہوتا کہ ان مقدمات کی وجہ وہ جرم نہیں جو ایف آئی آر میں لکھا ہے۔ اصل جرم حکومت کی مخالفت ہے۔ جیسے چوہدری ظہور الٰہی مرحوم کے خلاف مقدمہ۔ اب جو 2000ء یا 1999ء میں پیدا ہوا، اس اٹھارہ سالہ ووٹر کی بلا جانے کہ چوہدری ظہور الٰہی کون تھے اور ان کے خلاف کیا مقدمہ قائم ہوا، کس نے کیا اور کیوں کیا تھا؟ نئی نسل آج کے اخبارات میں پڑھ رہی ہے کہ 1970ء کی دہائی میں، جب بھٹو صاحب کی حکومت تھی، چوہدری صاحب پر بھینس چوری کا مقدمہ قائم ہوا تھا۔

اگر رانا ثنااللہ پر مقدمہ نہ بنتا اور میڈیا میں ایک شور برپا نہ ہوتا تو نئی نسل کیسے اس اصطلاح سے باخبر ہوتی؟ کیا یہ خان صاحب کا احسان نہیں کہ انہوں نے سیاسی تاریخ کو ایک بار پھر زندہ کر دیا؟
2007ء کے بعد ہمارے ہاںجو سیاسی لغت مرتب ہوئی، اس میں 'سیاسی قیدی‘ کی اصطلاح موجود نہیں۔ گزشتہ بارہ سال میں شاید کوئی ایک ایسا مقدمہ قائم نہیں ہوا جسے سیاسی کہا جائے۔ کوئی ایک ایسی گرفتاری نہیں ہوئی، جسے سیاسی قرار دیا جائے۔ میری یادداشت میں نہیں کہ پیپلز پارٹی کے دور میں کسی سیاسی مخالف پر کوئی مقدمہ قائم ہوا ہو۔ نون لیگ کے عہدِ اقتدار میں البتہ بعض مقدمات بنے جن کے بارے میں پیپلز پارٹی کو شکایت ہے کہ ان کی بنیاد سیاسی تھی؛ تاہم نون لیگ اب اُن سے اظہارِ برات کرتی اور اس کا انتساب کسی دوسرے مرکزِ اقتدار کے نام کرتی ہے۔

ایک اور تصور 'آزادیٔ رائے پر پابندی‘ ہے۔ نئی نسل دس بارہ سال سے جس ٹی وی سکرین سے واقف ہے، وہ فری سٹائل ریسلنگ کا ایک میدان ہے جس پر کھیل کے کسی قانون کا اطلاق نہیں ہوتا۔ آپ چاہیں تو زبان ہلائیں اور اللہ ہمت دے تو ہاتھ چلائیں۔ نہ کہنے پر پابندی‘ نہ کرنے پر۔ دھرنے میں اس نسل نے دیکھا کہ بجلی کے بل جلائے جا رہے ہیں۔ ٹیکس ادا نہ کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ پارلیمنٹ کو چوروں کا مرکز بتایا جا رہا ہے۔ الیکٹڈ وزیر اعظم کے بارے میں کوئی جو چاہے کہہ سکتا ہے۔ اب 'آزادیٔ رائے پر پابندی‘ کس چڑیا کا نام ہے، نئی نسل کو تو معلوم نہیں تھا۔
یہی نہیں، اس نسل نے اس سے پہلے پیپلز پارٹی کا دور دیکھا۔ ایک صاحب ہر روز ٹی وی پر صدر زرداری کی رخصتی کی خبر دیتے تھے۔ ہر رات ان کی روانگی کی ایک نئی تاریخ کا اعلان ہوتا۔ جب وہ گزر جاتی تو پھر نئی تاریخ۔ یہ دلچسپ سیریز عرصہ دراز تک چلتی رہی۔ اس پر ایوانِ صدر حرکت میں آیا نہ پولیس۔ کوئی مقدمہ قائم ہوا نہ کبھی کسی گاڑی نے محترم اینکر کا پیچھا کیا۔ زرداری صاحب نے ایوانِ صدارت میں پانچ سال پورے کئے اور اینکر صاحب نے اُس چینل پر ہر دباؤ سے آزاد، قومی مفاد میں اپنا 'اخلاقی فریضہ‘ سر انجام دیا۔

