مادر ملت کی یاد میں ۔پاکستان کی تلاش میں- سجاد میر

9جولائی کا دن آپ کو یاد ہے۔ کہاں یاد ہو گا۔ اس دن میں مادر ملت پر کالم لکھنا چاہتا تھا۔کون مادر ملت ؟ہو سکتا ہیںکوئی مجھ سے یہ بھی پوچھ لے۔ ہماری جو شہرہ آفاق یونیورسٹیاں ہیںان میں تعلیم دینے کی سعادت مجھے حاصل ہوئی ہے۔ ایک بار پرچہ امتحان تیار کر کے میں نے ایک استادکے سپرد کیا کہ وہ اس کے مختلف پرنٹ تیار کرا سکے۔ اس نے مجھے سکتے میں ڈال دیا جب فون پر یہ استفسار کیا کہ یہاں آپ نے کسی شہید سہروردی کا ذکر کیا ہے یہ کون ہیں۔ شاید چار شخصیات پر نوٹ لکھنے کا کوئی سوال تھا۔ اس میں پاکستان کے سابق وزیر اعظم حسین شہید سہروردی بھی شامل تھے۔ اس دن مجھے اتنا صدمہ پہنچا کہ میں نے طے کر لیا کہ آئندہ یونیورسٹیوں میں لیکچر دینے کی زحمت نہیں کروں گا۔ میں نے احتیاطاًایک آدھ دوسری کلاس سے بھی سوال کئے۔ مثال کے طور پر چودھری محمد علی کا نام تک کوئی نہیں جانتا تھا‘ نہ ملک غلام محمد کا۔ پھر سوچا یہ تو اصلی اور متحدہ پاکستان کے لوگ ہیں۔ آج کے نئے پاکستان کے بارے میں پوچھ لوں ‘ بڑی شرمندگی ہوئی۔ ہمارے ٹی وی چینلوں پر اکثر اوقات اداکارائیں یا ماڈلیں وغیرہ مدعو ہوتی ہیں اور ان سے بڑے آسان سے سوال پوچھے جاتے ہیں۔ مثلاً پاکستان کے صدر کون ہیں یا اسی نوعیت کے سامنے کے سوال۔ ان کا جواب نہ دینا تو بہرحال سمجھ میں آتا ہے مگر ایک یونیورسٹی کے طلباء حتیٰ کہ اساتذہ کا اپنی تاریخ سے اس طرح نابلد ہونا سخت دکھی کر جاتا ہے۔ جملہ معترضہ بہت طویل ہو گیا۔ کہہ میں یہ رہا تھا کہ 9جولائی کو مادر ملت پر لکھنا چاہتا تھا۔

یاد ہے یہ کون ہیں؟ میرے خیال میں پاکستان کی تاریخ ان کے تذکرے کے بغیر مکمل ہی نہیں ہو سکتی۔ وہ پاکستان بنانے میں وہ اپنے بھائی محمد علی جناح کے شانہ بشانہ کھڑی رہیں۔ محمد علی جناح جنہیں ہم قائد اعظم کہتے ہیں اور جو بانی پاکستان کہلاتے ہیں۔ یہ میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ مباداہم انہیں بھی بھول گئے ہوں۔ قائد اعظم سے منسوب ایک فقرہ ہے جس کے درست اور غلط ہونے کے بارے میں تو برادرم محترم ڈاکٹر صفدر محمود ہی بتا سکتے ہیں‘ مگر ہے بہت مشہور ۔ قائد اعظم نے کہیں کہا تھا یہ پاکستان بنانے میں دو چیزوں کا بہت اہم کردار ہے۔ ایک میرا ٹائپ رائٹر اور دوسرا مری بہن فاطمہ جناح۔ فاطمہ جناح کو ہم مادر ملت کہتے تھے اور کہتے ہیں۔ پھر مجھے یہ کالم لکھنے میں ذرا انقباض اس لئے ہوا کہ ان دنوں مریم نواز شریف کے چرچے ہیں۔ ڈر تھا کہ کہیں یہ کہانی نہ گھڑی جائے کہ میں مریم نواز کو مادر ملت سے ملانا چاہتا ہوں۔( میں نے کہیں کوئی مضمون دیکھا ہے جس میں مادر ملت‘ بے نظیر اور مریم نواز کا ذکر ایک ہی صف میں کیا گیا۔ شاید درمیان میں عاصمہ جہانگیر کو بھی ٹھونس دیا تھا) اس پر میں فی الحال لاحول پڑھنے پر اکتفا کرتا ہوں۔ دو ٹوک بات پھر کبھی کروں گا۔ اب مغرب ہمیں بتائے گا کہ ہمارے مشاہیر میں کسے شامل کیا جائے اور کسے نکالا جائے۔

