اپنے پاؤں پر کلہاڑی مت ماریئے - سائرہ نعیم

ہمارے پاس موجود دو عدد پاؤں اللہ سبحان تعالی’ کی ایک بہت بڑی نعمت ہیں۔ یہ ہمارے پیروں کا ہم پر احسان ہے کہ وہ پورے جسم کا بوجھ اٹھاتے ہیں اس لئے ان کی حفاظت کرنا نہ صرف ہمارا فرض ہے بلکہ بہت سی بیماریوں اور تکالیف سے بچت کے لئے بھی ضروری ہے۔ اس کے لئے جوتے کا صحیح انتخاب کرنا نہایت اہم ہے۔ جوتے ہمیشہ آرام دہ ، جاذب نظر اور موسم کے مطابق ہونا چاہئیں تاکہ آپ کی چال ڈھال میں توازن رہے۔

جیسے لباس میں نت نئے فیشن ہوتے ہیں اسی طرح جوتوں بھی خوب سے خوب تر دستیاب ہیں ، ان جوتوں کا صحت سے کیا تعلق ہے اور جوتا خریدتے وقت کن باتوں کا دھیان رکھنا چاہئے آیئے معلوم کرتے ہیں۔
۱- اونچی سے اونچی ہیلز (الٹرا ہائی ہیلز) : اس قسم میں اسٹیلیٹوز (stilettos ) بھی شامل ہیں۔ امریکی میڈیکل ایسوسی ایشن فار فٹ کئیر ہلیری برینر کہتی ہیں ‘ بہت اونچی ہیل آپ کو جوتا کشی کی طرف لے جاتی ہیں’۔ اونچی اور پتلی ہیلیں پہننے سے ایڑیوں میں مستقل درد کے علاوہ موچ کا سبب بن سکتا ہے ۔ یہ موچ اندرونی بھی ہوتی ہے اور بیرونی بھی۔ لہذ’ا مناسب اونچائی استعمال کریں۔
۲- اونچی مگر موٹی ہیل (chunky heels) : اس قسم کی ہیل میں مناسب جگہ کی وجہ سے یہ پاؤں کے لئے نسبتا’’ بہتر ہوتی ہیں، ان جوتوں یا سینڈل میں جسم کا وزن بٹنے کی وجہ سے ایڑیوں پر حد سے زیادہ بوجھ نہیں پڑتا اور پیروں کی قدرتی بناوٹ انسانی وزن کو متوازن رکھتی ہے۔ لیکن بہت زیادہ استعمال سے پھر بھی گریز کرنا چاہیے۔
۳- ایڑی والے جوتے (pumps) :چاہے پتلی ہیل ہو یا چوڑی آگے سے بند یہ جوتے پیر کی ایڑیوں کے نچلے حصے میں مستقل رہنے والا درد چھوڑ دیتے ہیں۔ چونکہ نچلا حصہ جسم کا پورا وزن اٹھائے ہوئے ہوتا ہے تو پاؤں بھی ٹیڑھا ہونے کا خطرہ رہتا ہے ۔ کبھی کبھی جوتوں کے اندر پتلا فوم (ہیل پیڈ) رکھنے سے بھی آرام ہوتا ہے لیکن ایڑی کی ہڈی اگر ایک بار ٹیڑھی ہوگئی ہو تو اسی طرح رہتی ہے۔

۴۔ کم ہیل والے جوتے (flat pumps) : کم ہیل کے بند یا کھلے دونوں طرح کے جوتے آرام دہ ہوتے ہیں۔ اپنے پیروں کو ان کی قدرتی پوزیشن میں رکھنا بہت سے مسائل کو ختم کر دیتا ہے اور انسان ہشاش بشاش محسوس کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ۲ انچ یا اس سے کم ہیل آئیڈیل ہے۔
۵۔ سیدھی ایڑی (flat shoes) : یہ جوتے بظاہر آرام دہ لگتے ہیں اور عموماً لمبے قد والی خواتین کے زیر استعمال ہوتے ہیں ۔لیکن ہیلیری برینرکے مطابق ان میں کوئی خم (آرچ سپورٹ) نہ ہونے کی وجہ سے یہ گھٹنے، کولہے اور کمر درد کا مؤجب بن سکتا ہے۔ اسکا علاج آرتھوٹک انسرٹس ہیں ، ایک خاص قسم کا پلاسٹک پتاوا جو جوتے کے اندر رکھ کر پہننے سے جسم کے مذکورہ حصے متاثر نہیں ہوتے ۔
اللہ تعالی’ نے ہمارے پیروں کے نچلے حصے میں ٹشوز کا نیٹورک رکھا ہے جو کہ چلتے وقت سپرنگ کی طرح کام کرتے ہیں ۔ ننگے پیر چلنا پیروں کو حد سے زیادہ کھینچتا ہے جو اندرونی سوجن کا باعث بن جاتا ہے ، یہ صورتحال ایڑیوں میں شدید درد پیدا کرتی ہے۔
۶۔ دوپٹّی کے چپل (flip flops) : ایسے چپل عموماً سبھی استعمال میں ہوتے ہیں ۔ ان کو پہن کر موچ، پیر مڑنا یا پیروں میں رگڑ وغیرہ آسانی سے لگ سکتی ہے، خصوصا” ذیابیطس کے مریض کھلی چپل پہننے سے گریز کریں کیونکہ معمولی کٹ یا چوٹ بڑی بیماری یا مسئلے کی وجہ بن سکتے ہیں ۔

۷۔ بلاک ہیل کے چپل (fitted flops) : ایسی چپلیں جن کی مناسب آرچ ، چوڑی ہیل اور چوڑی پٹیاں ہوتی ہیں پیروں کے لئے بہت اچھی ہوتی ہیں۔ نہ صرف پیدل چلنے میں پاؤں کی حفاظت ہوتی ہے بلکہ زمین سے مناسب فاصلہ ۲انچ ہونے کی وجہ سے کمر، کولہے اور ایڑیوں کے لئے فائدہ مند ہے۔ اس قسم کے چپل یا جوتے باآسانی استعمال کئے جا سکتے ہیں۔
۸۔ خطرناک قسم : غلط سائز کے جوتے : کبھی کبھی فیشن سے متاثرہ خواتین و حضرات اپنے ناپ سے چھوٹے سائز کے جوتے ، چپل یا سینڈل پہن لیتے ہیں جو کہ ایڑیوں میں نیل پڑنے، پھنسی (کارنز) اور ہڈی ٹیڑھی ہونے کا سبب بنتے ہیں۔ متواتر کسے ہوئے (ٹائٹ) جوتے یا چپل پہننے سے جوڑوں میں مسلسل رگڑ لگتی رہتی ہے جو گھنٹیا کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ جوتے خریدتے وقت دکاندار سے اپنے اور اپنے بچوں کا صحیح ناپ (لمبائی ، چوڑائی) کھڑے پوزیشن میں شام کے وقت نپوانا چاہئے تاکہ صحیح ناپ کا جوتا خرید سکیں۔
ان تمام باتوں کو مدنظر رکھ کر اپنی ضرورت اور تقریبات کے مطابق جوتوں کا انتخاب کیجئے تاکہ آپ صحتمند رہیں اور خوش اور مطمئن نظر آئیں ۔