ترتیب زندگی - بشارت حمید

زندگی خوش اسلوبی سے بسر کرنے کیلئے زندگی میں ترتیب اور تنظیم کی ضرورت ہے۔ الل ٹپ اور لاابالی انداز سے زندگی گزر تو جاتی ہے لیکن ساتھ کئی پریشانیاں بھی لاتی ہے۔ لاپرواہ اور کھلنڈرے انداز سے معاملات کو ڈیل کرنے والے چھوٹے چھوٹے مسائل میں ہی الجھ کر رہ جاتے ہیں۔

لوگ سفر پر نکلتے ہیں موبائل فون ہر کسی کے پاس ہوتا ہے لیکن چارجر ساتھ نہیں رکھتے جب بیٹری ختم ہونے لگتی ہے تو دائیں بائیں چارجر تلاش کرنے لگ جاتے ہیں۔ بھئی جہاں فون ساتھ اٹھا رکھا ہے وہیں ساتھ چارجر بھی لے کر نکلو۔ موبائل نئے سے نیا ماڈل رکھیں گے لیکن کال کرنے کیلیے اس میں بیلنس نہیں ملےگا۔ یہاں تک کہ ہر وقت موبائل کمپنی کے دس پندرہ روپے کے مقروض ہی رہیں گے۔۔ بھائی موبائل رکھا ہے تو بیلنس کیوں نہیں ڈالتے۔۔ اگر استعمال زیادہ ہے تو زیادہ لوڈ کروا لو۔ اگر خدانخواستہ کوئی ایمرجنسی بن جائے اور کال کیلئے بیلنس نہ ہو تو ایسے موبائل فون کو آگ لگانی ہے پھر۔۔ میں موبائل کمپنی میں جاب سے قبل جب پری پیڈ فون استعمال کیا کرتا تھا تب کال سننے کے پیسے بھی کٹتے تھے۔ میں نے کم از کم 1000 روپے کی لمٹ سیٹ کر رکھی ہوتی تھی جب بھی بیلنس 1000 سے کم ہوتا تو فوری نیا کارڈ لے کر ری چارج کر لیا کرتا تھا۔ جاب پر آنے کے بعد تو پھر پوسٹ پیڈ فون مل گیا وہ بھی کمپنی کی طرف سے فری تھا۔ جاب چھوڑنے کے بعد بھی پوسٹ پیڈ نمبر ہی استعمال کر رہا ہوں اور الحمدللہ کبھی کسی کو مس کال نہیں کرتا اور نہ ہی کبھی فون بل پیمنٹ کی وجہ سے بلاک ہوا ہے۔

اگر کوئی سفر درپیش ہو تو کبھی خالی ہاتھ منہ اٹھا کر نہیں نکلا۔۔ ایک لسٹ بناتا ہوں جن جن چیزوں کی ضرورت سفر میں پڑ سکتی ہے ان میں ٹوتھ برش، ٹوتھ پیسٹ ، صابن ، پرفیوم ، پاور بنک ، فون چارجر، چھوٹا تولیہ ، ہیئر برش وغیرہ کے ساتھ ساتھ چھوٹا سا ہینڈ بیگ بھی ہوتا ہے جس میں کٹر نائف ، نیل کٹر، لپ بام ، ہینڈ فری ، عینک ، ڈیٹا کیبل اور اس طرح کی وہ معمولی چیزیں ہوتی ہیں جو سفر میں ضرورت پڑنے پر آسانی سے نہیں ملتیں۔ اپنی گاڑی کی ڈگی میں ٹول کٹ، چھوٹی فریج، ٹو چین، بیٹری کیبلز، آگ بھجانے والا سلنڈر، پانی کی بوتل، ٹائرز میں ہوا بھرنے والا پمپ، پریشر جیک اور اس قسم کی چھوٹی چھوٹی اشیاء مستقل طور پر رکھی ہوئی ہیں۔ ٹیوب لیس ٹائر اگر پنکچر بھی ہو جائے تو پمپ سے ہوا بھر کر قریبی پنکچر شاپ تک آسانی سے پہنچا جا سکتا ہے۔ شاید ہی کبھی ایسا ہوا ہو کہ جیک لگا کر ٹائر کھولنا پڑا ہو۔ یہ چند روٹین کی ایسی باتیں ہیں اگر اپنی استطاعت کے مطابق اپنا لی جائیں تو کافی سکون رہتا ہے۔ بجائے اس کے کہ ہر خرابی کے وقوع پذیر ہونے کے انتظار میں بیٹھ رہیں اور پھر بدحواس ہو کر مزید پریشان ہوا جائے زندگی کے معاملات میں احتیاطی تدابیر اپنا لینے سے انسان بڑی پریشانی سے کافی حد تک بچ سکتا ہے

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.