بہرحال میں مادر ملت کا ذکر کرنا چاہتا تھا جن کا انتقال9جولائی کو ہوا تھا۔ ایک زمانہ تھا جب ہر سال اس دن اخبارات بڑی دھوم دھام سے مادر ملت پر خصوصی نمبر چھاپتے تھے۔ اب شاید کسی کسی نے رواداری میں بس تذکرہ کیا ہے۔ پاکستان میں جمہوریت کی بحث بہت زوروں پر چلتی ہے۔ مگر ہم نہیں جانتے کہ اس میں مادر ملت کس فیصلہ کس معرکے کی یاد دلاتی ہیں۔یہ جو حبیب جالب کی نظمیں ہم گنگنایا کرتے ہیں‘ یہ دراصل اسی زمانے کی یادگار ہیں۔ ایوب خاں کی آمریت کا سورج اپنے نصف النہار پرتھا۔ اس نے بنیادی جمہوریتوں کی نظام کی داغ بیل ڈالی اور ہمارے بڑے بڑے دانشوروں نے اس کی مدح میں مضمون باندھے۔ جہاں تک مجھے یاد ہے ان میں قدرت اللہ شہاب‘ اشفاق احمد‘ جمیل الدین عالی‘ مولوی عبدالحق‘ ابن انشا‘ اور جانے کیا کیا نام تھے۔ ہم وہ کتابچہ بڑے ذوق و شوق سے پڑھا کرتے تھے جو ان لوگوں کے مضامین سے مزین تھا۔ اس بنیادی جمہوریت نے مغربی پاکستان سے 40ہزار اور مشرقی پاکستان سے بھی40ہزار افراد کا انتخاب کرنا تھا۔ یادیش بخیر یہ مشرقی پاکستان وہی ہے جو اب بنگلہ دیش کہلاتا ہے اور مغربی پاکستان اب ہمارا بچا کھچا‘ باقی ماندہ ’’نیا پاکستان‘‘ ہے۔ بھٹو نے اسے یہی نام دیا تھا۔

طے یہ ہوا تھا کہ یہ 40+40ہزار افراد پاکستان کے صدر کا انتخاب کریں گے۔ یہ بات اس دستور میں طے گئی تھی جس کا اعلان یوں ہوا تھا کہ میں فیلڈ مارشل ایوب خاں قوم کو یہ آئین دیتا ہوں۔ وگرنہ منتخب نمائندوں نے جو پاکستان کی اولین دستوریہ کے ارکان تھے۔56میں قوم کو ایک متفقہ دستور دے دیا تھا۔ یہ پاکستان کا اصلی اور بنیادی دستور تھا جسے قوم نے متفقہ طور پر پاس کیا تھا اور ایوب خاں نے مارشل لاء کے سائے میں اسے منسوخ کر دیا تھا۔ الیکشن کا زمانہ آیا تو سوال پیدا ہوا کہ ایوب خاں کا مقابلہ کون کرے۔ خواجہ ناظم الدین کا نام آیا جو قائد اعظم کے بعد پاکستان کے دوسرے گورنرجنرل اور لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد پاکستان کے دوسرے وزیر اعظم بنے تھے۔ مگر ان پر تو شاید پابندی لگی ہوئی تھی۔ ساری قیادت نے فیصلہ کیا کہ قائد اعظم کی بہن محترمہ فاطمہ جناح سے درخواست کی جائے۔ اس قیادت میں سبھی شامل تھے۔ سید مودودی‘ نوابزادہ نصراللہ خاں‘ چودھری محمد علی‘ خواجہ ناظم الدین‘ سبھی شامل تھے۔

