تبدیلی کارنامہ، ڈاکٹر یاسمین راشد نے اپنی این جی اوز کو گرانٹ جاری کر دی

وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے اپنی این جی اوز کو گرانٹ جاری کر دی۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے اپنی ہی بنائی این جی اوز کو لاکھوں روپے کی گرانٹ جاری کر دی ہے۔ جبکہ سرکاری خزانے کے بے دریغ استعمال کی دستاویزات بھی سامنے آ گئی ہیں۔ بجٹ دستاویزات نے صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کی طرف سے اپنی وزارت کو اپنے ہی فائدے کے لیے استعمال کرنے کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔

میڈیا کے پاس دستیاب دستاویز کے مطابق صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے ''تھیلیسمیا سوسائٹی آف پاکستان'' اور ''الزائمر سوسائٹی آف پاکستان'' کے لیے لاکھوں روپے گرانٹ تجویز کی۔ تھیلیسیمیا سوسائٹی آف پاکستان کے لیے 70 لاکھ روپے کی گرانٹ 20-2019ء کے مالی سال کے لیے رکھی۔ تھیلسیمیا سوسائٹی آف پاکستان کو گذشتہ مالی سال یعنی 19-2018ء میں بھی 70 لاکھ روپے ملے ۔

الزائمرسوسائٹی آف پاکستان کے لیے بھی 5 لاکھ روپے 19-2018ء میں رکھے گئے تھے۔ واضح رہے کہ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد ان سوسائٹیز کی پیٹرن ان چیف ہیں۔ جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی رہنما عندلیب عباس 70 لاکھ گرانٹ حاصل کرنے والی سوسائٹی کی وائس پریذیڈنٹ ہیں۔ جبکہ میڈیا رپورٹ کے مطابق تھیلیسیمیا سوسائٹی آف پاکستان اور الزائمرزسوسائٹی آف پاکستان کے دفاتر یاسمین راشد کے ذاتی کلینک کے پتے پر رجسٹرڈ ہیں۔

دونوں این جی اوز کے دفاتر شادمان لاہور میں جیل روڈ پر واقع یاسمین راشد کےکلینک کے اندر ہی قائم ہیں۔ اس حوالے سے نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ سوسائیٹیز کے دفاتر وزارت ملنے سے پہلے ہی میرے کلینک کے پتے پر رجسٹرڈ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں بھی تھیلیمسیا سوسائٹی کو گرانٹ ملتی رہی ہے۔

وزارت ملنے کے بعد میرا عملی طور پر دونوں این جی اوز کے کاموں میں عمل دخل نہیں ہے۔ صوبائی وزیر صحت ہونے کے باوجود ڈاکٹر یاسمین راشد کی این جی اوز کو گرانٹ جاری ہونے کے معاملے پر سیاسی مبصرین نے بھی تنقید کی ہے اورکہا ہے کہ موجودہ حکومت نے بھی گذشتہ حکومتوں جیسا وطیرہ اپنا لیا ہے اور قومی خزانے کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