نئی نسل کو آج بتایا جا رہا ہے کہ میڈیا کو یہ آزادی نہیں دی جا سکتی کہ وہ چوروں، قومی مجرموں یا ملزموں کے بیانات نشر کرے۔ اس کے علم میں یہ اضافہ بھی کیا جا رہا ہے کہ کون مجرم ہے، کون چور ہے، اس کا فیصلہ حکومت کرتی ہے، کوئی اور نہیں۔ نئی نسل کو یہ پتا تھا کہ' لائیو نشریات‘ سے مراد یہ ہے کہ دھرنے کو ایک سو چھبیس دن تک مسلسل اور بغیر کسی انقطاع کے چلایا جائے۔ قوم کو معلوم ہونا چاہیے کہ کب خان صاحب نے ورزش کی۔ کب ناشتا کیا۔ رات ان کے کھانے میں کیا تھا۔ خطابِ نیم شب میں کیا فرمایا۔ دھرنے میں کون سا گانا ہٹ رہا۔
نئی نسل تو یہ جانتی تھی کہ اس معاملے سے حکومت کو کچھ لینا دینا نہیں۔ چینل آزاد ہیں‘ وہ جو چاہیں دکھائیں۔ اب اسے بتایا جا رہا ہے کہ جو سہولت خان صاحب کو حاصل تھی، وہ ہر کسی کو نہیں دی جا سکتی۔ خان صاحب اور دوسرے لوگ ایک تو نہیں ہو سکتے۔ کہاں قوم کا نجات دھندہ اور کہاں چور ڈاکو۔ اب چونکہ خان صاحب حکومت میں آ چکے، اس لیے یہ حکومت طے کرے گی کہ کسے لائیو جانے کی اجازت دی جائے اور کسے نہیں۔ کس کی پریس کانفرنس قومی مفاد میں ہے اور کس کا جلسہ لائیو دکھانا عوامی مفاد میں نہیں۔

خان صاحب نے تاریخ کو زندہ کر دیا ہے۔ نئی نسل اب جان گئی ہے کہ سیاسی لغت میں ایک لفظ 'سیاسی قیدی‘ بھی ہوتا ہے۔ حکومت قومی مفاد میں کسی کو بھی گرفتار کر سکتی ہے۔ یہ اب اس کی صوابدید ہے کہ وہ اس پر کون سا مقدمہ قائم کرتی ہے۔ بھینس چوری کا یا منشیات فروشی کا؟ اسی طرح آزادیٔ رائے پر پابندی بھی عائد کی جا سکتی ہے۔ یہ فیصلہ حکومت کو کرنا ہے کہ کس کو بولنے کی اجازت ہونی چاہیے اور کس کو نہیں۔
نئی نسل ابھی رومانوی فضا میں زندہ ہے۔ اِس مرحلے پر وہ سوال نہیں اٹھا سکتی۔ مثال کے طور پر وہ یہ نہیں پوچھ سکتی کہ دوسروں کی حکومت ہو تو چوبیس گھنٹے، آپ کے دھرنے کی لائیو نشریات، آپ کا جمہوری حق ہے، لیکن آپ کی حکومت میں دوسروں کی ایک گھنٹے کی پریس کانفرنس کیوں لائیو نہیں دکھائی جا سکتی؟ نئی نسل کو یہ سوال اٹھانے کے لیے ابھی کچھ اور بڑا ہونا ہے۔ چند سال اور۔ اُس وقت تک عمران خان صاحب کا دورِ اقتدار ختم ہو چکا ہو گا۔

وہ وقت آنے تک، جب نئی نسل سوال اٹھائے، ضروری ہے کہ ملک میں ہیجان کی فضا قائم رہے۔ 'چور چور‘ کا شور اس کے لیے بہترین حکمتِ عملی ہے۔ اس سلسلے کو دراز کرنا مشکل نہیں۔ آج غیر ملکی اسفار کا معاملہ اٹھ گیا ہے۔ کل کوئی اور اٹھ جائے گا۔ نئی نسل کو اس میں مبتلا رکھنا کون سا مشکل ہے۔ رہی بے روزگاری، تعلیمی وظائف کا خاتمہ‘ بڑھتی غربت، تو نئی نسل کو ان کا ادراک کرنے میں وقت لگے گا۔ ابھی وہ نہیں جان سکتی کہ جس معاشرے میں آزادیٔ رائے نہ ہو، وہ معاشرہ ذہنی اور اخلاقی اعتبار سے بانجھ ہو جاتا ہے۔ اُس وقت کے بارے میں شاعر کہہ گیا ہے کہ 'کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک‘۔
احسان کا معاملہ مگر یہ ہے کہ لوگ اخلاقی طور پر بے حس نہ ہو جائیں تو اسے یاد رکھتے ہیں۔ مجھے گمان ہوتا ہے کہ نئی نسل جب بڑی ہو جائے گی اور اسے آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہونے لگے گا، تب عمران خان تو شاید بھول جائیں، اس نسل کو یہ احساس رہ رہ کے یاد آئے گا۔

تم تو غم دے کے بھول جاتے ہو
مجھ کو احساں کا پاس رہتا ہے