فاطمہ جناح نے یہ درخواست قبول کر لی۔ پورے ملک میں انتخابات کا طبل بج گیا۔ یہ جو حبیب جالب کی نظمیں ہم لہک لہک کر پڑھتے ہیں‘ اسی زمانے کی یادگار ہیں بچوں یہ چلی گولی ماں دیکھ کے یہ بولی یہ دل کے مرے ٹکڑے یوں روئے مرے ہوتے میں دور کھڑی دیکھوں یہ مجھ سے نہیں ہو گا اس نے کہا نادانوں انگریز کے دربانو اس ظلم سے باز آئو بیرک میں چلے جائو کیوں چند لٹیروں کی پھرتے ہوئے ٹولی ماں دیکھ کے یہ بولی بچوں پہ چلی گولی بیس روپے من آٹا‘ اس پر بھی ہے سناٹا سہگل‘ گوہر‘ آدم جی بنتے ہیں برلا اور ٹاٹا صدر ایوب زندہ باد شمع نوائے اہل سخت کالے باغ نے گل کر دی پھر میں نہیں مانتا‘ ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا اسی دور نے حبیب جالب کو حبیب جالب بنایا‘وگرنہ وہ اس سے پہلے محبت کے نغمے لکھنے والے کسی شاعر کی طرح کا ایک شاعر تھا۔ ذاتی طور پر میری اس زمانے سے بہت سی یادیں وابستہ ہیں۔ ہم گائوں گائوں قریے قریے شہر شہر جا کر یہ نظمیں پڑھتے اور لوگوں کو ایوب خاں کے خطاب مادر ملت کو ووٹ دینے کی ترغیب دیتے۔ اس زمانے کی آمرانہ قیادت نے مادر ملت پر کیا کیا الزام نہیں لگائے۔

انہیں بھارت کا ایجنٹ کہا‘ غدار کہا۔مادر ملت کے ان مخالفوں میں کون کون شامل تھا اور تو اور ایوب خاں کو ڈیڈی کہنے والے بھٹو اس میں پیش پیش تھے۔ کچھ لوگ پہلے ہی نااہل قرار پا چکے تھے۔ پاکستان بننے کے فوراً بعد سے یہ سلسلہ چل رہا ہے۔ احتساب کے نام پر کس کو کرپٹ نہیں کہا گیا‘ کون غدار نہیں ٹھہرایا گیا۔ اگر آپ مادر ملت کو غدار کہہ سکتے ہیں تو باقیوں کا تو اللہ حافظ ہے۔ مادر ملت ڈٹی رہیں حتیٰ کہ 65ء کی جنگ میں بھی وہ کچھ نہ بولیں انہوں نے ایوب کا ساتھ نہ دیا حتیٰ کہ معاہدہ تاشقند پر قوری قوم اس آمر کا ساتھ چھوڑ گئی اور اس مخالفت کے پھل سے بھٹو نے جھولیاں بھریں۔ پھریحییٰ خاں آیا اور ملک ٹوٹ گیا۔ ہم نے ملک ٹوٹنے کی یہ داستان اپنے نصاب سے نکال رکھی ہے۔ مشرقی پاکستان اور کراچی پر اس کے بعد کیا بیتی ۔یہ سب تاریخ کا حصہ ہے۔ کراچی بھی مادر ملت کے ساتھ تھا۔ ہم نے بڑے جبر سے ایوب خاں کو جتوایا اور اس دن پاکستان ہار گیا۔ مرا پاکستان اس دن سے جانے کہاں چلا گیا اور میں اس کی تلاش میں ہوں۔